BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 04:34 GMT 09:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
۔۔۔کچھ تو اِدھر بھی

اس سال دو انڈین فلمیں ایوارڈ کے لیے بھیجی گئی ہیں
گُل پھینکے ہے اوروں کی طرف اور ثمر بھی
اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی

معلوم ہوتا ہے کہ بالی وُڈ کا ملنگ جھولی پھیلا کر نہیں بلکہ اپنا عصائے فقیری ہوا میں لہرا کر ہالی وُڈ سے مطالبہ کر رہا کہ میاں اس بار تو سوالی کی مراد پوری کر ہی دو کیونکہ غیر ملکی زبان کی فلم کا ایوارڈ حاصل کرنے کےلئے پچاس برس سے زور لگا رہے ہیں اور اس دفعہ تو ہم نے ایک سرکاری اندراج کے ساتھ ساتھ ایک غیر سرکاری اَینٹری بھی روانہ کر دی ہے۔

سرکاری سطح پر فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کو غیر ملکی زبان کی فلم کے طور پر روانہ کیا گیا ہے جبکہ غیر سرکاری طور پر فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ یہی اعزاز حاصل کرنے کی امید میں روانہ کی گئی ہے۔

بھارت کی جانب سے پہلی بار 1957 میں محبوب خان کی فلم ’مدر انڈیا‘ کو آسکر کمیٹی نے غیر ملکی زبان کی فلم کے طور پر نام زد کیا تھا لیکن بات نام زدگی سے آگے نہ بڑھ سکی۔

1988 میں مِیرا نائر کی ’سلام بمبئے‘ کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ نام زدگی کی سطح تک پہنچ گئی لیکن ایوارڈ اسے بھی نہ مِل سکا۔

پانچ سال ہوئے عامر خان کی فلم ’لگان‘ بھی آخری مرحلے تک پہنچ گئی تھی لیکن ایوارڈ کی حق دار وہ بھی نہ ٹھہری۔

بالی وُڈ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے لیکن یہاں کی بنی ہوئی کوئی فلم آج تک غیر ملکی فلم کا آسکر ایوارڈ حاصل نہیں کر سکی۔ آخر کیوں؟

اطالیہ، ہسپانیہ، چین اور جاپان وغیرہ کی جِن فلموں نے ماضی میں یہ آسکر ایوارڈ جیتے ہیں انھیں پیشِ نظر رکھا جائے تو آسکر ایوارڈ کمیٹی کے معیارِ انتخاب کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

مثلاً اُن فلموں کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے جن میں متعلقہ ملک کی ثقافت یا تاریخ کا کوئی پہلو نمایاں کیا گیا ہو لیکن اس انداز میں کہ بین الاقوامی ناظرین بھی اس سے بھر پور استفادہ کر سکیں۔ فلم سازی کی تکنیک سے مکمل آگاہی اور اس میں تجربات کرنے کی ہمت اور حوصلہ بھی ایک ایسا نکتہ ہے جو یقیناً ایوارڈ کمیٹی کے پیشِ نظر رہتا ہوگا۔

گذشتہ نِصف صدی میں جن تین بھارتی فلموں کو غیر ملکی زُمرے میں آسکر نام زدگی کا اعزاز حاصل ہوا اُن پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو کمیٹی کے اس معیار کی تصدیق و توثیق ہو جاتی ہے۔

مدر انڈیا میں ہندوستان کی دھرتی کا دِل دھڑک رہا تھا۔ سلام بمبئے میں اگرچہ بمّبیا بچّوں کی حالتِ زار دکھائی گئی تھی لیکن ایسے لاوارث بچّوں کو روم، لندن، پیرس، نیو یارک اور شنگھائی کے باشندے بھی خوب پہچانتے ہیں اور ان سے دِلی ہمدردی رکھتے ہیں۔

’لگان‘ میں ایک سر پھرا دیہاتی انگریزوں کو کرکٹ کے میچ میں شکست دے کر غیر شعوری طور پر برطانوی سامراج کو نیچا دکھانے کے سپنے بُن رہا ہے۔

لیکن ان تمام خوبیوں کے باوجود یہ فلمیں آسکر ایوارڈ حاصل نہ کر سکیں اور محض نام زدگی کے مقام تک پہنچ پائیں۔

دیپا مہتا فلم واٹر کی ٹیم کے ساتھ
اِس وقت جو دو فلمیں آسکر ایوارڈ کی متمنی ہیں اُن میں سے سرکاری اَینٹری والی فلم تو شاید اپنے موضوع کے باعث ہی مسترد کر دی جائے۔ ’رنگ دے بسنتی‘ 1920 کے عشرے کی کہانی ہے اور انگریز حاکموں کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانے والے ہندوستانی جیالوں کا نقشہ پیش کرتی ہے۔

لیکن بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد جو کاروائیاں کرتے تھے آج کی زبان میں وہ سیدھی سیدھی دہشت گردی تھی جسکے تصوّر ہی سے آج کا امریکی کانپ اُٹھتا ہے۔ یہ امر ناقابلِ یقین ہے کہ ’دہشت گردوں‘ کی ہم دردی میں بنی ہوئی کسی فلم کو ایک امریکی جیوری انعام کا مستحق قرار دے۔

’لگے رہو مُنا بھائی‘ کے امکانات کچھ بہتر ہیں کیونکہ اس میں ہندوستانیت بھی ہے اور عدم تشدّد کا وہ فلسفہ بھی جو آج کل اہلِ مغرب کےلئے بڑے کام کی چیز بن چُکا ہے۔ دیکھا جائے تو اوّل الذکر فلم میں جوکام بھگت سنگھ اور اسکے ساتھی داداگیری کےذریعے کرنا چاہتے تھے وہی کام منّا بھائی نے گاندھی گیری کے ذریعے کر دکھایا۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم منا بھائی کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہوں ہمیں گردن گھما کر امریکہ کے ہمسائے کینڈا پر ایک نگاہ ڈالنی ہوگی جہاں سے دِیپا مہتہ نے ’واٹر‘ نامی فلم کی اَینٹری ڈال دی ہے۔

حال ہی میں آسکر کمیٹی نے اپنے اصول و ضوابط میں کچھ تبدیلی کی ہے جسکی بدولت کینڈا کی اَینٹری ممکن ہوئی۔ قبل ازیں غیر ملکی زبان کی کیٹیگری میں صرف قومی یا علاقائی زبانوں کی فلمیں آسکتی تھیں۔ مثلاً پاکستان سے پنجابی، سندھی، پشتو بلوچی یا اُردو کی فلم تو مقابلے میں داخل کی جاسکتی تھی لیکن عربی زبان کی فلم نہیں۔

سن 2003 میں برطانیہ نے غیر ملکی زبان کے زُمرے میں ایک فلم داخل کی جوکہ ہندی زبان میں تھی۔ کمیٹی نے اسے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ہندی برطانیہ کی زبان نہیں ہے۔

ایک طویل بحث مباحثے کے بعد کمیٹی اِس نتیجے پر پہنچی کہ کسی علاقے اور اسکی زبان کا باہمی تعلق آسکر کمیٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔

اصول و ضوابط میں اس حالیہ تبدیلی کا فوری فائدہ دیپا مہتہ کو پہنچا جوکہ بھارتی نژاد ہونے کے ساتھ ساتھ کینڈا کی شہری بھی ہیں چنانچہ انھوں نے اپنی ہندی فلم ’واٹر‘ کو کینڈا کی جانب سے داخل کرادیا اور اگر غیر ملکی زبان کی فلم کا ایوارڈ کسی ہندی فلم ہی کو ملنا ہے تو پھر منا بھائی اور رنگ دے بسنتی کے مقابل واٹر کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ اس زمرے میں کوریا، مراکش، برما یا جنوبی افریقہ کی کوئی غیر معروف سی فلم ایوارڈ لےجائے اور ہندی فلمیں منہ دیکھتی رہ جائیں۔

اس موقعے پر یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ اتنے بڑے بھارت دیش میں سے آسکر نام زدگی کےلئے اکثر بالی وُڈ کی کوئی ہندی فِلم ہی کیوں چُنی جاتی ہے۔

کاروباری طور پر کامیاب ترین انڈسٹری بھلے بمبئی ہی میں ہو لیکن کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ بنگالی، تمل، اسامی، تلیگو، ملیالم اور کنڑ میں ہندوستان کی بہترین فلمیں تخلیق ہوچکی ہیں۔ تو پھر مقابلے میں بھیجنے کےلئے بالی وُڈ کی فلم ہی کیوں؟ گذشتہ پچاس برس کی فہرست دیکھیئے تو اُن میں غیر ہندی فلموں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

شاید اس نکتے میں اس سوال کا جواب بھی پوشیدہ ہے کہ ہندوستان کی کسی بھی فلم کو آج تک غیر ملکی زبان کا آسکر ایوارڈ کیوں نہیں مِل سکا۔

عامر خان’فلم دل کے قریب ہے‘
رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے: عامر خان
سلمان خان اور پریتی زنٹا’جانِ من‘ آ رہی ہے
فِلم ’جانِ من‘ اور پریتی زنٹا کی باتیں اور جناح
ق قینچی، ک کلید
مشرق کی قینچی، مغرب کی کُلید کیسے؟
’آوارہ‘ مقبول ترین
انڈین فلم پر سکاٹ لینڈ کی پروفیسر کی تحقیق
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد