شکوک کاخاتمہ: تجاویزایران کوقبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران کا یورینیم کی افزودگی کا پروگرام اس سے بہت کم ایندھن پیدا کر رہا ہے جس کا وہ اہل ہے۔ ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی شکوک رفع کرنے کے بارے میں جو سمجھوتہ ہوا ہے، وہ ایک مثبت اور معنی خیز اقدام ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ایران کوئی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔عالمی ادارے میں امریکی نمائندے نے کہا کہ اگر ایران کے رہنما واقعی شکوک رفع کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان جوہری سرگرمیوں کو روک دیں جو شہری مصارف کے لیے ضروری نہیں۔ دریں اثناء عالمی ادارے نے کہا ہے کہ ایران اس منصوبے پر اتفاق کر گیا ہے جس کے تحت اس کی متنازعہ جوہری سرگرمیوں پر شکوک ہیں۔ عالمی ادارے کے بقول ایران کا اقدام اہم ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایران مکمل اور بھرپور تعاون کرے۔ مغربی ممالک کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کو چاہیے کہ وہ اپنا پروگرام بند کر دے۔ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل پہلے ہی ایران کے خلاف دو ادوار میں پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ عالمی ادارے نے ایک رپورٹ میں جس کی نقل بی بی سی کو ملی ہے کہا ہے کہ ایران کا شکوک رفع کرنے کے لیے تیار ہو جانا ایک اہم پیش رفت ہے۔ آئی اے ای اے کا ایران کے ساتھ اشتراک کا منصوبہ پہلے ہی بعض مغربی سفارتکاروں کی تنقید کا ہدف رہا ہے۔ یہ سفارتکار ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں میں تاخیری کرانے کے حربوں پر کام کرنے اور اس دوران اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس ایرانی جوہری تنصیبات کا دورہ04 February, 2007 | آس پاس ایران پر حملہ نہیں: سابق امریکی فوجی04 February, 2007 | آس پاس ایران کیخلاف کارروائی’تباہ کن‘05 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||