BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2004, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا معاملہ ختم ہو گیا ہے

قدیر خان
اگر پاکستان یہ سوچ رہا ہے کہ جوہری اسلحہ سے متعلق معلومات اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے الزامات کی چھان بین کرکے اور عوام کی جانب سے ملک کے جوہری سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے خفییہ جوہری راز بیرون ملک منتقل کرنے کے معاملے کو تسلیم کرلینے سے یہ تنازعہ ختم ہوگیا ہے۔۔۔تو ایسا ہرگز نہیں ہوا ہے۔

اندرون و بیرون ملک یہ سوالات اب تک پوچھے جارہے ہیں کہ آخر لیبیا، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو کس حد تک معلومات اور ٹیکنالوجی فراہم کی گئی ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اس سارے کھیل میں کون کون ملوث ہوسکتا ہے۔

حکومت کے اس دعویٰ پر سنگین شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام اور انتظامی ڈھانچے کے ملوث ہوئے بغیر ہی سائنسدانوں کی ایک قلیل سی تعداد نے اپنے طور پر ایسا کیا ہے۔

عام طور پر یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان کے سخت انتظامات و ماحول اور انتظامی ڈھانچے میں انفرادی طور پر فرد واحد کے لیے یہ ممکن ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی یا معلومات کسی تیسرے ملک کو منتقل کرسکے۔

صدر پرویز مشرف نے پاکستان کی خفیہ جوہری تنصیبات کے بارے میں پہلی بار لب کشائی اس لیے کی ہے کہ وہ حکومت کے اس دعویٰ کا ثبوت فراہم کرسکیں کہ ملک کے اعلیٰ ترین فوجی سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے طور پر دیگر ممالک کو جوہری معلومات فراہم کیں ہیں۔

News image
ڈاکٹر قدیر اب بھی لوگوں کی نظر میں ہیرو ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے واحد مجاز فرد کی حیثیت سے ماضی میں غیر قانونی طور پر پاکستان کے لیے چوری چھپے جو جوہری صلاحیت حاصل کی تھی، اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں سے بعض معلومات اور ٹیکنالوجی کو دیگر ممالک کو فروخت کردیا۔

اگر صدر مشرف ہی کی بات پر یقین کرلیا جائے تو یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ملک خفیہ طور اپنے جوہری پروگرام پر عملدرآمد کررہا تھا اور انتہائی اعلیٰ سطحی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے محض معدودے چند حضرات ہی براہ راست اس میں ملوث تھے۔

صدر مشرف ہی کے مطابق انسی سو چھہتر میں جب پاکستان پر پہلی بار جوہری معلومات اور معاملات آشکار ہوئے تو یہ سب کچھ انتہائی خفیہ طور پر محض دو افراد یعنی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تک ہی محدود تھا۔

اس حکومت کی تبدیلی کے بعد کئی برس تک فوجی حکمراں جنرل ضیاء الحق اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس بارے میں علم رکھتے تھے اور غیر فوجی سربراہان مملکت بہت بعد میں یعنی انیس سو اسی کی دہائی کے اواخر میں جاکر کہیں اس راز میں شریک ہوسکے۔

ان تین کے علاوہ کوئی بھی اور حتّی کے بعد میں آنے والے وزراء اعظم تک کسی کو بھی اس بارے میں اس وقت تک کچھ نہیں معلوم تھا جب تک کہ انیس سو اٹھانوے میں پاکستان نے جوہری دھماکہ کردیا۔

ان سارے ادوار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملک کی اسٹیبلشمنٹ (انتظامی ڈھانچے) کے چہیتے ہی تصور کئے جاتے رہے۔

اسی دوران ان کو اپنے جیسے سائنسدانوں کا ایک پورا دستہ تیار کرتے ہوئے یورپی ممالک کی زیر زمین دنیا میں ان لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی جو غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی غیر قانونی کاروبار یا کالے دھندے سے منسلک تھے۔

کئی برس تک ان سب کو یہ ٹیکنالوجی اور معلومات پاکستان لانے اور دارالحکومت اسلام آباد کے باہر یورینیئم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے کام کرنا پڑا۔

ان ہی میں سے بعض افراد کے دیگر ممالک جیسے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا جیسے ممالک سے بھی تعلقات قائم ہوئے جو خود بھی جوہری ہتھیاروں کی تلاش میں تھے۔

صدر مشرف کے مطابق بعد میں خطیر مالی فوائد کے عوض قدیر خان نے پاکستان کے لیے حاصل کردہ معلومات ان ممالک کے حوالے کردیں۔

خفیہ معلومات اور اداروں کی بعض نااہلیاں تسلیم کرتے ہوئے صدر مشرف کا خیال ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اور حیثیت ہر شخص کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان یا ان کی نیت پر شبہ کرسکے۔

’اس مدت میں ان جیسی کسی بھی شخصیت کے لیے یہ مشکل نہیں تھا کہ وہ جوہری آلات باہر لے جاسکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کوئی مواد نہیں بلکہ صرف اشکال باہر لے جائی گئی ہیں۔ صدر مشرف کا کہنا ہے کہ اس سب کا ایک ہی مقصد تھا۔۔۔پیسہ۔۔۔

اس سلسلے میں دو سابق فوجی سربراہوں سے بھی تفتیش کی جاچکی ہے۔

جنرل اسلم بیگ جو کہ انیس سو اٹھاسی سے انیس سو بانوے کے انتہائی اہم دور میں فوج کے سربراہ رہے ہیں اور جنرل جہانگیر کرامت جو انیس سو بانوے کے بعد فوج کے سربراہ مقرر ہوئے سے بھی اس بارے میں سوالات کئے گئے ہیں۔

صدر مشرف کا کہنا ہے کہ دو دونوں اس معاملے میں ملوث نہیں ہیں۔

اگر صدر مشرف کی بات پر یقین کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ان چند سائنسدانوں نے پاکستان کی حکومت اور طاقت ور فوجی خفیہ اداروں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

تاہم کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سارے معاملے کی از سر نو تفتیش ہونی چاہئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کام صرف گیارہ سائنسدانوں نے ہی کیا ہے۔

اس سارے معالے کا سے پاکستانیوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ ڈاکٹر خان کے اعتراف نے ان لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو لوگ ان کو ایک ہیرو کے طور پر دیکھتے تھے۔

صدر مشرف کے اس استعدلال نے کہ ملک کے عزت اور وقار کی قیمت پر قومی ہیرو کو نہیں بچایا جاسکتا بہت سے لوگوں کو قائل کیا ہے۔ تاہم یہ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر ایٹمی عدم پھلاؤ کے عالمی ادارے کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

ہوسکتا ہے کہ کسی موقع پر اسلام آباد کو اس ساری تفتیش سے بین الاقوامی برادری کو آگاہ کرنے پڑے تاکہ ان کو قائل کیا جا سکے کہ پاکستانی حکومت لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی مہیا کرنے میں ملوث نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد