پابندیاں بری طرح ناکام ہونگی: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی انقلابی فوجی دستے ’پاسداران انقلاب‘ اور تین سرکاری بینکوں کے خلاف امریکہ کی تازہ ترین سخت پابندیوں کے خلاف ایران نے سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں بری طرح ناکام ہوں گی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر سخت ترین پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ایک سینیئر امریکی سفارتکار نے روس اور چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایرانی فوج کی مدد اور پشت پناہی کر رہے ہیں۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نکولس برنس کا کہنا تھا کہ روس کو چاہیے کہ وہ ایران کو ہتھیار دینا اور چین وہاں سرمایہ کاری کرنا بند کر دے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ یہ ممالک اس وقت ایران کے سب سے بڑے تجارتی حلیف ہیں۔ اس صورت میں جب ان ممالک کی پالیسیاں ایران کی فوج کے ساتھ ہیں اور وہ ایرانی فوج کو مضبوط کرنے میں ایران کی مدد کر رہے ہیں، یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ہم (امریکہ) اپنے طور پر ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘ نکولس برنس نے کہا کہ روس اور چین کے ساتھ اختلافات کے باوجود امریکہ کو امید ہے کہ سکیورٹی کونسل نومبر میں ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی منظوری دے دی گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کو قائل کر لیا جائے گا کہ وہ مزاحمت کا راستہ نہ اپنائے اور مذاکرات پر رضامند ہو جائے۔ ’ ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتے ہیں، ہم اس تنازعے کا پُرامن حل چاہتے ہیں لیکن کبھی کبھی مذاکرات کو مضبوط کرنے کے لیے کچھ سخت فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں۔‘
سخت گیر امریکی امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے اعلان کے خلاف ایران کے موقف کو الفاظ کا جامہ پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری نے پہنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب اب اپنے نصب العین اور عزائم کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ کریں گے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی امریکہ کے اقدام کو رد کیا ہے۔ وزارت کے ترجمان محمد علی حسینی کا کہنا تھا کہ ’ ایران کے باوقار عوام اور ایران کے آئینی اداروں کے خلاف امریکہ کی جارحانہ پالیسیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ناکامی ان اقدامات کا مقدر ہے۔‘ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کہتے ہیں کہ اقتصادی لحاظ سے یہ پابندیاں ایران کے لیے بہت نقصاندہ ہو سکتی ہیں۔ پاسداران انقلاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فیکٹریوں، اخبارات اور تیل اور گیس کے ذخائر سمیت ملک کی معیشت کا ایک تہائی اس کے قابو میں ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں اور امریکہ کی طرف سے وارننگ کے بعد غیرملکی کمپنیاں پاسدارن انقلاب یا اس سے منسلک افراد کے ساتھ تجارت کرتے ہوئے گھبرائیں گی۔ واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ایرانی بینکوں اور پاسداران انقلاب کے خلاف اقدامات کا تعلق امریکہ کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ایران کے جارحانہ رویے کا مقابلہ کرنا ہے۔ امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو وسیع تباہی پپھلانے والے ہتھیاروں کو عام کرنے والی تنظیم قرار دیا ہے جو کہ پاسدارانِ انقلاب کے بین البراعظمی میزائل پروگرام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں کی مجاز ذیلی تنظیم القدس فورس کو دہشت گردوں کی حمایتی قرار دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر امریکہ کی نئی پابندیاں25 October, 2007 | آس پاس ’ایران کو ہتھیار نہیں مل سکتے‘22 October, 2007 | آس پاس ایران کے جوہری سفارتکار مستعفی 20 October, 2007 | آس پاس روس نے ایران کی حمایت کر دی17 October, 2007 | آس پاس ایران پر پابندیوں کی قرارداد مؤخر28 September, 2007 | آس پاس ’ایران پر پابندیاں غیر قانونی ہیں‘26 September, 2007 | آس پاس ’ایران امریکہ جنگ کا خطرہ نہیں‘23 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||