BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 October, 2006, 22:15 GMT 03:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا
کِرن ڈسائی
یہ کرن ڈسائی کا دوسرا ناول ہے
برطانیہ کا اعلیٰ ادبی انعام 'دی مین بُکر پرائز' انڈیا میں پیدا ہونے والی مصنفہ کرن دِسائی نے جیت لیا ہے۔ انہیں یہ انعام ان کے ناول ’دی انہیریٹنس آف لاس‘(The Inheritance of Loss) کے لیئے دیا گیا ہے۔

پینتیس سالہ دِسائی یہ انعام جیتنے والی سب سے کم عمر خاتون ہیں۔ وہ پندرہ سال کی عمر میں لندن آ گئی تھیں اور آج کل امریکہ میں طالب علم ہیں۔ ’دی انہیریٹنس آف لاس‘ ان کا دوسرا ناول ہے۔

پچاس ہزار پاؤنڈ کے انعام کے لیئے چھ مصنفوں میں مقابلہ تھا۔ سارہ واٹرز کو ان کے ناول ’دی نائٹ واچ‘ پر انعام کے لیئے پسندید قرار دیا جا رہا تھا۔

کرن دِسائی نے اپنے ناول کے بارے میں کہا کہ ’یہ کتاب میں نے اپنے والدین، ان کے والدین، اپنی کہانی اور دراصل اصل میں ٹوٹے ہوئے لوگوں کی کہانیاں اور آدھی زندگیوں اور ایک چوتھائی زندگیوں اور خوف اور کمیوں سے بھری زندگیوں کے بارے میں لکھتے ہوئے لکھی ہے‘۔

کامیابی کی وجہ
 جنہوں نے انیتا دِسائی کو پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کرن دِسائی نے اپنی ماں کے کام سے سیکھا ہے۔ دونوں صرف بھارت کے لیئے نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھارتیوں کے لیئے لکھتی ہیں۔ ناول انسانی جذبے سے بھرپور ہے اور میرے خیال میں یہی اس کی کامیابی کی وجہ بنی
پینل کی سربراہ
انعام کے دیگر امیدواروں میں ایڈورڈ سینٹ اوبِن ناول ’مدرز ملک‘ کے لیئے، کیٹ گرینویل ناول ’دی سیکرٹ رِور‘ کے لیئے، ایم جے ہائیلینڈ ناول ’کیری می ڈاؤن‘ کے لیئے اور ہشام متر ناول ’ان دی کنٹری آف مین‘ کے لیئے مقابلے میں تھے۔

گزشتہ سال یہ انعام جان بینویل کو ناول ’دی سی‘ کے لیئے دیا گیا تھا۔

کرن دِسائی بھارت سے تعلق رکھنے والی دوسری مصنفہ ہیں جنہیں انگریزی زبان میں لکھے گئے ناول پر بکر پرائز ملا ہے۔ اس سے پہلے بُکر پرائز ارون دتی رائے کو ’گاڈ آف سمال تھِنگز‘ پر ملا تھا۔

کرن دِسائی نے اپنا ناول اپنی ماں اور ناول نگار انیتا ڈسائی کے نام کیا ہے جو تین بار اس کے لیئے نامزد ہو چکی ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوئیں۔

ججوں کے پینل کی سربراہ ہرمیون لی نے کہا کہ ’جنہوں نے انیتا دِسائی کو پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کرن دِسائی نے اپنی ماں کے کام سے سیکھا ہے۔ دونوں صرف بھارت کے لیئے نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھارتیوں کے لیئے لکھتی ہیں‘۔ ’ناول انسانی جذبے سے بھرپور ہے اور میرے خیال میں یہی اس کی کامیابی کی وجہ بنی‘۔

کرن دِسائی کا ناول کیمبرج سے تعلیم یافتہ ایک بھارتی جج کی کہانی ہے جو ہمالیہ میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ جج کی زندگی میں سکون کے ان کی یتیم پوتی کی آمد اور ان کے باورچی کی امریکی محکمۂ امیگریشن کو دھوکہ دینے کی کوششوں سے برباد ہو نے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں
بکیز کی پسند ڈیوڈ مچل
22 September, 2004 | فن فنکار
بُکر انعام، رشدی اب شامل نہیں
09 September, 2005 | فن فنکار
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد