BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 May, 2005, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عجائب گھروں کا عالمی دن

 مصر میں اٹھارہ سو پینتیس میں بننے والا پہلا ممی میوزیم
مصر میں اٹھارہ سو پینتیس میں بننے والا پہلا ممی میوزیم
اقوام متحدہ کےادارے یونیسکو کے تعاون سےانیس سو چھیالیس میں قائم ہونے والی دنیا بھر کے عجائب خانوں کی تنظیم انٹر نیشنل کونسل آف میوزیم نے مئی انیس سو ستتر میں ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں انیس سو اٹھہتر سے ہر سال اٹھارہ مئی کوانٹرنیشنل میوزیم ڈے منانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد سے اب ہر سال اس کونسل کے ایک سو چھیالیس رکن ممالک اور بیس ہزار سے زیادہ انفرادی ارکان اس دن کواس نکتہ نظر کے ساتھ مناتے ہیں کہ دنیا بھر کے عوام میں تہزیب اور تاریخ کے ساتھ ماضی کو مخفوظ رکھنے اور اسکے مسلسل مطالعے کا شعور پیدا کیا جائے۔

انیس سو بانوے میں تنظیم کے فیصلے کے مطابق اس برس دو ہزار پانچ میں میوزیم کے عالمی دن کا موضوع ’عجائب گھر ثقافتوں کے درمیان پل‘ ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں تو شاید اس عالمی دن کے بارے میں اتنی شناسائی اور بیداری نہیں ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اس موقع پر عام طور پہ بڑے بڑے عجائب گھروں کے دروازے بھی عوام اور خاص طور پر سکولوں کے بچوں کے لیے مفت کھول دیے جاتے ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ بھی اگرچہ اس امر کا تعین نہیں کر سکےکہ دنیا کا پہلا عجائب گھر کہاں اور کب قائم ہوا تھا لیکن جن قدیم میوزیم کے آثار ملے ہیں انکا تعلق بابل و نینوا، مصر، چین اور یونان کی تہذیبوں سے بھی ہے۔

دنیا بھر میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں میوزیم نہ ہو البتہ فرق فقط تعداد کا ہے۔ امریکہ میں اسوقت ڈیڑھ ہزار کے قریب میوزیم اور تاریخی مواد محفوظ رکھنے والی گیلریاں ہیں جبکہ برطانیہ میں ویسے تو سینکڑوں کی تعداد میں میوزیم ہیں لیکن قومی اور نہایت وسیع عجائب گھروں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جن میں سب سے زیادہ مقبول برٹش میوزیم، نیچرل ہسٹری میوزم، سائنس میوزیم لندن، ریلوے میوزیم لندن، آرٹ میوزیم مانچسٹر، فوٹو گرافی فلم اور ٹیلی ویژن کا قومی میوزیم، مومی مجسموں کا معروف زمانہ مادام تساد، ٹاور برج اور رائل میوزیم وغیرہ شامل ہیں۔ انٹر نیٹ کی دنیا نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور برطانیہ کی ایسی ایک ویب سائٹ پر پانچ سو بیالیس میوزیم ہیں۔

روس میں بھی عجائب گھروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور صرف ماسکواور سینٹ پیٹرز برگ میں پچیس کی قریب بڑے عجائب گھر ہیں۔ روس میں تھیٹر، کتابوں، موسیقی، تاریخ، حیوانات، فوج، سائنس اور طرز رہائش سے متعلقہ میوزیم میں لوگ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بڑے بڑے میوزیم کے تعداد نیدر لینڈ میں انتالیس، فرانس میں چالیس، آسٹریلیا میں پچیس، ڈنمارک میں بیس، ناروے کے علاوہ اسرائیل آئرلینڈ اور یونان میں انیس اور فن لینڈ جیسے چھوٹے سے ملک میں پندرہ ہے۔ مصر میں فراعین مصر کی ممیوں کے مخصوص میوزیم دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے خاص دلچسپی کے حامل ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں اگرچہ تعداد کے اعتبار سے تو عجائب گھراتنے زیادہ نہیں ہیں لیکن قدیم تاریخ اور انسانی تہزیب کے ارتقا کے اہم ادوار کے حوالے سے کئی ایسے اہم میوزیم ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دور دور سے سیاح آتے ہیں۔ لیکن ان ممالک میں بچوں نوجوانوں اورعام شہریوں کو یہ میوزیم دیکھنےکیطرف راغب کرنے کی کوششوں کا شدید فقدان ہے۔

بھارت میں تاج محل جیسی لافانی یادگار کے علاوہ ملک میں متعدد ریاستی عجائب گھر ہیں لیکن قومی اہمیت کے حامل میوزیم میں نیشنل میوزیم دلی، سٹیٹ میوزیم چنائی، لکھنؤاور پٹنہ کے علاوہ سالار جنگ میوزیم حیدرآباد، منی پور اور میزو رام سٹیٹ میوزیم، احمدآباد کا ٹیکسٹائل میوزیم اور بھوپال کاسنٹرل میوزیم شامل ہیں۔

بھارت میں پہلا سیکس یعنی جنسی میوزیم دو ہزار دو میں بمبئی میں قائم کیا گیا جس کا مقصد ایڈز اور جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے بارے میں شعور کو بیدار کرنا بتایا گیا ہے۔اس میوزیم کی دیواروں پر جنس کے بارے میں قدیم ہندوستانی کتاب کاما سوترا سے لئے گئے اقتباسات لکھے گئے ہیں

پاکستان میں قدیم ترین میوزیم لاہور کا عجائب گھر ہے جسکی بنیاد اٹھارہ سو پچپن میں رکھی گئی تھی اور یہاں گندھارا آرٹ کے نایاب ترین مجسموں کے علاوہ منی ایچر مصوری کے تاریخی تین ہزار نمونے اور چالیس ہزار سے زیادہ سونے-چاندی اور تانبے کے سکے موجود ہیں جبکہ اسکی لائبریری میں تیس ہزار سے زائد کتابیں جرائد اخبارات اور تاریخی دستاویزات موجود ہیں۔ عالمی سطح پر معروف پاکستانی عجائب گھروں میں ٹیکسلا اور ہڑپہ کے عجائب گھر شامل ہیں۔ اسلام آباد میں ستر کے عشرے کے اواخر میں قائم ہونے والے ملک کے واحد نیچرل ہسٹری میوزیم کی بارے میں ملک کے غالب اکثریت کو بھی آگاہی نہیں ہے اور اسی طرح کراچی میں ملک کا قومی عجائب گھر بھی کوئی اچھی حالت میں نہیں ہے۔ اسکی بنیاد انیس سو اکہتر میں رکھی گئی تھی لیکن چونتیس سال کے عرصے میں ہی یہ انتظامی عدم توجہی کا شکار ہو چکا ہے جبکہ دنیا بھر میں عجائب خانوں کی عمارتیں صدیوں پرانی ہیں۔

ایشیاکا سب سے بڑا نجی عجائب گھر لاہور کے بھاٹی دروازے میں ہے اور سترہ سو ستتر میں اسے فقیر خاندان نے قائم کیا تھا جسکی مناسبت سے اس کا نام بھی ’فقیر خانہ میوزیم‘ ہے اور اس میں سکھ اور مغلیہ عہد کی علاوہ برصغیر میں مختلف اسلامی عہد کی تیس ہزار سے زیادہ نادرونایاب چیزیں ہیں۔

اس وقت کتنے ہی ملکوں میں انواع و اقسام کے ایسے ایسے میوزیم ہیں جنکے بارے میں عام آدمی کبھی سوچتا بھی نہیں ہے جیسے نیدر لینڈ کے ایک عام شہری وان گراف نے اپنا ایک ایسا نجی میوزیم بنایا ہے جس میں دنیا کے ایک سو سے زیادہ ملکوں میں مختلف عہد میں بننے والی ماچس کی ڈبیوں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ امریکہ کی ریاست اریزونا میں ایک چھوٹی سی تنظیم نے ایک اچھوتا میوزیم بنایا ہوا ہے جسے بڑی تعداد میں لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور اس میوزیم میں دنیا بھر کے مختلف علاقوں کے علاوہ امریکہ کی مختلف ریاستوں کی چیونٹیوں کو حنوط صورت میں رکھا ہوا ہے۔ ان میں چھوٹی ترین چیونٹی سوئی کی نوک کے برابرہے جبکہ سب سے بڑا چیونٹا یا چیونٹی کاکروچ یعنی لال بیگ کے برابر ہے۔ اسی میوزیم میں زندہ چیونٹیوں کا بھی بڑا دخیرہ ہے جن میں عرب کے صحرا کی اور افریقہ کی گوشت خور چیونٹیاں خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد