عارف وقار بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | ’سرامکس کا آرٹ بہت آگے جا چُکا ہے‘ |
لاہور کی الحمراء آرٹ گیلری میں مصّوری، نقاشی اور میناکاری کی نمائش تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن آج کل وہاں ظروف سازی کی ایک ایسی نمائش جاری ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ ’سرامکس‘ کو اب تک محض کُوزہ گری کا فن سمجھا جاتا تھا لیکن کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے فنکاروں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ فن پیالے یا صراحیاں بنانے تک محدود نہیں بلکہ۔۔۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔ اور تخیّل کو کچھ مہمیز دی جائے تو گیلی مٹی کا تودہ حیران کُن صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہء سرامکس سے تعلق رکھنے والی کیف غزنوی نے ایسے ہی صورت گروں کے شہ پارے ملک بھر سے اکٹھے کیے اور الحمراء آرٹ گیلری کی کیوریٹر تانیہ سہیل کے سامنے پیش کر دیے۔ اب یہ تمام نمونے ایک شاندار نمائش کی شکل میں شائقینِ فن کو دعوتِ نظارہ دے رہے ہیں۔  | | | ظروف سازی کے فن کو کاروبار اور ملازمتوں سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے: کیف غزنوی |
کیوریٹر تانیہ سہیل کا کہنا ہے کہ ظروف سازی یا سرامکس نسبتاً ایک نیا فن ہے اور اسے سارے ملک میں بھرپور طریقے سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش سے سبھی پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سرامکس کا آرٹ بہت آگے جا چُکا ہے۔ اب نہ تو اس کا بنیادی میٹریل محض کلے یعنی مٹّی تک محدود ہے اور نہ ہی اسکا دائرہ کار صرف برتنوں پر اکتفاء کرتا ہے۔ نمائش کی منتظم کیف غزنوی نے بتایا کہ مختلف طرح کی مٹی کے ساتھ ساتھ اب کاغذ، پتھر، روئی، پتّے اور لکڑی بھی ظروف سازوں کے استعمال میں آرہی ہے اور اُن کا فن روز بروز نکھرتا اور سنورتا جا رہا ہے۔  | ذرا نم ہو تو یہ مٹّی ۔۔۔  سرامکس ٰ کو اب تک محض کُوزہ گری کا فن سمجھا جاتا تھا لیکن کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے فنکاروں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ فن پیالے یا صراحیاں بنانے تک محدود نہیں  |
کراچی کے معروف مرکزِ فنون سندھ ویلی سے تعلق رکھنے والی سعدیہ سلیم جو ظروف سازی کے کئی نمونے اپنے ساتھ لے کر لاہور آئی ہیں، کہتی ہیں کہ اس طرح کی نمائشیں ملک بھر میں منعقد ہونی چاہیئں تاکہ ہر شہر کے شائقین اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ نمائش کی منتظم کیف غزنوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فی الحال کاروبار اور ملازمتوں کی دنیا میں اس فن کا کوئی عمل دخل نہیں اور ظروف سازی میں اعلٰی مہارت رکھنے والا شخص بھی کہیں اچھی ملازمت نہیں حاصل کر سکتا لیکن اس طرح کی نمائشوں کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں سرامکس کے مختلف پہلوؤں کا شعور پیدا ہو اور اس فن کے ماہرین کی معاشرے میں پذیرائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس فن کی تحسین سب سے پہلے میوزیم کے کارپردازوں کو کرنی چاہیئے کیونکہ جب تک عجائب گھروں کی انتظامیہ اس فن کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرے گی معاشرے کے دیگر شعبوں میں اس کا بھرپور تعارف بھی نہیں ہو سکے گا۔  | | | انڈس ویلی کی سعدیہ سلیم کا کہنا ہے کہ ایسی نمائشیں ملک کے طول و عرض میں منعقد ہونی چاہیئں |
لاہور کی الحمراء آرٹ گیلری میں جاری یہ نمائش اگرچہ طالب علموں اور آرٹ کے عام شیدائیوں کی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے لیکن نمائش دیکھنے والے کچھ لوگ مخمصے میں مبتلا پائے گئے کیونکہ پیالے، صراحیاں، کپ، ڈِبّے، اور ڈھکنے تو اُن کی سمجھ میں آتے تھے لیکن بجلی کے تاروں کا ایک گچّھا فرش پر پڑا دیکھ کر وہ دیر تک اس بحث میں مبتلا رہے کہ یہ آرٹ کا کوئی نمونہ ہے یا کوئی الیکٹریشن اپنا کام ادھورا چھوڑ گیا ہے۔ |