’مولی ووڈ‘ کی ایشوریہ رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندی فلموں کی بات چلتی ہے تو بالی ووڈ کا خیال آنا فطری بات ہے۔ لیکن اب ہندوستان میں ہندی فلمیں صرف بالی ووڈ میں ہی نہیں بنتیں۔ اترپردیش کے شہر میرٹھ میں بھی ہندی فلمیں بنتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان فلموں کا اپنا مقامی انداز ہے اور ان فلموں کی سی ڈی آپ کو دلی، ہریانہ اور اتر پردیش کے قصبوں اور شہروں میں دستیاب ہیں۔ میرٹھ کے لوگ اپنی اس فلم انڈسٹری کو’مولی ووڈ‘ کہتے ہیں۔ میرٹھ کے کچھ مزاحیہ اداکاروں نے سی ڈی پر فلمیں بنانی شروع کی تھیں اور یہیں سے سن دو ہزار میں دیسی فلموں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرٹھ میں ہر سال سیکڑوں دیسی فلمیں بنتی ہیں۔ یہ فلمیں مقامی زبان میں ہوتی ہیں اور مولی ووڈ کی کچھ مشہور فلموں میں’دھاکڑ چھورا‘، ’چھچھوروں کی بارات‘، ’تاؤ بہرا‘، ’تاؤ رنگیلا‘ اور ’پارو تیرے پیار میں‘ شامل ہیں۔
زیادہ تر فلمیں بولی ووڈ فلموں کا دیسی ری میک یا پھر میرٹھ اور اس کے اطراف کے سماجی موضوعات پر بنتی ہیں۔ میرٹھ فلم انڈسٹری کے مشہور ڈائریکٹر کمل آزاد بتاتے ہیں کہ’ یہاں زیادہ تر فلمیں مقامی موضوع پر بنتی ہیں۔ ہمارے گاؤں میں پیار بھی ہے تکرار بھی، زمین کو لے کر جھگڑے بھی ہوتے ہیں اور گھریلو ناچاقیاں بھی اور ہم ان سب موضوعات پر فلمیں بناتے ہیں اور لوگ انہیں ہی پسند کرتے ہیں‘۔ بالی ووڈ کے کروڑوں روپے کے بجٹ کے برعکس میرٹھ میں ایک فلم زیادہ سے زیادہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں تیار ہوتی ہے اور ایک فلم کی تکمیل میں تقریباً ایک مہینہ لگتا ہے۔ کبھی ان فلموں میں ٹی سیریز اور سونیٹک جیسی کمپنیاں پیسہ لگاتی ہیں تو کبھی چند مقامی امیر افراد مل کر ایک فلم بنا لیتے ہیں۔ بجٹ کم ہونے کی وجہ سے زیادہ تر فلموں کی عکسبندی مقامی دیہات میں ہی ہوتی ہے اور زیادہ تر اداکار بھی مقامی ہی ہوتے ہیں۔ ہدایتکار کمل آزاد کہتے ہیں کہ’فلم کے خرچ کو بچانے کے لیئے ہدایت کار کو ہدایت کاری کے علاوہ اداکاری، لائٹنگ یہاں تک کہ سپاٹ بوائے کا کام بھی کرنا پڑتا ہے‘۔ ’مولی ووڈ‘ میں آنے والے زیادہ تر اداکاروں کو اداکاری کا جنون ہوتاہے۔ مقامی کہانیوں کو مقامی زبان کی فلموں میں پیش کرنے کے لیئے پروڈیوسر ان اداکاروں سے زیادہ تر بنا پیسوں کے اداکاری کراتے ہیں۔
بیس سے زائد فلموں کے ہدایت کار شری گوپال شرما کا ماننا ہے کہ مقامی اداکاروں سے اداکاری کروانا آسان کام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ایک ہدایت کار کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے یہاں کے مقامی لوگوں سے اداکاری کرانا۔ ان اداکاروں کا نہ تو تلفظ ٹھیک ہے اور نہ ہی کیمرے کے سامنے انہیں مکالموں کی ادائیگی آتی ہے‘۔ میرٹھ فلم انڈسٹری کے مقبول ترین اداکار کو بھی ایک فلم کے دس ہزار روپے سے زیادہ نہیں ملتے لیکن اداکاراؤں اور ہیرؤینوں کو مرد اداکاروں سے زیادہ پیسے ملتے ہیں کیونکہ میرٹھ میں عام طور پر لڑکیوں کا فلموں میں کام کرنا اب بھی برا سمجھا جاتا ہے اور اداکارائیں مشکل سے ملتی ہیں۔ مولی ووڈ کی ایشوریہ کہلائی جانے والی سمن نیگی کا کہنا ہے کہ’میں مس میرٹھ رہ چکی ہوں۔ میں ہمیشہ فلموں میں کام کرنا چاہتی تھیں۔ میرٹھ فلم انڈسٹری میں کام نہیں کرتی تو شاید میں کبھی اداکاری نہیں کر پاتی‘۔
میرٹھ میں بننے والی فلمیں میرٹھ کے آس پاس کےگاؤں میں بہت مقبول ہیں۔ سی ڈی فلموں کی مقبولیت کے بارے میں میرٹھ میں سی ڈی فلموں کی دوکان چلانے والے روہت شرما کا کہنا ہے کہ’ آج ہمارا سارا کاروبار دیسی فلموں کا ہے۔ یہ فلمیں گاؤں میں زیادہ مقبول ہیں اور ہمارے یہاں نوے فیصد گاہک گاؤں سے ہی آتے ہیں‘۔ مولی ووڈ سے تعلق رکھنے والے ہر اداکار، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کا خواب بالی ووڈ جانا ہے اور وہ سبھی میرٹھ فلم انڈسٹر ی کو بالی ووڈ جانے کا سیدھا راستہ مانتے ہیں۔ یہ مقامی اداکار بالی ووڈ جانے کا خواب پورا کر سکیں گے یا نہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن وہ میرٹھ کی مقامی فلموں کے ذریعے ابھی سے لاکھوں دلوں میں جگہ بنا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بھوجپوری فلمی صنعت عروج پر15 December, 2005 | فن فنکار بولتی فلموں کی پلاٹینم جوبلی 14 March, 2006 | فن فنکار انڈین فلمی صنعت بھیڑ چال کا شکار22 April, 2006 | فن فنکار بے حس بالی ووڈ اور بھنڈارکر کی خواہش08 May, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||