عراق میں خونریزی کی نئی لہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی کے ایک مصروف بازار میں خودکش کار بم حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق مریدی مارکیٹ کے نزدیک دن کے تین بج کر پچپن منٹ پر کیا گیا۔ یہ علاقے کا سب سے معروف کمرشل سنٹر ہے۔ دھماکے کی شدت سے اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس واقعہ سے چند ہی گھنٹوں پہلے کرکک کے ایک پولیس سٹیشن کے نزدیک ایک گاڑی کے پھٹنے سے سات افراد ہلاک ہوگئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایک ہی روز قبل عراقی دارالحکومت بغداد میں خونریزی کا بدترین دن دیکھا گیا جب مختلف حملوں میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم 70 ایک یونیورسٹی کے طلباء و طالبات تھے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق2006 کے پرتشدد واقعات میں عراق میں 34400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان واقعات میں 36000 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعداد و شمار عراقی حکومت کے اندازوں سے تین گنا زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے عراق کے لیے نمائندے گیانی میگازینی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر عراقی حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے موثر اقدامات نہ کئے تو صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے کرکک میں ممکنہ انسانی بحران کی وارننگ بھی دی ہے۔ ملک کے دیگر واقعات میں فوجی اطلاعات کے مطابق مغربی بغداد کے عنبر صوبے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر بش نے ایک ہی ہفتہ قبل عراق میں 20000 سے زائد مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔ | اسی بارے میں بغداد، یونیورسٹی میں درجنوں ہلاک16 January, 2007 | آس پاس عراق: ایک سال میں 34 ہزار ہلاک16 January, 2007 | آس پاس ’آپریشن ٹوگیدر فارورڈ‘ کتنا موثر؟16 August, 2006 | آس پاس عراق تشدد: اعداد و شمار کے آئینے میں20 August, 2006 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس عراق: طیارہ تباہ، 32 ہلاک09 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||