ایران کیخلاف کارروائی’تباہ کن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی تنظمیوں کے ایک اتحاد نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ خیراتی اداروں، یونینز اور ’فیتھ گروپس‘ برطانوی وزیراعظم پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکہ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالیں۔ ایک رپورٹ میں ان گروپوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے ’ناقابلِ یقین‘ نتائج سے بچنے کے لیے برطانیہ کے بس میں جو ہے اسے کرنا چاہیے۔’ٹائم ٹو ٹاک: کیس آف ڈپلومیٹک سلوشنز آن ایران‘ نامی اس رپورٹ میں ٹونی بلیئر پر ممکنہ فوجی کارروائی کو ایک مذاکراتی مہرے کے طور پر استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے لیبر جماعت کے سابق وزیر سٹیون ٹوئگ کا کہنا تھا کہ’ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتائج نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ ان کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’بدترین اندازوں کے مطابق بھی ایران ابھی جوہری ہتھیاروں کے حصول سے سالوں دور ہے۔ ابھی مذاکرات کا وقت باقی ہے اور وزیراعظم کو اس بات کا یقین کرنا چاہیے کہ ہمارے اتحادی یہ وقت مذاکرات کے لیے ہی استعمال کریں‘۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’اگر فوجی کارروائی ہوئی تو وہ مختصر نہیں ہوگی بلکہ اس کا خطے پر گہرا اثر پڑے گا اور اس کے اثرات دور دور تک محسوس کیے جائیں گے‘۔ امریکہ نے تاحال ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشن کو رد نہیں کیا ہے۔ وہ اور اس کے مغربی اتحادی ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری چاہتا ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر حملہ نہیں: سابق امریکی فوجی04 February, 2007 | آس پاس ایرانی جوہری تنصیبات کا دورہ04 February, 2007 | آس پاس خلیج میں فوج، دشمنوں کو پیغام03 February, 2007 | آس پاس عراق: ایران کو امریکی وارننگ01 February, 2007 | آس پاس ایران پر بم بنانے میں مدد کا الزام01 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||