اسد مفتی کا فن، کم الفاظ زیادہ بات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی ممالک میں رہنے والے کسی بھی ادیب یا شاعر کی پاکستان یاترا یوں تو میڈیا کےلیے ایک اہم واقعہ ہوتی ہے لیکن اسد مفتی کی لاہور آمد پر جس طرح میڈیا نے انھیں چاروں طرف سے گھیرا، اس کا سبب غالباً یہ تھا کہ وہ اکیلے پاکستان نہیں آئے تھے بلکہ اپنی نو مطبوعہ کتاب بھی ساتھ لے کر آئے تھے۔ ’جنگل میں فٹ پاتھ‘ ان کے اخباری کالموں کا مجموعہ ہے۔ جِس کی تقریبِ رونمائی لاہور کی الحمرا آرٹ کونسل میں ہوئی اور مہمانِ خصوصی کے طور پر بھارت سے معروف صحافی اور عوامی سفارت کار کلدیپ نیّر لاہور آئے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسد مفتی ہالینڈ میں رہتے ہیں لیکن ٹیلی فون کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان میں ہر اس شخص سے رابطہ رکھتے ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام کو قریب لانے کے حق میں ہے اور اس سلسلے میں بساط بھر کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔
کالموں کے اس مجموعے ’جنگل میں فٹ پاتھ‘ کا تعارف بھی کلدیپ نیّر ہی نے تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: ’اسد مفتی ایک ایسا انسان ہے جو اپنے زمانےسے پہلے پیدا ہوا۔ وہ کسی بھی انسان کے سامنے اپنی بھوری تیز نگاہیں جھُکانے کوتیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں ایک بے باک، نڈر، کمیٹِڈ، حقیقت پسند اور حق گو انسان نظرآتا ہے‘۔ ’اسد مفتی نے حقیقت پسندی کے ذریعے معاشرے سے مکالمہ نگاری کی ہے، جنگلوں کی جھاڑ جھنکار میں فٹ پاتھ تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے، بہروں کی بستی میں موذن بننے کی کوشش کی ہے، اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے کی کوشش کی ہے۔ نابیناؤں کے درمیان دیدہ ور آنکھیں لے کر راستہ بنانے کی کوشش کی ہے، فرہاد بن کر ہندو پاک کی منجمد سرحدوں سے نہر نکالنے کی کوشش کی ہے۔ بس اب یہی تمنا ہے کہ پیار و محبت اور دوستی و بھائی چارے کی یہ نہر جاری و ساری رہے‘۔
لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حقوقِ انسانی کے سرگرم رکن، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر اور نامور صحافی آئی اے رحمان نے کہا کہ اسد مفتی نے ذہنی پابندیوں کو کبھی قبول نہیں کیا اور یہی کشمکش اسے دورِ استبداد میں لاہور کی گلیوں سے نکال کر ہالینڈ کے کوچوں میں لےگئی۔ انھوں نے کہا کہ ’اسد مفتی ایک ایسا کالم نگار ہے جو کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بات کہہ سکتا ہے اور پردیس میں بیٹھ کر بھی اسے اپنے وطن کے حالات اتنے شفاف انداز میں نظر آتے ہیں کہ یہاں کی گرد آلود فضا میں زندگی گزارنے والے قلم کار اس پر رشک کرتے ہیں‘۔ معروف قانون دان اور سابق وزیرِ قانون ایس ایم ظفر نے کہا کہ ’سچ بولنے کی پاداش میں سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا اور جس صاف گوئی سے اسد مفتی گردوپیش کے حالات کا تجزیہ کرتا ہے وہ اس کے لیے سقراط کی علامتی اہمیت کو سہ چند کردیتی ہے‘۔ معروف صحافی اور کالم نگار ایاز امیر نے بھی اُن حالات پہ روشنی ڈالی جن میں آج کا قلم کار زندہ ہے۔ سوشلسٹ دانش ور اور بزرگ صحافی حمید اختر نے کہا کہ ’اسد مفتی ایک انتہائی دھانُسو قسم کی شخصیت ہے اور ہر طرح کے وقتی مصلحتوں سے ماورا ہوکر اور مدِ مقابل کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر اپنی بات کہتا ہے، اور منواتا ہے‘۔ لاہور کے متعدد دانشوروں کے علاوہ تقریب میں سبھی اہم اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے نمائندے موجود تھے اور عرصہ دراز کے بعد کسی کتاب کی رونمائی پر عمائدینِ شہر کی ایسی رونق دیکھنے میں آئی۔ | اسی بارے میں کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا10 October, 2006 | فن فنکار لبنان اسرائیل جنگ پر نئی کتاب02 October, 2006 | فن فنکار گاندھی:شخصیت پر ایک نئی نظر21 March, 2006 | فن فنکار پاک بھارت تعلقات کے 60 برس01 September, 2006 | فن فنکار فیض بذریعہ خالد: ناممکن کا ممکن21 July, 2006 | فن فنکار ’کشمیر کی آزمائش: ایک انقلابی حل‘24 April, 2006 | فن فنکار پرویز شاہدی کس کےمقتول ہوئے؟20 March, 2006 | فن فنکار درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق25 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||