آرٹ مارکیٹ میں برطانیہ غریب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی عجائب گھر اور آرٹ گیلریز مالی وسائل کی کمیابی کے باعث آرٹ کے فن پارے اس طرح نہیں خرید پا رہا جس طرح اس دوڑ میں شامل دوسرے ممالک خرید رہے ہیں۔ ایک برطانوی ادارے ’آرٹ فنڈ‘ کی طرف سے کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے شہر نیو یارک کے عجائب گھر ’میٹروپولیٹن میوزیم‘ نے دو سالوں ( دوہزار چار اور دوہزار پانچ) کے دوران فن پاروں کی خرید پر ساڑھے تریپن ملین پاؤنڈز خرچ کیے۔ نیو یارک ہی کی ’موما گیلری‘ نے اسی مد میں بیس ملین پاؤنڈز اور فرانس کے دارالحکومت پیرس کی ’لور‘ گیلری نے تقریباً سترہ ملین پاؤنڈز خرچ کیے۔ لیکن دو سال کے اس عرصہ میں لندن کی ’نیشنل گیلری‘ نے فن پاروں کی خرید پر بمشکل ساڑھے چھ ملین پاؤنڈز خرچ کیے۔ برطانیہ کی چار ’ٹیٹ گیلریز‘ نے کل ملا کے اس عرصہ میں صرف اڑتالیس لاکھ پاؤنڈز اور ’برٹش میوزیم‘ نے سات لاکھ اکسٹھ ہزار پاؤنڈز نئے فن پاروں کی خرید پر خرچ کیے۔ آرٹ فنڈ کے ڈاریکٹر ڈیوڈ بیری کے مطابق (نیو یارک، پیرس اور لندن میں فن
پرانے اور نئے معروف مصوروں کے فن پاروں کی نیلامی میں لگنے والی قیمتوں میں حالیہ برسوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ڈیوڈ بیری کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگرچہ پچھلے نو سالوں کے دوران عجائب گھروں اور آرٹ گیلریز کے وسائل بڑھانے پر کافی توجہ دی ہے ’لیکن تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ہم اس معاملے میں باقی دنیا سے مقابلہ نہیں کر پا رہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں لوگوں اور نجی کاروباری اداروں کو آرٹ کے فن پارے خریدنے پر ٹیکس میں کافی چھوٹ دی جاتی ہے۔ ’ اگر سرکار کے پاس وسائل کی کمی ہے تو برطانوی حکومت کو بھی اسی طرح نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی‘۔ آرٹ فنڈ نے گذشتہ سال برطانوی عجائب گھروں اور آرٹ گیلریز کو چار ملین پاؤنڈز کا عطیہ دیا تھا۔ | اسی بارے میں ہٹلر کی پینٹنگز اور سکیچ نیلام27 September, 2006 | فن فنکار پکاسو کی تصویر95 ملین ڈالر میں04 May, 2006 | آس پاس لاہور میں ایشیائی آرٹ کی نمائش23 February, 2006 | فن فنکار عجائب گھروں کا عالمی دن18 May, 2005 | فن فنکار آرٹ گیلری: ننگوں کے لیے داخلہ مفت31 July, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||