BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 February, 2007, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خلیج میں فوج، دشمنوں کو پیغام
عراق میں امریکی فوجی
امریکی فوجیوں پر حملوں میں ملوث ایرانیوں کو روکیں گے: گیٹس
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران سے جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور خلیج میں امریکی فوجی تیاریاں اس کے حامیوں اور’ممکنہ دشمنوں‘ کے لیے صرف ایک پیغام ہے۔

انہوں نے یہ بیان خلیج فارس میں دوسرے امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی اور اس امریکی خفیہ رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران عراق میں کشیدگی کو ہوا دینے میں تو ملوث ہے تاہم وہ تشدد کے پھیلاؤ کا ’بڑا ذمہ دار‘ نہیں ہے۔

امریکی کانگریس میں بھی ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف بش انتظامیہ کا سخت لہجہ اور بحری بیڑے کی خلیج میں تعیناتی امریکی حملے کی تیاری کے اشارے ہیں۔

جمعہ کو پنٹاگون میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ امریکہ ایرانی جوہری پروگرام روکنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے تھا۔

انہوں نے کہا ’صدر اور وزیرِ خارجہ یہ واضح کر چکے ہیں اور اب میں بھی یہ بتلا رہا ہوں کہ ہم ایران سے جنگ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے ہیں‘۔ تاہم امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق میں اپنے فوجیوں پر حملوں میں استعمال ہونے والے بم فراہم کرنے والے ایرانیوں کی کارروائیوں کو روکنے کا عزم رکھتا ہے۔

ایرانی حکومت عراق میں جاری تشدد میں ملوث ہونے سےانکار کرتی آئی ہے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ عرا ق میں استعمال ہونے والے متعدد بم ایرانی ساختہ تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایران اقوامِ متحدہ کے مطالبات کو رد کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے صنعتی پیمانے کی ایک سائٹ کی تیاری کے اختتامی مراحل میں ہے۔

ادھر ’غیر وابستہ‘ ممالک کے سفراء کا ایک گروپ بھی ہفتے کو ایرانی جوہری تنصیبات کا دورہ کرنے والا ہے۔ یہ دسمبر میں ایران پر اقوامِ متحدہ کی طرف سے پابندیاں لگنے کے بعد کسی بین الاقوامی گروپ کا پہلا دورہ ہوگا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سفراء ایک یورینیم پلانٹ کا دورہ کریں گے جس کے بارے میں ایران کا اصرار ہے کہ وہ اس کے پرامن جوہری پروگرام کا حصہ ہے۔

عراقی تعمیر نو
عراقی تعمیرنو کےفنڈز ضائع ہو رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد