کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کا اعلیٰ ادبی انعام 'دی مین بُکر پرائز' انڈیا میں پیدا ہونے والی مصنفہ کرن دِسائی نے جیت لیا ہے۔ انہیں یہ انعام ان کے ناول ’دی انہیریٹنس آف لاس‘(The Inheritance of Loss) کے لیئے دیا گیا ہے۔ پینتیس سالہ دِسائی یہ انعام جیتنے والی سب سے کم عمر خاتون ہیں۔ وہ پندرہ سال کی عمر میں لندن آ گئی تھیں اور آج کل امریکہ میں طالب علم ہیں۔ ’دی انہیریٹنس آف لاس‘ ان کا دوسرا ناول ہے۔ پچاس ہزار پاؤنڈ کے انعام کے لیئے چھ مصنفوں میں مقابلہ تھا۔ سارہ واٹرز کو ان کے ناول ’دی نائٹ واچ‘ پر انعام کے لیئے پسندید قرار دیا جا رہا تھا۔ کرن دِسائی نے اپنے ناول کے بارے میں کہا کہ ’یہ کتاب میں نے اپنے والدین، ان کے والدین، اپنی کہانی اور دراصل اصل میں ٹوٹے ہوئے لوگوں کی کہانیاں اور آدھی زندگیوں اور ایک چوتھائی زندگیوں اور خوف اور کمیوں سے بھری زندگیوں کے بارے میں لکھتے ہوئے لکھی ہے‘۔
گزشتہ سال یہ انعام جان بینویل کو ناول ’دی سی‘ کے لیئے دیا گیا تھا۔ کرن دِسائی بھارت سے تعلق رکھنے والی دوسری مصنفہ ہیں جنہیں انگریزی زبان میں لکھے گئے ناول پر بکر پرائز ملا ہے۔ اس سے پہلے بُکر پرائز ارون دتی رائے کو ’گاڈ آف سمال تھِنگز‘ پر ملا تھا۔
ججوں کے پینل کی سربراہ ہرمیون لی نے کہا کہ ’جنہوں نے انیتا دِسائی کو پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کرن دِسائی نے اپنی ماں کے کام سے سیکھا ہے۔ دونوں صرف بھارت کے لیئے نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھارتیوں کے لیئے لکھتی ہیں‘۔ ’ناول انسانی جذبے سے بھرپور ہے اور میرے خیال میں یہی اس کی کامیابی کی وجہ بنی‘۔ کرن دِسائی کا ناول کیمبرج سے تعلیم یافتہ ایک بھارتی جج کی کہانی ہے جو ہمالیہ میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ جج کی زندگی میں سکون کے ان کی یتیم پوتی کی آمد اور ان کے باورچی کی امریکی محکمۂ امیگریشن کو دھوکہ دینے کی کوششوں سے برباد ہو نے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ | اسی بارے میں گمنام ناول نگار بکر انعام جیت گئے15 October, 2003 | فن فنکار بکیز کی پسند ڈیوڈ مچل22 September, 2004 | فن فنکار بُکر انعام، رشدی اب شامل نہیں09 September, 2005 | فن فنکار مونیکا علی ’بُکر پرائز‘ کے لئے نامزد 17 September, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||