BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 04:44 GMT 09:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک۔ہند ناٹک میلہ

صفدر ہاشمی
صفدر ہاشمی نے عوامی تھیٹر کی ترویج کےلئے جان کی بازی لگا دی
لاہور میں چوتھا سالانہ پاک ہند ناٹک میلہ کامیابی سے اختتام کو پہنچا۔

لاہور کی الحمرا آرٹ کونسل میں ہفتہ بھر جاری رہنے والے پنج پانی تھیٹر فیسٹیول کے دوران بھارت اور پاکستان کی مختلف ناٹک منڈلیوں نے سولہ کھیل پیش کئے جن میں اجوکا تھیٹر کے بُلھا اور دُکھ دریا جیسے جانے پہچانے ڈراموں کے ساتھ ساتھ بالکل نئی تمثیلیں بھی پیش کی گئیں مثلاً خود اجوکا نے کھیل ’ ہلّہ بول ‘ پیش کیا جو دراصل بائیں بازو کے بھارتی مصنف اور ہدایتکار مرحوم صفدر ہاشمی کو خراجِ عقیدت کی حیثیت رکھتا تھا۔

صفدر ہاشمی مزدوروں کے لئے سٹریٹ تھیٹر کیا کرتے تھے اور 1989 میں مزدوروں کی بستی میں ایک پرفارمینس کے دوران دائیں بازو کے غنڈوں نے حملہ کر کے انہیں ہلاک کردیا تھا۔

بھارت سے آنے والے تھیٹر گروپ’ اداکار منچ‘ نے صاحب سنگھ کی زیرِ ہدایت کھیل ’ پِنجر‘ پیش کیا جوکہ امرتا پریتم کے معروف ناول پر مبنی ہے اور جس پر ایک فلم بھی بن چُکی ہے۔

موگا سے آنے والے گروپ’اوف سٹیجٰ‘ نے کھیل ٹیررسٹ دی پریمیکا یعنی دہشت گرد کی محبوبہ پیش کیا جس میں دکھایا گیا ہے کہ دہشت کو کچلنے کےلئے دہشت نہیں بلکہ محبت کی طاقت درکار ہے۔

پاکستانی ناظرین نے امرتسر سے آنے والے تھیٹر گروپ’ٰ منچ رنگ منچٰ‘ کی پیش کش’ اندر باہر منٹو‘ کو خوب سراہا جس میں منٹو کی زندگی اور اہم کہانیوں کا ایک کولاژ پیش کیا گیا تھا۔

کھیل میں منٹو خود ایک کلیدی شخص کے طور پر موجود ہے اور اس کے تخلیق کئے ہوئے کردار بھی، جو کہ ہمیں نیا قانون، کھول دو، ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسی کہانیوں اور سیاہ حاشیے جیسے خاکوں میں دکھائی دیتے ہیں۔

امرتسر کے اس گروپ نے منٹو کی زندگی، اس پر چلنے والے مقدمات اور اسکی کہانیوں کے مخصوص کرداروں پر مبنی اپنا یہ کھیل پنجابی میں پیش کیا اور دیکھنے والے کچھ دیر کےلئے یہ بات بالکل بھُول گئے کہ منٹو نے یہ سب کچھ اُردو میں لکھا تھا۔

کھیل کے بعد غیر رسمی گفتگو کے دوران کچھ حاضرین اور مبصرین نے اس بات پر زور دیا کہ منٹو کا سارا کام پنجابی میں ترجمہ ہونا چاہیئے۔

 پاکستان میں عوامی تھیٹر پیش کرنے والے لوگ انتہائی بہادر ہیں اگرچہ بھارت میں ہم پر بھی کبھی کبھار پولیس حملہ کر دیتی ہے لیکن پاکستان کے عوامی فن کار ہم سے کہیں زیادہ مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔ وہ کچھ بھی کھُلے بندوں پیش نہیں کر سکتے کیونکہ موت کا سایہ ہر وقت اُن کے سر پہ منڈلاتا رہتا ہے۔
صفدر ہاشمی مرحوم 1987

اِس ناٹک میلے میں ہدایتکار بنسی کول کا کھیل تُکے پر تُکّا، دیوندر دمن کا تحریر کردہ قطرہ قطرہ زندگی، لاہور کے عرفان علی کا لکھا ہوا کھیل اُڈیک اور سلمان شاہد کا تیار کردہ کھیل سائے بھی پیش کیا گیا۔

بہاولپور سے آئی ہوئی سرائیکی تھیٹر کمپنی نے ہیر رانجھا پیش کیا جوکہ وارث شاہ کی ہیر سے بالکل مختلف چیز تھی، گو کہانی وہی تھی لیکن بیانیئے کو سرائیکی شاعری کے ٹکڑوں سے مزیّن کیا گیا تھا اور دیہاتی تھیٹر کی روایت کے مطابق اس میں کوئی خاتون اداکارہ نہیں تھی بلکہ زنانہ کردار بھی لڑکے ہی ادا کر رہے تھے۔

اس طرح کی پرفارمینس کو دیکھنے کےلئے شاید لاہور کے تماشائی ذہنی طور پر تیار نہیں تھے اس لئے کہیں کہیں یہ کھیل حاضرین کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتا رہا۔

-
تھیٹر فیسٹیول کے ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم

اس تھیٹر میلے میں دو کھیل ایسے تھے جنھیں ِخالص عوامی پیش کش قرار دیا جاسکتا ہے: ایک تو کلکتہ سے آنے والے متبادل تھیٹر گروپ کا کھیل’اماں‘ تھا اور دوسرے ملتان کے انٹرایکٹیو تھیٹر کا کھیل بھٹہ مزدور۔

یہ کھیل ایسی ناٹک منڈلیوں نے پیش کئے جن کے خیال میں تھیٹر بنیادی طور پر تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی بے انصافیوں کو ختم کرنے کی جدوجہد کا آلہ ہے اور تھیٹر کے ذریعے معاشرتی رویّوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔

لاہور میں ہفتے بھر تک جاری رہنے والے اس تھیٹر میلے کے آخری دِن ایک ایسی بزرگ شخصیت سٹیج پر نمودار ہوئی جس نے اپنے فن کا آغاز 1945 میں اسی شہر سے کیا تھا۔ یہ تھے بھارت کے معروف رقّاص اور کوریوگرافر نریندرشرما جنہوں نے 1940 میں رقاصِ اعظم گُرو اُودے شنکر کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا۔

1942 میں انہوں نے استاد کے زیرِ عاطفت کُونج کہانی نام کا ایک رقص مرتب کیا اور گزشتہ 65 برس کے دوران اس میں نئے نئے اضافے کرتے رہے ہیں۔ یہ اُن کونجوں کی کہانی ہے جو موسمِ سرما میں سائبیریا سے ہزاروں میل کی اُڑان بھر کر یہاں آتی ہیں اور موسم بدلنے پر میزبانوں کا شکریہ اداکر کے وطن واپس روانہ ہوجاتی ہیں۔

لاہور کے موجودہ میلے میں نریندر شرما نے کونج کہانی کے علاوہ انتم ادھیائے نام کا ایک نیا رقص بھی پیش کیا جو انسان کے آخری سفر کی ایک علامتی تمثیل تھی۔

اسی بارے میں
نجیب محفوظ سے ایک ملاقات
30 August, 2006 | فن فنکار
شوقیہ فلموں کا میلہ
09 September, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد