ایران سے مذاکرات کیے جائیں: عراق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے نائب صدر عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران سے معاملات کو مذاکرات سے حل کرنے کے حق میں ہے۔ وہ صدر بش کے اس بیان کے حوالے سے دیے جانے والے بیان کے حوالے سے کیے جانے والے ایک سوال کا جواب دے رہے جس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ عراق میں بد امنی کا ذمہ دار ایران ہے۔ صدر بش نے امریکی فوجیوں سے کہا ہے وہ اس معاملے پر قابو پانے کے لیے جو بھی ضروری ہو کریں۔ عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ اس مسئلے کو صرف مذاکرات ہی سے حل کیا جانا چاہیے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق کسی کو بھی ہلاک کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ خواہ وہ امریکیوں کے ہاتھوں امریکیوں کی ہو یا ایرانیوں کے ہاتھوں امریکیوں کی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ عراق میں ایرانی خفیہ محکمے کے اکا دکا لوگ ہیں جحو جنگ سے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں‘۔ عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ ’لیکن اس معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے‘۔ عراقی نائب صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک اہم ملک ہے۔ اس کے عراق اور شمرقِ وسطیٰ میں مفادات ہیں اور اگر مکالمہ نہ ہوا تو عراق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا ایک بالواسطہ میدان بن جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں ہم سب کا خسارہ ہے۔ ایران کا بھی، عراق کا بھی اور مشرقِ وسطیٰ کا بھی۔ | اسی بارے میں صدر بش کی عراق پالیسی مسترد24 January, 2007 | آس پاس عراق پالیسی کو ایک موقع دیں: بش24 January, 2007 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس عراق میں خونریزی کی نئی لہر17 January, 2007 | آس پاس ’عراق میں مداخلت سے باز رہیں‘14 January, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج کا اعلان آج متوقع 10 January, 2007 | آس پاس عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘10 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||