’بالی وڈ آسکرز مقبول ہورہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ سٹار امیتابھ بچن نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی ایوارڈز جنہیں عام طور پر ’بالی وڈ آسکرز‘ بھی کہا جاتا ہے، اب انڈین فلم انڈسٹری کا نہایت اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اس تقریب کی تشہیر کے لیے امیتابھ حالیہ دنوں لندن میں ہیں۔ اس ایوارڈ کی تقریب جون 2007 میں یارک شیئر کاؤنٹی کے پانچ شہروں میں منعقد کی جائے گی۔ یہ ایوارڈز پچھلے آٹھ سال سے ہر سال منعد کیے جاتے ہیں۔ اس سے قبل یہ تقریب ایمسٹرڈیم، دبئی، سنگاپور، لندن، ملیشیا اور جنوبی افریقہ میں منعقد کی جاچکی ہے۔ امیتابھ اس تقریب کے ’برانڈ ایمبیسیڈر‘ یا سفیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند سالوں کے عرصے میں اس تقریب نے بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’انڈیا کی پوری فلمی صنعت غیر ممالک کے دورے تو کرتی ہی ہے، ساتھ ہی ہم نے یہ بھی جان لیا ہے کہ اس تقریب سے کاروباری مفادات پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ ہم نے ایسے حلقوں کو دریافت کیا ہے جو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں‘۔ پچھلے سال اس تقریب میں 480 ملین افراد نے شرکت کی تھی۔ اب کئی ممالک کے سرمایہ کاروں نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے بولی لگائی تھی۔ یارک شیئر میں اس سال کے ایوارڈز میں ایشوریہ رائے کی شرکت بھی متوقع ہے۔ یہ تقریب بریڈ فورڈ، لیڈز، شیفلیڈ، یارک اور ہل کے شہروں میں منعقد ہوگی۔
امیتابھ کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقبول ترین فلمی اداکار کے لیے کیے گئے بی بی سی کے ایک سروے میں ان کا نام فہرست میں سب سے اوپر تھا اور انہیں’ملینیئم کا سپر سٹار‘ قرار دیا گیا۔ امیتابھ کی شہرت ماضی کے مقبول اداکاروں بشمول چارلی چپلن سے بھی زیادہ پائی گئی۔ امیتابھ کی پہلی فلم 1969 میں بنی تھی جس میں انہوں نے ایک مسلمان ادیب کا کردار ادا کیا تھا جس کے بعد 1973 میں فلم ’زنجیر‘ نے انہیں مقبولیت کی سیڑھیوں تک پہنچایا۔ امیتابھ 100 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے کے بعد 1980 کے وسط میں رکن پارلیمان بنے جس کے بعد ان کے فلمی کیریئر میں وقفہ آگیا۔ بعد میں ایک کوئز شو کی میزبانی اور فلموں نے انہیں ایک مرتبہ پھر شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا۔ کہا جاتا ہے کہ امیتابھ وہ شخص ہیں جنہوں نے بالی وڈ میں بڑھتی عمر کو بھی زندگی کے ایک دلچسپ اور مثبت پہلو کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ امیتابھ کہتے ہیں کہ جب بھی انہیں روایتی ’ڈانسنگ گرلز‘ کے ساتھ ناچنا پڑے تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ کبھی بھی اچھے سنگر یا ڈانسر نہیں رہے ہیں۔ یہ بہت مشکل کام ہے۔ جب بھی مجھے ایسا کرنا ہوتا ہے تو میں خوفزدہ ہوجاتا ہوں‘۔ |
اسی بارے میں راموکی شعلے میں امیتابھ بنے گبر08 October, 2006 | فن فنکار پاکستان: امیتابھ کے پوسٹر پر پابندی12 August, 2006 | فن فنکار امیتابھ کے لیئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری20 July, 2006 | فن فنکار امیتابھ کے پرستاروں کا مظاہرہ13 June, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||