مالےگاؤں کی منفرد فلمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کا چھوٹا سا قصبہ مالے گاؤں نے اپنی فلموں کے ذریعے ایک نئی پہچان بنا لی ہے۔ پچھلے کئی برس سے یہاں کچھ دوست مل کر مشہور ہندی فلموں کی نقل بنا رہے ہیں جس میں مقامی اداکار اور مقامی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ یہ مقامی مزاحیہ فلمیں بنانے کی شروعات کس طرح ہوئی؟ قصہ کچھ یوں ہے کہ مالے گاؤں کے ایک ویڈیو پارلر میں کام کرنے والے شیخ ناصر نے ان فلموں کو ایک مقامی انداز دے کر بنانے کا خواب دیکھا۔ شیخ ناصر اُن دنوں انگریزی فلموں کی ویڈیوز پر ہندی فلم کے کچھ مشہور گانوں کو چپکاتے تھے تاکہ ان کے شہر کے لوگ انگریزی سنیما کے ساتھ ساتھ ہندی سنیما کا بھی مزہ اٹھا سکیں۔ شیخ ناصر کہتے ہیں کہ اس طرح انہوں نے ویڈیو آیڈیٹنگ کا کام سیکھ لیا۔ ناصر کے گھر میں ایک ویڈیو کیمرا تھا جس سے وہ لوگوں کی شادی بیاہ کی ریکارڈنگ کیا کرتے تھے لیکن اس طرح کے کام سے ناصر مطمئن نہیں تھے۔ وہ فلمیں بنانا چاہتے تھے لیکن اس عمل کے لئیے انہیں ایک کہانی، اداکار، ڈھیر سارے ساز و سامان اور اس کو چلانے والے لوگ اور بڑی رقم درکار تھی۔ ان کو معلوم تھا کہ اس کام کو شروع کرنے کے لیۓ ایک ایسی مشہور و معروف فلمی کہانی کی ضرورت تھی جس سے لوگ اچھی طرح واقف ہوں تاکہ انہیں اس کی مقامی فلم دیکھنے میں دلچسپی ہو۔ اس کام میں شیخ ناصر کے بعض دوست بھی شامل ہو گئے اور انہوں نے طے کیا کہ وہ رمیش سپی کی مشہورِ زمانہ فلم ’شعلے‘ کو نئے طریقے سے بنائیں گے۔ اور یوں انہوں نے بنائی اپنی فلم ’مالے گاؤں کے شعلے‘۔ فلم کے لیۓ ناصر نے پچاس ہزار روپے کا انتظام کیا اور دوستوں نے فلم بنانے کا کام شروع کر دیا۔ فلم بنانے کے اصول بہت آسان تھے۔ایک شخص کو کئی کئی کردار نبھانے تھے۔ جس اداکار نے دھرمندر یعنی ویرو کا کردار نبھایا وہی پروڈکشن منیجر بھی تھا۔ جو ٹھاکر بنا وہ ایڈیٹر بھی تھا۔ فلم کی شوٹنگ معمولی کیمرے سے کی گئی۔ سارے دوستوں نے سوچا کہ اگر فلم نہیں چلی تو وہ کمیرے کو بیچ کر قرض اتار دیں گے اور اور کیمرہ سامنے نہ رہنے سے وہ فلم بنانے والے جنون کا شکار بھی نہیں ہوں گے۔ شعلے کی اس نئی اور کم بجٹ والی فلم بنانے کا سارا عمل نہایت دلچسپ رہا۔ کرین کی جگہ بیل گاڑی سے کام چلایا گیا۔ پروفیشنل فلم لائٹس کی جگہ معمولی لائٹوں سے کام چلایا گیا۔ گانوں کی ریکارڈنگ کے لیئے پوری ٹیم نے ایک کمرے میں بیٹھ کر مائیک اور ٹیپ ریکارڈر پر کام کیا۔۔۔
سنہ 2000 میں بنائی گئی ’مالے گاؤں کے شعلے‘ زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔ اور اس کی شہرت نے فلموں کے ان دیوانوں کو مزید فلمیں بنانے کی ہمت دی۔ شیخ ناصر کے علاوہ اس کام میں شامل افراد میں کچھ اہم نام اکرم خان، فاروق علی جعفری اور علیم طاہرکے ہیں جنہوں نے پھر ’مالے گاؤں کے شعلے‘ کے بعد ’مالے گاؤں کی لگان‘ ’مالے گاؤں کا ڈّان‘ اور مالے گاؤں کی آفت آفت‘ فلمیں بنائیں۔ اکرم خان کہتے ہیں کہ اس گروپ کو اب سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہے۔ فلم بنانے کے لیۓ کم از کم تیس سے پچاس ہزار روپے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اتنے روپے کا انتظام کرنا بھی ان لوگوں کے لیۓ کافی مشکل کام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم گھر سے بہت مشکل سے پیسوں کا انتظام کر پاتے ہیں۔‘ ان کو درپیش ایک مشکل یہ بھی ہے کہ بھارت میں ویڈیو پارلر پر پابندی لگنے کے بعد سے یہ فلمیں چھوٹے ویڈیو مراکز پر نہیں دکھائی جاسکتیں اور ان سے آمدنی اب صرف سی ڈی اور ویڈیو کی فروخت سے ہوتی ہے ( حکومت نے جب ایسے پارلز کے لئیے مخصوص لائسنس مقرر کیے تھے تو اس کے بعد ان کی تعداد بہت کم ہو گئی تھی)۔ |
اسی بارے میں بنگلور کا ننھا ہدایتکار25 January, 2006 | فن فنکار کینز میلہ: پہلی سعودی فیچر فلم26 May, 2006 | فن فنکار پائریٹس کم وقت میں 30 کروڑ منافع 25 July, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||