بھارتی فلمیں اور بورڈ کی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی فلم سینسر بورڈنے کراچی میں ڈیفینس سوسائٹی کے بعض کلبوں اور آرٹس کونسل میں سینسر سے پاس کرائے بغیر بھارتی اور انگریزی فلمیں دکھائے جانے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس حوالےسے وزارتِ دفاع کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کنٹونمنٹ علاقوں کی حدود میں پاکستان موشن پکچرز آرڈینیس کی خلاف ورزی روکی جاسکے۔ سنسر بورڈ کے سربراہ نے جمعہ کو کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان موشن پکچرز آرڈینیس مجریہ 1978کی خلاف ورزیوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی غرض سے سنسر بورڈ اپنی سطح پر فعال ہے اور آرٹس کونسل اور رویال روڈال کلب سمیت کسی بھی نجی کلب میں غیر ملکی فلمیں وہ بھی بغیر سینسر دکھانے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پورے ملک میں بھارتی فلموں پر پابندی عائد ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کراچی میں یہی فلمیں لوگوں کو باقاعدہ ٹکٹ کے ذریعہ کھائی جائیں۔ان کے مطابق سینسر بورڈ ابھی تک صدر ضیاءالحق کے دور کے ایک حکمنامہ کی رو سے مجاز ہے کہ کسی ایسی فلم کو پاس نہ کرے جس میں بھارتی مواد یا سرکردہ کرداروں میں کوئی بھارتی اداکار یا اداکارہ شامل ہو۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینسر بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ معروف اداکارہ ریما کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم کوئی تجھ سا کہاں سینسر سے پاس کرتے ہوئے انہوں نے اس فلم میں شامل بھارتی اداکارہ سمرن کی برطانوی شہریت کے کاغذات دیکھنے کے بعد ہی اسے قبول کیا تھا۔ ’میڈم ایک دیہاڑی‘ جیسی ذومعنی ناموں والی فلمیں پاس کرنے کے حوالے سے ضیاءالدین نے بتایا کہ اس فلم میں صرف ایک سین قابلِ اعتراض پایا گیاجسے حذف کرادیا گیا ہے اور جہاں تک نام کا تعلق ہے تو وہ سینسر بورڈ سے زیادہ فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس طرح کے ناموں کی حوصلہ شکنی کریں۔ ان کے مطابق فلموں کی سپلائی پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر صرف نام کی بنیاد پر فلم سینسر سے نہ گزر سکے تو فلمی صنعت کے لیے نیک شگون نہیں ہوگالہذا صاف ستھرے ناموں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ فلم سینسر بورڈ کا نام اس کے بدلتے ہوئے کردار کی نسبت سےنیشنل فلم ڈویلپمنٹ اینڈ سرٹیفیکیشن بورڈ رکھا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||