سات سال بعد’واٹر‘ ہندوستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کردہ ہندو بیواؤں کے استحصال پر مبنی فلم’ واٹر‘ سات سال کے تنازعے کے بعد اب ہندوستان کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ ہندوستانی نژاد کنیڈین شہری دیپا مہتا نے اس فلم کی ہدایت کا ری کی ہے۔ سات سال قبل بعض سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیموں نے ریاست اتر پردیش کے شہر بنارس میں دیپامہتا کواس فلم کی شوٹنگ روکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دیپا مہتا نے فلم کے کچھ حصے بالی ووڈ اداکارہ شبانہ اعظمیٰ اور نندیتا داس پر بنارس میں فلم بند کیے تھے۔ شوٹنگ کے دوران بنارس میں فلم کے سیٹ میں آگ لگا دی گئی تھی۔ بعض ہندو تنظیموں کا کہنا تھا کہ یہ ہندو مذہبی روایت کو بد نام کرنے والی فلم ہے۔ ہندوستان میں شوٹنگ ممکن نہ ہو نے کے بعد دیپا مہتا نے نئے اداکاروں کے ساتھ سری لنکا میں اس فلم کی دوبارہ شوٹنگ شروع کی۔ آسکر ایوارڈ میں اس فلم کو بیرونی ممالک کی فلموں کے زمرے میں کینیڈا کی جانب سے بھیجاگیا تھا اور اب یہ اس زمرے کی پانچ بہترین فلموں میں منتخب کر لی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسکرز کے لیے ہندوستان کی جانب سے فلم’رنگ دے بسنتی‘ کو بھیجا گیا تھا جو اب اس مقابلے سے باہر ہوچکی ہے۔ فلم’واٹر‘ کو بی آر فلم نامی کمپنی ملک کے مختلف سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کرے گی۔ کمپنی کے بزنس ڈائریکٹر سنجے بھوتیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ فلم کو سینما گھروں تک پہنچانے کی ڈیل آسکرز میں نامزدگی سے پانچ ماہ قبل ہی طے ہوگئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ نجی طور پر اس فلم کی نمائش کے دوران اسے کافی پسند کیا گیا اور اسی وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس فلم کو جلد ہی ہندوستان میں دکھایا جائے گا۔ تاہم اس فلم کو بالی ووڈ فلموں کے برعکس مخصوص سنیما گھروں میں ریلیز کیا جائےگا۔
انہوں نے کہا ’ہم مارچ میں اس فلم کی نمائش کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے فلم کی موسیقی کی باقاعدہ ریلیز کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے‘۔ ان کا خیال ہے کہ فلم کی ریلیز سے ہندوستان میں کسی قسم کا کوئی تنازعہ یا مشکلات پیدا نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے’ جب ہم نے فلم کو دیکھا تو کوئی متنازعہ امر نظر نہیں آیا کیونکہ فلم میں ہندوستان کی کہانی کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے‘۔ فلم کی ہدایتکارہ د یپا مہتا نے بی بی سی کو بتا یا کہ وہ ہندوستان میں فلم کی ریلیز سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل دیپا مہتا ’ار تھ‘ اور ’فائر‘ نامی فلمیں بنا چکی ہیں۔ حالیہ فلم میں بیسوی صدی کے تیسرے عشرے میں ہندو بیواؤں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو پیش کیا گیا ہے۔ آج بھی ہندوستان میں ہندو بیوہ خواتین کافی مشکل زندگی گزار رہی ہیں۔ خاص کر چھوٹے شہروں میں بیوہ خواتین کی دوبارہ شادی کو برا تصور کیا جاتا ہے۔اکثر خاندان والے بیوہ خواتین کو بد شگون مانتے ہیں۔ | اسی بارے میں فلم 'واٹر' آسکر کی دوڑ میں برقرار ہے 24 January, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||