BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 May, 2008, 09:53 GMT 14:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈرامہ نویس وجے تندولکر کا انتقال

وجے تندولکر
وجے تندولکر نےفلم اور ڈرامہ کے لیے بہت کام کیا تھا
نامور ڈرامہ نویس، سکرین پلے رائٹر اور صحافی وجے تندولکر پیر کی صبح پونے کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر اسّی سال تھی۔

وہ پانچ ہفتوں سے پونے کے ہسپتال میں زیر علاج تھے اور گزشتہ دو روز سے کوما کی حالت میں تھے۔

ہمہ جہت شخصیت کے مالک وجے تندولکر بنیادی طور پر مراٹھی زبان کے مصنف تھے۔ ان کے لکھے گئے کئی ڈرامے بہت مقبول ہوئے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا تھا جبکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بھی انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا تھا۔

تندولکر نے مراٹھی ڈراموں کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ان سے قبل مراٹھی ڈرامے محض روایتی ہوا کرتے تھے لیکن سماج میں پھیلی برائیوں کو دنیا کے سامنے لانے کی ہمت انہوں نے اپنے ڈراموں کے ذریعہ کی۔ ان کے ڈرامے گھاشی رام کوتوال، سکھا رام بنِدر اور شانتتا راکھا کورٹ چالو آہے ( خاموش رہو عدالت شروع ہے) نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

سماج کی برائیوں کو جب انہوں نے بے نقاب کیا تو ان کی مخالفت بھی ہوئی لیکن بیباک تندولکر نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔

 اگر تندولکر میری فلم کا سکرپٹ نہیں بھی لکھتے تھے تب بھی میں ان سے مشورہ کرتا تھا، میں نے بہت سے رائٹرز دیکھے جن کی کوئی ایک دو تحریر مشہور ہوتی ہے لیکن تندولکر ایسے فنکار تھے جن کی ہر تحریر کامیاب رہی۔
فلم ہدایت کار شیام بینیگل

تندولکر نے فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے۔ فلم اردھ ستیہ، آکروش، نشانت، کے علاوہ انہوں نے فلم منتھن لکھی اور اس کے سکرپٹ کو نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مشہور فلمساز شیام بینیگل نے تندولکر کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’ آج ملک نے ہی نہیں دنیا نے ایک بیباک رائٹر، ہمہ جہت شخصیت کے مالک اور ایک نیک انسان کو کھو دیا ہے۔‘

بینیگل کے مطابق وہ تندولکر سے بہت متاثر تھے۔’اگر تندولکر میری فلم کا سکرپٹ نہیں بھی لکھتے تھے تب بھی میں ان سے مشورہ کرتا تھا، میں نے بہت سے رائٹرز دیکھے جن کی کوئی ایک دو تحریریں مشہور ہوتی ہیں لیکن تندولکر ایسے فنکار تھے جن کی ہر تحریر کامیاب رہی‘۔

بینیگل کے مطابق وہ شعلہ بیان تھے۔’ اپنے ڈراموں اپنی تحریروں کے ذریعہ انہوں نے سماج کو بدلنے کی کوشش کی تھی وہ ایک لبرل انسان اور صحیح معنوں میں سیکولرسٹ تھے۔‘

تندولکر نے پانچ دہائیوں تک اپنے قلم کا جادو چلایا۔ ڈرامہ، تھیٹر، فلمیں، سکرین پلے کے ساتھ ساتھ وہ ایک قابل صحافی تھے۔ مہاراشٹر کی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی۔ مہاراشٹر کے ایک مراٹھی اخبار میں ان کا کالم شائع ہوتا تھا جس میں وہ اسی بیباکی کے ساتھ لکھتے۔

تندولکر کی بیٹی پریہ تندولکر ایک اچھی اداکارہ اور سماجی رضاکار تھیں۔ پریہ کے شوہر اور تندولکر کے داماد اور فلمساز کرن رازداں تیندولکر کو اپنا گرو مانتے ہیں۔’ میرا پورا سنیما انہیں کی دین ہے۔ میں نے انہیں سے بیباکی سیکھی ہے اسی لیے میں ان موضوعات پر فلمیں بنانے کی ہمت کرتا ہوں جس کے بارے میں فلمساز سوچنے سے بھی کتراتے ہیں۔ان کی موت میری زندگی کا سب سے بڑا نقصان ہے۔‘

اسی بارے میں
پاٹے خان دلی میں
14 January, 2005 | فن فنکار
پاک۔ہند ناٹک میلہ
26 April, 2007 | فن فنکار
رے کاگمشدہ سکرپٹ
07 September, 2003 | فن فنکار
فلمی سکرپٹ رائٹرز کی تلاش
30 September, 2005 | فن فنکار
کملیشور کی فلمیں
02 February, 2007 | فن فنکار
بالی وڈ کے’گولڈی‘ چلے گئے
23 February, 2004 | فن فنکار
وجے راج ممبئی پہنچ گئے
23 February, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد