فلم 'واٹر' آسکر کی دوڑ میں برقرار ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دیپا مہتہ کی فلم ’واٹر‘ کو آسکر ایوارڈ کے غیر ملکی زمرے کی ٹاپ پانچ فلموں میں جگہ مل گئی۔ یہ فلم کینڈا کی طرف سے نامزد ہوئی تھی۔ فلم’واٹر‘ انڈیا میں بیواؤں کی زندگی پر مبنی ہے۔ خود دیپا مہتا کینیڈا کی شہری ہیں اس لیے فلم کینیڈا کی جانب سے آسکر کے لیے نامزد کی گئی تھی انڈیا کی طرف سے نامزد فلم’رنگ دے بسنتی‘ کو جیوری نے پہلے ہی باہر کر دیا تھا۔ جیوری نے رنگ دے بسنتی میں نئی نسل کی بدعنوانی کے خلاف جنگ اور وطن دوستی کے جذبہ کے بجائے بیواؤں پر ہونے والے مظالم اور ان کی بے رنگ زندگی پر مبنی فلم کو ترجیح دی ہے۔ بھارت میں بیواؤں کے ساتھ آج بھی امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کم عمر میں لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے اور اگر ان کا شوہر مر جائے تو انہیں بیواؤں کے آشرم میں لا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کے بال کاٹ دیے جاتے ہیں اور انہیں زمین پر سلا کر روکھا سوکھا کھانا دیا جاتا ہے تاکہ ان کے جنسی جذبات نہ ابھرنے پائیں۔ دیپا مہتہ نے یہ فلم سن دو ہزار ایک میں بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لیے انہوں نے شبانہ اعظمی اور نندیتا داس کو سائن کیا تھا۔ دونوں اداکاروں نے فلم کے لیے اپنے بال بھی کٹوا لیے تھے۔ لیکن بنارس میں فلم کی شوٹنگ شروع ہوتے ہی ہندو شدت پسند تنظیموں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کردیا، مظاہرین نے فلم کے سیٹ کوتو ڑ دیا تھا جس کے سبب دیپا کو واپس آنا پڑا۔
سن دو ہزار چار میں ایک بار پھر دیپا نے کوشش کی لیکن اس مرتبہ انہوں نے اس کے لیے اداکارہ لیزا رے، اداکار جان ابراہام اور سیما بسواس کا انتخاب کیا اور اپنی فلم کو سری لنکا میں فلمانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں فلم ڈھائی ماہ میں مکمل ہو گئی تھی۔ گزشتہ برس ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں یہ فلم دکھائی گئی جہاں لوگوں نے اس کی بہت تعریف کی۔ کئی ديگر فلم فیسٹیول میں بھی یہ فلم دکھائی گئی ہے۔ انڈیا میں آج تک اس فلم کی نمائش نہیں ہو سکی ہے۔ خبریں ہیں کہ اب اس کی نمائش انڈیا میں متوقع ہے لیکن ہندو فرقہ پرست تنظیموں کی مخالفت کا خطرہ درپیش ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے اس فلم کے دو اداکاروں جان ابراہام اور سیما بسواس سے اسی سلسلہ میں گفتگو کی۔ جان کا کہنا ہے کہ انہیں اس خبر سے خوشی ہی نہیں بلکہ فخر محسوس ہو رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ فلم دیپا کی ہے کیونکہ وہ ایک انتہائی سلجھی ہوئی اور ذہین ہدایت کار ہیں جنہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں اپنے موضوع کے ساتھ کس طرح انصاف کرنا ہے۔ فلم میں جان کا نام نارائن ہے جو ایک سیدھا سادا نوجوان ہے اور بیوہ کلیانی سے پیار کرنے لگتا ہے۔ جسم، دھوم، زندہ، گرم مسالہ جیسی فلموں میں کام کرنے کے بعد جان نے دیپا کی فلم کام کیوں کیا؟۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس فلم کی سکرپٹ بہت پسند آئی تھی۔’ فلم کا انتخاب کرتے وقت میرے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ یہ فلم آسکر تک پہنچ جائے گی۔ افسوس ہے کہ فلم انڈیا سے نامزد نہیں ہوئی۔‘
جان ابراہم اس وقت نوسموکنگ، سلام عشق، اور امتیاز علی و ناگیش ککنور کے ساتھ فلمیں کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ واٹر شاید ان کی اداکارانہ زندگی کا ایک اچھا موڑ ہے اور ایک نئے باب کی شروعات۔ ازبکستان سے فلم نو اسموکنگ کی شوٹنگ سے واپس آنے کے بعد جان آسکر ایوارڈ فنکشن میں جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ سیما بسواس فلم میں شکنتلا نامی بیوہ کا اہم رول کر رہی ہیں فلم میں ان کی بہترین اداکاری کے لیے کینیڈا میں انہیں ’جمی ایوارڈ ‘ سے نوازا جا چکا ہے۔ شیکھر کپور کی فلم بینڈیت کوئین میں حقیقی ڈاکو پھولن دیوی کا کردار کرنے والی سیما بسواس نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں بتایا کہ دیپا جب شبانہ کے ساتھ فلم بنانے جا رہی تھیں تب انہوں نے ایک چھوٹے رول کی پیشکش کی تھی۔ ’اس وقت میں تھیئٹر میں مصروف تھی اس لیے نا کہہ دیا تھا لیکن قسمت میں ایک اچھی اور کامیاب فلم میں کام کرنا لکھا تھا۔‘ فلم میں سیما نے بہت کم مکالمے کہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں زیادہ تر اپنی آنکھوں اور چہرے کے تاثرات سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا تھا۔ سیما بتاتی ہیں کہ فلم کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد دیپا ان کے پاس آئیں اور کہا کہ ’تم نے تو میری شکنتلا کو زندہ کر دیا ‘۔ کلیانی یعنی لیزا رے جس سے جان محبت کرتا ہے فلم میں مر جاتی ہے۔ فلم کے آخر میں جان ٹرین میں بیٹھ کر جاتا ہے اور شکنتلا اسے وہ سات سالہ بیوہ ’سرلا‘ اس کے ہاتھوں میں تھماتی ہے کہ وہ اسے اس روشنی بھری جگمگاتی دنیا میں لے جائے۔ دو ہاتھ آگے بڑھتے ہیں اور معصوم بچی کو اٹھا لیتے ہیں۔ سیما کو افسوس ہے کہ آج لوگ بم دھماکوں، تشدد اور بدعنوانی کی بات تو کرتے ہیں لیکن کوئی ان زندہ درگور عورتوں کے مسائل کی بات نہیں کرتا۔’دیپا نے ایک کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب ہوئی ہیں لیکن اصل کامیابی تو تب ہو گی جب سماج میں بیواؤں کو انصاف ملے گا۔‘ | اسی بارے میں بھارتی دستاویزی فلم کیلیے آسکر28 February, 2005 | فن فنکار ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار ۔۔۔کچھ تو اِدھر بھی14 October, 2006 | فن فنکار ’بالی وڈ آسکرز مقبول ہورہے ہیں‘22 November, 2006 | فن فنکار ’رنگ دے بسنتی‘ آسکرز سے باہر17 January, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||