’رنگ دے بسنتی‘ آسکرز سے باہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسکر ایوارڈ کے لیے بالی وڈ سے نامزد فلم ’رنگ دے بسنتی‘ باہر ہو گئی ہے تاہم دیپا مہتہ کی فلم ’واٹر‘ جسے کنیڈا نے غیر ملکی زبان کے زمرے سے منتخب کر کے بھیجا تھا، اس نے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد فلموں کی ابتدائی فہرست میں نواں مقام حاصل کر لیا ہے۔ پانچ نامزد غیر ملکی فلموں کی حتمی فہرست کا اعلان تئیس جنوری کو کیا جائے گا۔ اس سال اس کیٹیگوری میں دنیا بھر سے کُل 61 فلمیں نامزد کی کئی تھیں۔ ہر برس آسکر ایوارڈ کے لیے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح انڈیا سے بھی ایک فلم بھیجی جاتی ہے۔ بالی وڈ میں جو کمیٹی آسکر کے لیے فلم کا انتخاب کرتی ہے اس نے فلم ' رنگ دے بسنتی‘ کا انتخاب کیا تھا۔ لوگوں کو اس فلم سے کافی توقعات تھیں۔ اس فلم نے نئی نسل کو بہت متاثر کیا تھا۔ لیکن اس سال کمیٹی کے فیصلہ کو ایک طرح سے چیلنج کرتے ہوئے فلمساز ودھو ونود چوپڑہ نے اپنی فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ کو آسکر ایوارڈ کے لئے بھیجا تھا۔ آسکر ایوارڈ کے لیے دنیا سے آئی فلموں کو جیوری کے ذریعہ دیکھنے کے بعد ایک الگ مختصر فہرست بنائی جاتی ہے۔ جس کے بعد ان منتخب فلموں سے آسکر ایوارڈ کے لیے فلم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
’رنگ دے بسنتی‘ کے اس طرح آسکر ایوراڈ کی فہرست میں جگہ نہ پانے پر فلم انڈسٹری کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ فلمساز کنال کوہلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افسوس ظاہر اور کہا ’مجھے تو اس فلم سے بہت توقع تھی بلکہ اگر یوں کہوں کہ مجھے امید تھی کہ یہ فلم ہمیں آسکر ایوارڈ دلائے گی تو بیجا نہیں ہو گا‘۔ کنال کا کہنا تھا کہ راکیش اوم پرکاش نےایک خوبصورت بامقصد فلم بنائی تھی اور اس فلم میں وہ سب کچھ تھا جو ایک کامیاب فلم کے لیے ضروری ہے۔ فلموں کے تجزیہ نگار ترن آدرش اس خبر پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہو رہی ہے اور اگر یہی فیصلہ ہے تو ایک بار پھر ہم سب کو رک کر سوچنا چاہیے کہ ہمیں کس طرح کی فلمیں بنانی ہوں گی یا کس طرح کی فلموں کا آسکر کے لیے انتخاب کرنا ہو گا۔
انڈیا کی فلم انڈسٹری دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے کے لیے مشہور ہے لیکن اس کے باوجود آج تک اس کی کسی فلم کو آسکر ایوارڈ نہیں مل سکا ہے۔ اس سے قبل آسوتوش گواریکر اور عامر خان کی فلم ’لگان‘ آسکر ایوارڈ میں گئی تھی لیکن کم سے کم اسے پانچ اہم فلموں کی فہرست میں جگہ مل گئی تھی۔ ’لگان‘ کے بعد عامر خان کی ہی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کے انتخاب کے وقت عامر خان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ انہیں اس فلم سے زیادہ امیدیں ہیں۔ دیپا مہتہ کی فلم ’واٹر‘ کو کنیڈا نے غیر ملکی زبان کے زمرے میں آسکر کے لیے بھیجا تھا۔ یہ فلم ہندو دھرم میں بیواؤں کے ساتھ آج بھی ہونے والی زیادتیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس فلم میں بالی وڈ ہیرو جان ایبراہیم ، لیزا رے اور سیما بسواس جیسے اداکاروں نے کام کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ہم عامر خان کے ساتھ ہیں: بالی وڈ29 May, 2006 | فن فنکار فضائیہ نے رنگ دے بسنتی’اوکے‘ کردی11 January, 2006 | فن فنکار عامرخان کی فلم پرفضائیہ معترض10 January, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||