بھوجپوری فلمی صنعت عروج پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ چند سالوں میں بولی وڈ کے ساتھ خطے کی ایک اور بھوجپوری فلمی صنعت نے بھی تیزی سے ترقی کی ہے اور فلمی شائقین کے دلوں میں جگہ بنا لی ہے۔اس صنعت سے دو سو ملین سے زائد افراد وابستہ ہیں جو بھوجپوری زبان بولتے ہیں۔ ان دنوں باکس آفس پر بھوجپوری فلموں کے پوسٹروں کی بھرمار ہے۔ دو ہزار پانچ میں بھوج پوری کی بڑی ہٹ فلموں میں ’ساسورا بڑا پیسے والا‘ اور ’داروگا بابو آئی لو یو‘ شامل ہیں۔ ان فلموں نے بولی وڈ کی حالیہ ریلیز ہونے والی فلموں انٹی اور ببلی اور منگل پانڈے کے مقابلے میں بہار اور اتر پردیش میں بہت کامیاب بزنس کیا۔ پینسٹھ ہزار ڈالر بجٹ سے بننے والی فلم ساسورا بڑا پیسے والا نے باکس آفس پر تین ملین ڈالر جبکہ داروگا بابو نے نو لاکھ ڈالر کا بزنس کیا۔ ان فلموں کی سو فیصد کامیابی نے بالی وڈ کے کھلاڑیوں کی چھٹی کر دی ہے۔ سپر اسٹار امیتھابچن جو ابھی حال ہی میں صحت یاب ہوئے ہیں وہ اور ماضی کی نامور بھارتی اداکارہ ہیمامالنی مشترکہ طور پر بھوجپوری فلم میں کام کر رہے ہیں۔ ان بڑے ناموں کے ساتھ کچھ اور نام بھی ہیں جنہیں شائقین بھوجپوری فلموں میں دیکھیں گے۔ ان میں اجے دیوگن، جوہی چاولہ، راج ببر، رتی اگنی ہوتری اور نغمہ شامل ہیں۔
یہ سلسلہ یہاں ہی نہیں رکا بلکہ بولی وڈ کی معروف کوریو گرافر سروج خان بھی ایک بھوجپوری فلم کی ہدایت کاری کر رہی ہیں۔ ڈائریکٹر ٹینو ورما بھوجپوری میں ’میرا گاؤں میرا دیش‘ کو دوبارہ بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف بولی وڈ کے گلوکار ادت نارائن ’ کب ہوئی گاؤنا ہمار‘ کے نام سے بھوجپوری فلم بنا رہے ہیں۔ چار دہائیوں سے قائم بھوجپوری فلمی صنعت نئے غیر ملکی ٹیلنٹ کو بھی اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔ یوکرائن کی ماڈل تانیا فرنگی دلہنیا نامی فلم میں روسی لڑکی کا کردار ادا کر چکی ہیں۔ اب چوبیس سالہ برطانوی اداکارہ جیسیکا باتھ نے دو بھوجپوری فلمیں سائن کی ہیں۔ بھوجپوری فلمی صنعت اس وقت جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس سے پہلے اس کی ترقی کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی۔ اس سال اس کی تیس فلمیں ریلیز ہوئی ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ اس کامیابی کے حوالے سے ایک بات یہ ہے کہ فلم بنانے والوں کا نشانہ بھوجپوری زبان بولنے والے ہیں۔ اس کا دائرہ گھروں سے لے کر ملک سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔
بھوج پوری فلمی صنعت نے خود کئی معروف فلمی ستاروں کو پیدا کیا ہے۔ مرد اداکاروں میں منوج تواری، روی کشن اور اداکاراؤں میں رانی چٹرجی جن کا اصل نام صبیحہ شیخ ہے اور بولی وڈ کی اداکارہ رانی مکرجی کے مقابلے میں بھوج پوری فلمی صنعت میں ان کا نام رانی چٹرجی رکھا گیا ہے۔ تواری جنہوں نے ایک معمولی کردار سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا اب ان کے پاس ایک درجن فلمیں ہیں اور وہ فی فلم نوے ہزار ڈالر کے حساب سے معاوضہ لے رہے ہیں۔ کشن اس سے زیادہ معاوضہ لے رہے ہیں۔ ونود میرانی جو بولی وڈ کے ایک رسالے کے ایڈیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ بھوجپوری فلموں میں چھبتے ہوئے موضوعات جیسےشادی بیاہ اور خاندان کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم میں جذباتی مناظر کا سہارا لیا گیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس فارمولے نے کام کر دیا ہے۔ موشن پکچرز ایسوسی ایشن بہار کے چیف کا کہنا ہے کہ بھوجپوری سینما نے حتمی شناخت اور شائقین کے دلوں میں مقام حاصل کر لیا ہے اور اس کی کمرشل فلموں کی کامیابی نے لوگوں کو اس کے بارے میں نوٹس لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں بالی وڈ: پرانی فلمیں رنگین ہونگی06 August, 2004 | فن فنکار بالی ووڈ کی فلمیں نئی راہوں پر28 April, 2004 | فن فنکار نورجہاں کی پوتی کی فلم تاج محل18 November, 2005 | فن فنکار بھارتی فلمیں اور بورڈ کی کارروائی10 September, 2005 | فن فنکار کراچی میں پانچواں کارا فلم فیسٹیول29 November, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||