BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 January, 2007, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رنگ دے بسنتی‘ آسکرز سے باہر

رنگ دے بسنتی
’رنگ دے بسنتی‘ نے بھارت میں نئی نسل کو بہت متاثر کیا تھا
آسکر ایوارڈ کے لیے بالی وڈ سے نامزد فلم ’رنگ دے بسنتی‘ باہر ہو گئی ہے تاہم دیپا مہتہ کی فلم ’واٹر‘ جسے کنیڈا نے غیر ملکی زبان کے زمرے سے منتخب کر کے بھیجا تھا، اس نے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد فلموں کی ابتدائی فہرست میں نواں مقام حاصل کر لیا ہے۔

پانچ نامزد غیر ملکی فلموں کی حتمی فہرست کا اعلان تئیس جنوری کو کیا جائے گا۔ اس سال اس کیٹیگوری میں دنیا بھر سے کُل 61 فلمیں نامزد کی کئی تھیں۔

ہر برس آسکر ایوارڈ کے لیے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح انڈیا سے بھی ایک فلم بھیجی جاتی ہے۔ بالی وڈ میں جو کمیٹی آسکر کے لیے فلم کا انتخاب کرتی ہے اس نے فلم ' رنگ دے بسنتی‘ کا انتخاب کیا تھا۔ لوگوں کو اس فلم سے کافی توقعات تھیں۔ اس فلم نے نئی نسل کو بہت متاثر کیا تھا۔ لیکن اس سال کمیٹی کے فیصلہ کو ایک طرح سے چیلنج کرتے ہوئے فلمساز ودھو ونود چوپڑہ نے اپنی فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ کو آسکر ایوارڈ کے لئے بھیجا تھا۔

آسکر ایوارڈ کے لیے دنیا سے آئی فلموں کو جیوری کے ذریعہ دیکھنے کے بعد ایک الگ مختصر فہرست بنائی جاتی ہے۔ جس کے بعد ان منتخب فلموں سے آسکر ایوارڈ کے لیے فلم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

دیپا مہتہ کی فلم ’واٹر‘ میں بالی وڈ کے اداکار جان ایبراہیم ، لیزا رے اور سیما بسواس ہیں

’رنگ دے بسنتی‘ کے اس طرح آسکر ایوراڈ کی فہرست میں جگہ نہ پانے پر فلم انڈسٹری کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ فلمساز کنال کوہلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افسوس ظاہر اور کہا ’مجھے تو اس فلم سے بہت توقع تھی بلکہ اگر یوں کہوں کہ مجھے امید تھی کہ یہ فلم ہمیں آسکر ایوارڈ دلائے گی تو بیجا نہیں ہو گا‘۔

کنال کا کہنا تھا کہ راکیش اوم پرکاش نےایک خوبصورت بامقصد فلم بنائی تھی اور اس فلم میں وہ سب کچھ تھا جو ایک کامیاب فلم کے لیے ضروری ہے۔

فلموں کے تجزیہ نگار ترن آدرش اس خبر پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہو رہی ہے اور اگر یہی فیصلہ ہے تو ایک بار پھر ہم سب کو رک کر سوچنا چاہیے کہ ہمیں کس طرح کی فلمیں بنانی ہوں گی یا کس طرح کی فلموں کا آسکر کے لیے انتخاب کرنا ہو گا۔

9 منتخب غیر ملکی فلمیں
’واٹر‘ کینیڈا
’ڈیز آف گلوری‘ الجزائر
’آفٹر دی ویڈنگ‘ ڈینمارک
’ایونیو مونٹئن‘ فرانس
’دا لائوز آف ادرز‘ جرمنی
’پینز لیبرنتھ‘ میکسیکو
’بلیک بُک‘ نیدرلینڈز
’وولویر‘ سپین
’وائٹس‘ سویٹزلینڈ

انڈیا کی فلم انڈسٹری دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے کے لیے مشہور ہے لیکن اس کے باوجود آج تک اس کی کسی فلم کو آسکر ایوارڈ نہیں مل سکا ہے۔ اس سے قبل آسوتوش گواریکر اور عامر خان کی فلم ’لگان‘ آسکر ایوارڈ میں گئی تھی لیکن کم سے کم اسے پانچ اہم فلموں کی فہرست میں جگہ مل گئی تھی۔

’لگان‘ کے بعد عامر خان کی ہی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کے انتخاب کے وقت عامر خان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ انہیں اس فلم سے زیادہ امیدیں ہیں۔

دیپا مہتہ کی فلم ’واٹر‘ کو کنیڈا نے غیر ملکی زبان کے زمرے میں آسکر کے لیے بھیجا تھا۔ یہ فلم ہندو دھرم میں بیواؤں کے ساتھ آج بھی ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس فلم میں بالی وڈ ہیرو جان ایبراہیم ، لیزا رے اور سیما بسواس جیسے اداکاروں نے کام کیا ہے۔

عامر خان’فلم دل کے قریب ہے‘
رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے: عامر خان
آسکر کے لیے
’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد