BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 January, 2007, 06:12 GMT 11:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران سے مذاکرات کیے جائیں: عراق
عراق کسی کو بھی ہلاک کرنے کے حق میں نہیں
عراق کے نائب صدر عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران سے معاملات کو مذاکرات سے حل کرنے کے حق میں ہے۔

وہ صدر بش کے اس بیان کے حوالے سے دیے جانے والے بیان کے حوالے سے کیے جانے والے ایک سوال کا جواب دے رہے جس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ عراق میں بد امنی کا ذمہ دار ایران ہے۔

صدر بش نے امریکی فوجیوں سے کہا ہے وہ اس معاملے پر قابو پانے کے لیے جو بھی ضروری ہو کریں۔

عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ اس مسئلے کو صرف مذاکرات ہی سے حل کیا جانا چاہیے ۔

ان کا کہنا ہے کہ عراق کسی کو بھی ہلاک کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ خواہ وہ امریکیوں کے ہاتھوں امریکیوں کی ہو یا ایرانیوں کے ہاتھوں امریکیوں کی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ عراق میں ایرانی خفیہ محکمے کے اکا دکا لوگ ہیں جحو جنگ سے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں‘۔

عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ ’لیکن اس معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے‘۔

عراقی نائب صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک اہم ملک ہے۔ اس کے عراق اور شمرقِ وسطیٰ میں مفادات ہیں اور اگر مکالمہ نہ ہوا تو عراق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا ایک بالواسطہ میدان بن جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس میں ہم سب کا خسارہ ہے۔ ایران کا بھی، عراق کا بھی اور مشرقِ وسطیٰ کا بھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد