BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 August, 2006, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہٹلر کیفے، اسرائیلی سفیر ناراض

ہٹلر کراس
ہٹلر کراس کے مالکان نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے
ممبئی میں اسرائیلی قونصل جنرل ڈینیل زونشائین نے ’ہٹلر کراس‘ نامی کیفے بنائے جانے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ممبئی کے مضافات میں نوی ممبئی کے کھارگھر علاقہ میں اٹھارہ اگست کے روز ایک کیفے کا افتتاح ہوا ہے جس کا نام روڈؤلف ہٹلر کے نام پر رکھا گیا ہے۔ نام کی تختی پر سواستک کا نشان بھی ہے جو ہٹلر کی پہچان تھا ۔

قونصل جنرل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا ہٹلر کو ایک قاتل کے روپ میں یاد رکھتی ہے اور آج کی اس مہذب دور میں ایسے شخص کے نام اور اس کی شخصیت کو اس طرح شان کے ساتھ یاد کرنا انسانیت کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہٹلر کے گیس چیمبر میں ان کے عزیز و اقرباء ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ وہ یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ اس کیفے کے نام کی وجہ سے انہیں صرف ممبئی ہی نہیں پوری دنیا سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اسی کے ساتھ صرف یہودی ہی نہیں انہیں تو ممبئی میں مقیم جرمنی کے قونصل جنرل نے بھی فون کر کے اس پر افسوس کا ظاہر کیا ہے۔

ہٹلر کراس کیفے
 لوگوں نے ہٹلر کو صرف ایک نظریہ سے دیکھا لیکن ہٹلر کا دوسرا روپ ان کی نظر میں ایک فاتح کا ہے اور وہ بھی چونکہ کیفے کی دنیا میں سب سے بازی مارنا چاہتے ہیں اس لیئے انہوں نے اپنے کیفے کا نام ’ہٹلر کراس‘ رکھا۔
کیفے مالکان

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلہ میں نوی ممبئی اور ریاست مہاراشٹر کے حکام کو خط لکھ کر اپنے اور اپنی قوم کے جذبات سے انہیں آگاہ کرئیں گے اور انہیں یقین ہے کہ انڈین حکام ان کی قوم کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے کیفے کا نام تبدیل کرنے پر غور کریں گے۔

ممبئی اور اس کے اطراف میں ساڑھے چار سے پانچ ہزار کے قریب یہودی آباد ہیں۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کے جنرل سیکریٹری ابراھم متھائی نے کہا کہ انہیں اس کیفے کے بارے میں خبر ملی ہے لیکن کسی نے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی ہے اگر کوئی شکایت درج کرتا ہے تب کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کرے گا۔

متھائی نے البتہ اس طرح کسی فرقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انڈو اسرائیلی چیمبر آف کامرس اینڈ کلچر سے منسلک گل کرپلانی نے کیفے کا نام ہٹلر رکھنے جانے پر کیفے مالکان کی نیت اور جذبہ پر شک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کی بجائے اگر وہ کسی بھی فرقہ کے کسی اچھے شخص کے نام سے کیفے کو منسوب کرتے ہیں تو بھی ان کی تشہیر کا مقصد حل ہوسکتا تھا لیکن کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر تشہیر حاصل کرنا انتہائی غلط مثال ہے۔

کیفے مالکان پنیت سبلوک اور شاکر صدیقی لوگوں کے عائد تمام الزامات کی نفی کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف ایک نام دیا ہے ۔ان کی نظر میں لوگوں نے ہٹلر کو صرف ایک نظریہ سے دیکھا لیکن ہٹلر کا دوسرا روپ ان کی نظر میں ایک فاتح کا ہے اور وہ بھی چونکہ کیفے کی دنیا میں سب سے بازی مارنا چاہتے ہیں اس لیئے انہوں نے اپنے کیفے کا نام ’ہٹلر کراس‘ رکھا۔

شاکر صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں اس کیفے کا نام تبدیل نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے صرف نام کا استعمال کیا ہے اور بقیہ کسی اور طرح سے ہٹلر یا اس کے نظریہ کی تشہیر نہیں ہو رہی ہے۔

انہوں نے میڈیا کو غلط تشہیر کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ جلد ہی وہ شہر میں باندرہ اور اندھیری میں اسی نام سے کیفے شروع کریں گے۔

کیفے میں حقہ پیتے ابھیشیک نے بتایا کہ انہیں کیفے کے منفرد نام نے ہی یہاں آنے پر مجبور کیا۔ لیکن یہاں ہر چیز ویسی ہی ہے جیسے ممبئی کے دیگر کیفے میں ہوتی ہے البتہ نوی ممبئی میں اس طرز کا کوئی کیفے نہیں ہے اس لیئے وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ آتے ہیں۔

اسی بارے میں
ممبئی میں ہائی الرٹ
20 August, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد