ملتان میں انٹرایکٹو تھیٹر میلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مُلتان کے لوگوں نے دسمبر میں ایک نئی طرز کا تھیٹر دیکھا ہے۔ سٹیج پر کچھ لوگ آکر روزمرہ زندگی کا کوئی مسئلہ ایک مختصر تمثیل کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور آخر میں اسکا ایک ممکن حل بھی سامنے آتا ہے۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ کھیل کا ڈائریکٹر سٹیج پر آکر حاضرین سے دریافت کرتا ہے کہ کیا مسئلے کا یہ حل انھیں قبول ہے۔ اگر حاضرین میں سے کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے سٹیج پر آکر اس کردار کا روپ دھارنے کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ کھیل کو اپنے سوچے ہوئے مختلف انجام کی طرف لے جاسکے۔ ’تھیٹر آف دی اوپریسڈ‘ یعنی مظلوموں کا ناٹک، تھیٹر کی تاریخ میں ایک انقلابی قدم ہے۔ اس کا آغاز آج سے چالیس برس پہلے برازیل کے ایک مزدور لیڈر اور تھیٹر ڈائریکٹر آگستو بول نے کیا تھا۔
ظلم کے شکنجے میں پھنسے ہوئے بے زبان عوام جب سٹیج پر ایک تمثیلی صورتِحال کو تبدیل ہوتا دیکھتے تو انھیں احساس ہوتا کہ اصل زندگی میں بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ برازیل کے فوجی حکمران اس انقلابی قسم کے ناٹک سے اتنے خائف تھے کہ انھوں نے اس نئے تھیٹر کے بانی آگستو بول کو پہلے توگرفتار کر کے اس پر کافی تشدّد کیا لیکن پھر اسے اپنے لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہوئے ملک بدر کر دیا۔ آگستو نے پندرہ برس تک ارجنٹائن، پرتگال اور فرانس میں جلا وطنی کے دِن گزارے لیکن آخرِکار وہ وطن لوٹ آئے اور مظلوموں کے لئے سٹیج کا کام جاری رکھا۔ آگستو کی تکنیک جلد ہی ’اِنٹرایکِٹیو تھیٹر‘ کے عمومی نام سے دنیا بھر میں مقبول ہوگئی اورلاطینی امریکہ کے ساتھ ساتھ ایشیا اور افریقہ کے عوام نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنے مسائل کو پوری طرح سمجھنے اور ان کے حل کی تلاش کےلیے ایک عملی اقدام کے طور پر اسکا استعمال شروع کیا۔ بنگال، تمل ناڈو اور مہاراشٹر میں اِس طرح کا تھیٹر راتوں رات مقبول ہوگیا۔ بھارتی ریاست پنجاب میں بھی اسکا چلن برسوں پہلے دیکھنے میں آگیا تھا لیکن پاکستان میں اس کا آغاز محمد وسیم نامی ایک نوجوان کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔
لیکن وہ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم اگر معاشرے میں ناٹک کے ذریعے کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اِنٹرایکٹو یا تفاعلی تھیٹر کا سہارا لینا ہوگا۔ امریکہ اور یورپ کے اوّلین دورے سے لوٹتے ہی محمد وسیم نے پاکستان میں اِنٹرایکٹو تھیٹر کی بنیاد ڈالی اور پچھلے چھ برس کے دوران ملک کے طول و عرض میں انھوں نے سینکڑوں گروپ تخلیق کر کے انھیں اِس تفاعلی تھیٹر کی تربیت دی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں اس تھیٹر کے کوئی 500 شو سالانہ منعقد ہوتے ہیں۔
ملک بھر میں پھیلی ہوئی یہ ناٹک منڈلیاں سال میں ایک مرتبہ کسی بڑے شہر میں اکٹھی ہوکر سال بھر کے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتی ہیں اور اہلِ شہر کو بھی اپنی تمثیلی کاوشوں سے متعارف کراتی ہیں۔ لاہور اور کراچی میں کامیاب تجربات کے بعد اس برس یہ تمام تھیٹر گروپ ملتان میں اکٹھے ہوئے جہاں انھوں نے ملک کو درپیش مختلف مسائل پر 9 کھیل پیش کیے۔ اس برس کے موضوعات میں پاک و ہند تعلقات، عورتوں پر گھریلو تشدد ، سندھ میں منچھر جھیل کے مچھیروں کی نقل مکانی، خشک سالی اور سیلاب کے مسائل، اولادِ نرینہ کی حِرص، بیٹی کو جنم دینے والی عورت کی معاشرتی مُشکلات، سرکاری سکولوں میں تعلیم و تدریس کی صورتِ حال اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات شامل تھے۔ حسبِ روایت ہر تمثیل کے بعد ڈائریکٹر محمد وسیم اسٹیج پر آکر حاضرین سے پوچھتے تھے کہ وہ کھیل کے انجام کو منظور کرتے ہیں یا نامنظور۔ نامنظوری کو صورت میں وہ حاضرین کو دعوت دیتے تھے کہ سٹیج پر آکر کسی کردار کا روپ دھاریں اور جو کچھ سٹیج پر نہیں ہوا، وہ کر دکھائیں۔ طالب علموں، وکیلوں، سرکاری عہدے داروں اور سوشل ورکروں کے علاوہ گھریلو خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بھی ملتان کی آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والا یہ تھیٹر میلہ دیکھا اور مقدور بھر اس میں حصّہ بھی لیا۔ | اسی بارے میں بچوں کا کھیل ’بارڈر بارڈر‘14 September, 2004 | فن فنکار ’۔۔۔ قمیض اتارنا شروع کردی تھی‘16 July, 2004 | فن فنکار پاٹے خان دلی میں14 January, 2005 | فن فنکار ’ویراں ہے میکدہ‘22 April, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||