BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 May, 2004, 21:39 GMT 02:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گلابی آئینہ‘ پربھارت میں پابندی
رمیش مینن اور ایڈون
گلابی آئینہ میں مرکزی کردار رمیش مینن اور ایڈون فرنانڈس نے نبھائیں ہیں
انڈین سینسر بورڈ نے ہجڑوں سے متعلق فلم کو سرٹیفیکٹ دینے سے معذرت کر لی ہے۔ اس فلم کا پریمیئر جمعرات کے روز مانچسٹر کامن ویلتھ انسٹیوٹ میں پیش ہوا ہے۔

گلابی آئینہ کے نام سے بننے والی یہ فلم تیس سے زیادہ بین الااقوامی فلم میلوں میں پیش کی جا چکی ہے لیکن انڈیا میں اس فلم پر اس لیے پابندی لگا دی گئی ہے کیونکہ یہ فلم ہم جنسوں کی طرف میلان رکھنے پر ماخوذ ہے۔

اس فلم کے ڈائریکٹر سری رنگایان نے بی بی سی کو بتایا کہ سینسر بورڈ نے اس فلم میں عریانی اور بے ہودگی کی موجودگی کی بنا پر سرٹیفیکٹ دینے سے معذرت کر لی ہے۔

جبکہ ڈائریکٹر سری رنگایان کا کہنا ہے کہ اس فلم میں کسی قسم کی قابلِ اعتراض چیز پیش نہیں کی گئ ہے۔

چالیس منٹ کی یہ کہانی دو زنخوں پر مبنی ہے یہ مرکزی کردار ببو (رمیش مینن) اور شبو (ایڈون فرنانڈس) نے نبھائیں ہیں جو کہ مغربی ہم جنس سے اپنے نفس کا اظہار کرتے ہیں۔

گلابی آئینہ کے ڈائریکٹر سری رنگایان
گلابی آئینہ کے کے ڈائریکٹر سری رنگایان

بالی ووڈ کے کئی مشہور اور نامور اداکاروں نے زنخوں پر مبنی کردار نبھائے ہیں جن میں امیتابھ بچن اور عامر خان قابلِ ذکر ہیں لیکن یاد رہے کہ یہ کردار محض تفریح کے لیے پیش کیے گئے تھے۔

ڈائریکٹر سری رنگایان کا کہنا ہے کہ گلابی آئینہ کو پہلی مرتبہ ہندی سنیما میں زنخوں پر مبنی فلم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم لوگ زنخوں کا کردار بہت ہی مغربانہ انداز میں پیش کرتے ہیں جو کہ سینسر کو کسی حد تک قابلِ قبول ہوتے ہیں۔ تاہم اس فلم میں زنخوں نے وہ زبان استعمال کی ہے جو کہ بھارت میں عام ہے۔

فلم گلابی آئینہ زنخوں کے اُس طبقے کو بھی متاثر کرتی ہے جو ایچ آئی وی / ایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔

فلم ڈائریکٹر رنگایان نے مزید کہا ہے کہ ہمارے ملک میں فلم کے حوالے سے حالات آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہے ہیں۔

 میرا زنخوں پر مبنی مزید چھ فلمیں بنانے کا ارادہ ہے
ڈائریکٹر سری رنگایان

حال ہی میں ممبئی میں ہونے والے فلم فیسٹیول نے ایک ایسی فلم کی میزبانی کی ہے جو کہ ہم جنس پرستوں پر مبنی ہے۔

تاہم انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سینسر بورڈ ان کی اپیل پر دوبارہ غور کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ صاف طور سے دیکھا جا سکتا ہے کہ دس سال پہلے اور اب کس طرز کی فلمیں بن رہی ہیں۔ لیکن یہ بہت مشکل کام ہے کہ عوام کی خوشنودی کو ملحوظِ حاضر رکھا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں دراصل خاموش برقرار رکھنے کا رواج ہے۔ اگر فلموں میں کچھ نہیں دکھایا جائے تو کسی کی طرف سے کوئی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آتا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر نے اس بات کی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ زنخوں پر مبنی مزید چھ فلمیں بنانا چاہتے ہیں جن کا عنوان قوصِ قضا کے مختلف رنگوں پر رکھا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد