BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی کے ’ٹریفِک سِگنل‘ کی سچائیاں

فلم ٹریفک سگنل
کونکنا سین نے جسم فروش عورت کا کردار کیا ہے
روز مرہ کی زندگی، ہمارا سماج اور اس کے قوانین ، زندگی اور جینے کے مختلف انداز۔ ہم ہر روز ان سے روبرو ہوتے ہیں لیکن کبھی ان پر توجہ دینا پسند نہیں کرتے یا پھر ان سے نظریں بچا کر گزر جانا بہتر سمجھتے ہیں۔

زندگی کے انہی پہلوؤں کو آپ کے سامنے رکھنے یا انہیں بے نقاب کرکے آپ کے سامنے پردے پر لانے کے فن کو ہی ’ریالٹی‘ سنیما کا نام دیا گیاہے۔

آرٹ اور ریالٹی سنیما میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ بالی وڈ میں ایک دور آرٹ سنیما کا بھی تھا۔ ہدایت کار شیام بینیگل، گووند نہلانی اور اداکاروں میں نصیرالدین شاہ، سمتا پاٹل، شبانہ اعظمی اور اوم پوری اس سنیما کے یادگار کردار ر ہے۔

آج کل کمرشیل سنیما کا دور ہے لیکن آرٹ یا تجارتی آرٹ فلمیں بھی مقبول ہیں اور بعض فلمساز آرٹ اور ریالٹی سنیما کو کمرشیل شکل میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک ہدایت کار مدھر بھنڈارکر بھی ہیں۔

مدھر بنڈارکر دوبار نیشنل فلم اوارڈسے نوازے جا چکے ہیں
مسٹر بھنڈارکر کی فلم چاندنی بار، ستہ، پیج تھری اور کارپوریٹ جیسی حقیقی زندگي پرمبنی کامیاب فلمیں بنائی ہیں۔ انہیں چاندنی بار اور پیج تھری کے لیے نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

اسی طرز پر بھنڈارکر نےاس بار ممبئی کے ’ٹریفک سگنل ‘ پر فلم بنائی ہے جس کا نام بھی انہوں نے ٹریفک سگنل رکھا ہے۔ ممبئی کا شہری روزانہ کئی مرتبہ ان ٹریفک سگنلز سے گزرتا ہے جہاں صرف چند منٹ کے لیے اسے ٹھہرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کی نظروں نے وہ سب نہیں دیکھا ہوگا جو مسٹر بھنڈارکر نے اپنی فلم کے ذریعہ اسے ناظرین تک پہچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فلم دو فروری کو رلیز ہورہی ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے مسٹر بھنڈارکر سے ان کی فلموں کے متعلق بات چیت کی۔ مسٹر بھنڈارکر کا کہنا ہے کہ وہ سماج کی ان کڑوی سچائیوں کو ناظرین کے سامنے لانا چاہتے ہیں جس سے ہم اکثر نظریں چرا کر گزرنا پسند کرتے ہیں یا بہت لوگ اس سے واقف بھی نہیں ہوتے۔’میں ایک طرح سے سماج کے تئیں اپنا فرض پورا کرنا چاہتا ہوں چونکہ میں فلمساز ہوں اس لیے میں نے یہ طریقہ پسند کیا۔‘

فلم میں ممبئی کی عام زندگی کی جھلک ہے
بھنڈارکر کو ’ٹریفِک سِگنل‘ فلم بنانے کا خیال نو سال پہلے آیا تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ نو برسوں سے وہ اپنے گھر سے پیدل پربھا دیوی میں واقع سدھی ونائیک مندر میں بھگوان کے درشن کے لیے آتے تھے اور اسی دوران انہوں نے دیکھا کہ کس طرح ٹریفک سگنل پر جب گاڑیاں رک جاتی ہیں تو ان چند منٹوں میں گجرا بیچنے والیاں، اخبار میگزین فروخت کرنے والے بچے، تالیاں بجا کر پیسہ مانگنے والے زنخے، بھیک مانگنے والی عورتیں، کاروں کی طرف دوڑ پڑتی ہیں۔ وہی چند منٹ ایک پوری دنیا بناتے ہیں اور اس دنیا کے سچ سے بہت لوگ ناواقف بھی ہیں۔

مسٹر بھنڈارکر کے مطابق ’فلم میں کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے کردار ہیں۔ اداکار کنال کھیمو ہے جو ٹریفک سگنل پر اپنا سامان فروخت کرنے اور بھیک مانگنے والوں کا لیڈر ہے وہ ان سے پیسے لے کر مافیا کو دیتا ہے کیونکہ ممبئی کا ہر علاقہ اور اس کا ٹریفک سگنل اس علاقے کے مافیا کے قبضہ میں ہوتا ہے۔‘

اداکارہ کونکنا سین نے اس فلم میں جسم فرش عورت کا کردار کیا ہے۔ ٹریفک سگنل پر کھڑی ہو کر وہ گاہک کو رجھاتی ہیں اور ان کے ساتھ نشہ باز رنویر شوری ہیں۔

فلم میں کہانی نہیں بلکہ کردارپر زور ہے اور وہی اس کی جان ہیں
سینسر بورڈ نے اس فلم کے چند مکالمے نکال دیے ہیں۔ مسٹر بھنڈارکر کے مطابق اگر وہ مکالمے نہیں نکالے جاتے تو شاید فلم کو’یو‘ سرٹیفکٹ نہیں ملتا اور فلم بالغوں کے لیے مختص کر دی جاتی۔’میں چاہتا تھا کہ یہ فلم سماجی تنظیموں کو دکھاؤں اسی لیے میں نے سمجھوتہ کرلیا اور یہ فلم ٹریفک سگنل پر رہنے والے بچے بھی دیکھیں کیونکہ وہی اس فلم کے ہیرو ہیں۔‘

مسٹر بھنڈارکر کی نظر میں اگر کڑوی گولیوں پر شکر کی تہہ لگا کر دی جائے تو لوگ اسے آسانی کے ساتھ نگل سکتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے زندگی کی کڑوی سچائیوں کو فکشن کے ساتھ لوگوں تک پہنچایاہے۔

مسٹر بھنڈارکر کو اس بات کا افسوس نہیں ہے کہ ان کی فلمیں لندن یا امریکہ میں زیادہ نہیں چلتیں کیونکہ وہ اسے تجارتی نقطہء نظر سے نہیں بناتے۔’ مجھے اس وقت خوشی ہوئی جب لندن میں ایک پروگرام میں مجھے لوگوں نے پہچانا، چند پاکستانی میرے پاس آئے اور انہوں نے میری فلموں کی تعریف کی کہ وہ اسے ڈی وی ڈی پر دیکھ چکے ہیں۔ میرے لئے اس سے بڑا ایوارڈ اور کیا ہو سکتا تھا۔‘

اسی بارے میں
گواعالمی فلم فیسٹیول
23 November, 2006 | انڈیا
ایڈز پر بالی وڈ کی پہلی فلم
24 August, 2004 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد