ممبئی کے ’ٹریفِک سِگنل‘ کی سچائیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روز مرہ کی زندگی، ہمارا سماج اور اس کے قوانین ، زندگی اور جینے کے مختلف انداز۔ ہم ہر روز ان سے روبرو ہوتے ہیں لیکن کبھی ان پر توجہ دینا پسند نہیں کرتے یا پھر ان سے نظریں بچا کر گزر جانا بہتر سمجھتے ہیں۔ زندگی کے انہی پہلوؤں کو آپ کے سامنے رکھنے یا انہیں بے نقاب کرکے آپ کے سامنے پردے پر لانے کے فن کو ہی ’ریالٹی‘ سنیما کا نام دیا گیاہے۔ آرٹ اور ریالٹی سنیما میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ بالی وڈ میں ایک دور آرٹ سنیما کا بھی تھا۔ ہدایت کار شیام بینیگل، گووند نہلانی اور اداکاروں میں نصیرالدین شاہ، سمتا پاٹل، شبانہ اعظمی اور اوم پوری اس سنیما کے یادگار کردار ر ہے۔ آج کل کمرشیل سنیما کا دور ہے لیکن آرٹ یا تجارتی آرٹ فلمیں بھی مقبول ہیں اور بعض فلمساز آرٹ اور ریالٹی سنیما کو کمرشیل شکل میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک ہدایت کار مدھر بھنڈارکر بھی ہیں۔
اسی طرز پر بھنڈارکر نےاس بار ممبئی کے ’ٹریفک سگنل ‘ پر فلم بنائی ہے جس کا نام بھی انہوں نے ٹریفک سگنل رکھا ہے۔ ممبئی کا شہری روزانہ کئی مرتبہ ان ٹریفک سگنلز سے گزرتا ہے جہاں صرف چند منٹ کے لیے اسے ٹھہرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کی نظروں نے وہ سب نہیں دیکھا ہوگا جو مسٹر بھنڈارکر نے اپنی فلم کے ذریعہ اسے ناظرین تک پہچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ فلم دو فروری کو رلیز ہورہی ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے مسٹر بھنڈارکر سے ان کی فلموں کے متعلق بات چیت کی۔ مسٹر بھنڈارکر کا کہنا ہے کہ وہ سماج کی ان کڑوی سچائیوں کو ناظرین کے سامنے لانا چاہتے ہیں جس سے ہم اکثر نظریں چرا کر گزرنا پسند کرتے ہیں یا بہت لوگ اس سے واقف بھی نہیں ہوتے۔’میں ایک طرح سے سماج کے تئیں اپنا فرض پورا کرنا چاہتا ہوں چونکہ میں فلمساز ہوں اس لیے میں نے یہ طریقہ پسند کیا۔‘
مسٹر بھنڈارکر کے مطابق ’فلم میں کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کے کردار ہیں۔ اداکار کنال کھیمو ہے جو ٹریفک سگنل پر اپنا سامان فروخت کرنے اور بھیک مانگنے والوں کا لیڈر ہے وہ ان سے پیسے لے کر مافیا کو دیتا ہے کیونکہ ممبئی کا ہر علاقہ اور اس کا ٹریفک سگنل اس علاقے کے مافیا کے قبضہ میں ہوتا ہے۔‘ اداکارہ کونکنا سین نے اس فلم میں جسم فرش عورت کا کردار کیا ہے۔ ٹریفک سگنل پر کھڑی ہو کر وہ گاہک کو رجھاتی ہیں اور ان کے ساتھ نشہ باز رنویر شوری ہیں۔
مسٹر بھنڈارکر کی نظر میں اگر کڑوی گولیوں پر شکر کی تہہ لگا کر دی جائے تو لوگ اسے آسانی کے ساتھ نگل سکتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے زندگی کی کڑوی سچائیوں کو فکشن کے ساتھ لوگوں تک پہنچایاہے۔ مسٹر بھنڈارکر کو اس بات کا افسوس نہیں ہے کہ ان کی فلمیں لندن یا امریکہ میں زیادہ نہیں چلتیں کیونکہ وہ اسے تجارتی نقطہء نظر سے نہیں بناتے۔’ مجھے اس وقت خوشی ہوئی جب لندن میں ایک پروگرام میں مجھے لوگوں نے پہچانا، چند پاکستانی میرے پاس آئے اور انہوں نے میری فلموں کی تعریف کی کہ وہ اسے ڈی وی ڈی پر دیکھ چکے ہیں۔ میرے لئے اس سے بڑا ایوارڈ اور کیا ہو سکتا تھا۔‘ | اسی بارے میں مالےگاؤں کی منفرد فلمیں31 August, 2006 | انڈیا گواعالمی فلم فیسٹیول23 November, 2006 | انڈیا فلم بابل ریلیز کے لیے تیار، وڈیو01 December, 2006 | انڈیا سات سال بعد’واٹر‘ ہندوستان میں 31 January, 2007 | فن فنکار ایڈز پر بالی وڈ کی پہلی فلم24 August, 2004 | فن فنکار بالی وڈ میں غیر ملکیوں کا اضافہ20 January, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||