ایران پر حملہ نہیں: سابق امریکی فوجی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے تین سابق اعلیٰ فوجی افسروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ایسی کارروائی سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اور عراق میں اتحادی افواج کے لیے ’تباہ کن نتائج‘ نکلیں گے۔ ان افسران نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بحران کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور انہوں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کرے۔ اس سلسلے میں سابق امریکی فوجی افسران کا ایک خط برطانیہ کے اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ میں شائع ہوا ہے جس پر لیفٹینٹ جنرل رابرٹ گارڈ کے بھی دستخط ہیں جو امریکی وزیرِ دفاع کے معاون تھے۔ اس کے علاوہ جنرل جوزف ہوار اور وائس ایڈمرل جیسے سابق اعلیٰ فوجیوں نے بھی اس پر دستخط کیے ہیں۔ خط میں انہوں نے کہا ہے کہ بطور سابق امریکی فوجی ’ہم ایران کے خلاف فوجی قوت کے استعمال پر امریکہ کو خبردار کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کا اقدام عالمی اور علاقائی سطح پر صورتِ حال کو مزید خراب کرے گا۔‘ ان کے مطابق سفارتی طریقے سے ایران سے بات چیت کے ذریعے جوہری پروگرام کے مسئلے کو حل کرنا امریکہ اور برطانیہ کے مفاد میں ہے اور اس سے بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی ہو سکتی ہے۔ خط میں سابق امریکہ فوجیوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس سلسے میں برطانیہ بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور سفارت کاری میں ایک نئی روح پھونک سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں خلیج میں فوج، دشمنوں کو پیغام03 February, 2007 | آس پاس ایرانی جوہری تنصیبات کا دورہ04 February, 2007 | آس پاس عراق: ایران کو امریکی وارننگ01 February, 2007 | آس پاس ’ایران پر حملے کی اجازت لینا ہوگی‘19 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||