 | | | یہودیوں کی تنظیم کے احتجاج کے بحد نازی رہنما ہٹلر کی بنائی ہوئی اس پینٹنگ کی نمائش روک دی گئی تھی |
انگلینڈ کے جنوب مغرب میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے میں ایسی تصویروں کی فروخت ہوئی ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہٹلر کی بنائی ہوئی ہیں۔ آبی رنگوں سے بنائی گئی انیس پینٹنگز اور دو سکیچ نیلامی کے نتیجے میں دو سو چوبیس ہزار یا دو لاکھ چوبیس ہزار ڈالر میں فروخت ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ نیلام کرنے والوں کے خیال میں یہ قیمت ان کی توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ ان تصاویر کی ملکیت کی تاریخ اور ان کی یہاں تک رسائی کے بارے میں تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہیں لیکن نیلام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ مصوری کے یہ نمونے ایڈولف ہٹلر ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تصویرین بلیجین کے ایک ایسے فارم ہاؤس سے ملی تھیں جہاں ہٹلت پہلی جنگ عظم کے دوران مقرر تھا۔ اس سے پہلے بھی ہٹلر کی مصوری کے کئی نمونے سامنے آچکے ہیں۔ دو سال پہلے جاپان میں فلموں کے ایک تقسیم کار نے یہودیوں کی تنظیم کے احتجاج کے بحد نازی رہنما ہٹلر کی بنائی ہوئی اس پینٹنگ کی نمائش روک دی گئی تھی۔ یہودیوں کی تنظیم کا موقف تھا کہ اس پینٹنگ کی نیلامی سے یہودیوں کے قتل عام کی یاد تازہ ہوگی۔ اس تصویر میں ویانہ کا ایک گرجا گھر دکھایا گیا ہے۔ پینٹنگ کی نمائش ٹوکیو تھیٹر میں سنیچر کو ہونی تھی جس کا مقصد ہٹلر کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم کو فروغ دینا تھا۔ |