’قدیر خان کی معافی پر بات کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو معافی دینے کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔ نیویارک میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اعتراف کے بعد بین الاقوامی سطح پر جوہری ٹیکنالوجی کے پھلاؤ کا ایک بہت بڑاجال ٹوٹ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف سے جلد بات کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کے اس بین الاقوامی جال کی کوئی کڑی باقی نہ رہے۔ بدھ کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کو منتقل کی ہے۔ کولن پاول نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی پھیلانے والے اس بین الاقوامی جال کا سب سے اہم کردار اب نہیں رہا اور اب ہمیں ڈاکٹر قدید خان اور اس کے جال کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں۔ انہوں نے اس کو عالمی برادری کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہفتے کے اختتام وہ صدر مشرف کو فون کریں گے اور ان سے ڈاکٹر قدیر کو معافی دینے کے معاملے پر بھی بات کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی ڈاکٹر قدیر کی معافی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک ’عجیب بات‘ قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ جوہری پھلاو کو روکنے کے لیے صدر مشرف کی طرف سے دی جانے والی یقین دہانی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ کوفی عنان نے کہا بلاشبہ صدر مشرف کے لیے یہ ایک مشکل صورت حال تھی کیونکہ یہ ایک قومی ہیرو کا معاملہ تھا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس بات پر شدید شک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ ڈاکٹر خان کا یہ انفرادی فعل تھا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکہ غیر سرکاری ذرائع سے پاکستان پر تمام حقائق پیش کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔ جمعہ کو ایک پاکستانی حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر خان اپنی باقی زندگی نظر بندی میں بسر کریں۔ ڈاکٹر خان کو معلوم ہے کہ ان کو مشروط طور پر معافی دی گئی ہے اور اگر پھر انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی کسی ملک کو منتقل کرنے کی کوشش کی تو انہیں قید بھی کیا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||