’ایران موقع کوہاتھ سے جانے نہ دے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی ایٹمی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرداعی نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر تعطل ختم کرنے کے لیے ایک بڑے موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ محمد البرادعی نے کہا کہ ایران کے لیے معاملات سلجھانے کا شاید یہ آخری موقع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نومبر یا دسمبر تک دنیا یہ فیصلہ کر سکے گی کہ آیا ایران اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں باقی ماندہ سوالوں کو طے کرنے کے اپنے وعدے پورے کر رہا ہے یا نہیں۔ تاہم آئی اے ای اے کے سربراہ نے مغربی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ ایران کو تعاون پر مائل کرنے کے لیے اس زیادہ حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ محض تادیبی پابندیاں کوئی دیر پا حل نہیں لا سکیں گی۔ صرف چند دن پہلے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران کا یورینیم کی افزودگی کا پروگرام اس سے بہت کم ایندھن پیدا کر رہا ہے جس کا وہ اہل ہے۔ ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی شکوک رفع کرنے کے بارے میں جو سمجھوتہ ہوا ہے، وہ ایک مثبت اور معنی خیز اقدام ہے۔ عالمی ادارے نے کہا تھا کہ ایران اس منصوبے پر اتفاق کر گیا ہے جس کے تحت اس کی متنازعہ جوہری سرگرمیوں پر شکوک ہیں۔ مغربی ممالک کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کو چاہیے کہ وہ اپنا پروگرام بند کر دے۔ | اسی بارے میں میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس ایرانی جوہری تنصیبات کا دورہ04 February, 2007 | آس پاس ایران پر حملہ نہیں: سابق امریکی فوجی04 February, 2007 | آس پاس ایران کیخلاف کارروائی’تباہ کن‘05 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||