بُکر پرائز، ٹرین ٹو پاکستان اور خیالات کا ٹکراؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
2006 بھارت میں ادب، ثقافت اور فن کے حوالے سے ایک مثبت برس ثابت ہوا۔ اس برس جہاں کئی مصوروں نے نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی وہیں بعض ایسی کتابیں آئیں جہنوں نے بین الاقوامی سطح پر کئی اعزاز حاصل کیے تاہم بعض کتابیں متنازعہ بھی قرار دی گئیں۔ بعض فنکاروں نے اپنے فن کی مدد سے ’سسٹم‘ کے خلاف آواز اٹھائی تو وہیں کچھ ایسے فنکاروں نے دنیا کو الوداع کہہ دیا جن کی کمی کبھی بھی پوری نہیں کی جا سکے گی۔ فن اور فنکاروں کی بات کی جائے تو سب سے پہلے بات ایک ایسے شخص کی جو نہ صرف ہندوستانی فلموں کا شہنشاہ تھا بلکہ ہندوستان میں تھیٹر کی دنیا کا بھی بانی تھا۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے مشہور فنکار پرتھوی راج کپور کی۔ اس برس پرتھوی راج کی 100ویں سالگرہ منائی گئی۔ انیس سو چھ میں پیدا ہونے والے پرتھوی راج کپور نے انیس سو چوالیس میں تھیٹر کی شروعات کی۔
ان کی سوویں سالگرہ کے موقع پر پرتھوی تھیٹر نے دلی میں ایک خاص پروگرام کیا جس میں پرتھوی تھیٹر کے خاص ڈراموں کو پیش کیا گیا۔ پرتھوی تھیٹر کے یادگار ڈراموں میں شکنتلا ، دیوار، پٹھان، غدار، آہوتی، کلاکار اور پیسہ اور کسان قابلِ ذکر ہیں۔ پرتھوی راج کپور کو یاد کرتے ہوئے مشہور تھیٹر اداکارہ زہرہ سہگل کہتی ہیں’پاپا جی نے مجھے آواز کا استعمال سکھایا اور باقی میں تو یہی کہوں گی کہ زندگي میں نے جو کچھ بھی پایا، وہ پاپا جی کے قدموں میں بیٹھ کر پایا‘۔ ہندوستانی کے ایک اور فنکار معروف شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان اس برس اس دنیا کو الوادع کہہ گئے۔ استاد بسم اللہ خان نے نہ صرف شادی بیاہ میں بجائی جانے والی شہنائی کو ایک ’پروفیشنل میوزیکل انسٹرومنٹ‘ کا مقام دلوایا بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کیا۔ اور اب ان فنکاروں کا ذکر جنہوں نے اس برس خوب نام کمایا۔ ہندوستانی مصوروں کے لیے یہ برس کافی کامیاب رہا۔ ایم سوزا، ایس ایچ رضا اور طبیب مہتا جیسے مشہور ہندوستانی مصوروں کی تصاویر ملک اور بیرونِ ملک زبردست قیمتوں پر فروخت ہوئیں۔ ستمبر میں امریکہ کے’ کرسٹی آکشن ہاؤس‘ میں انڈین مصور طیب مہتا کی انیس سو ستانوے میں بنائی گئی ایک تصویر چودہ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی۔ اس کے علاوہ نوجوان مصوروں میں کرشنن کھنہ اور پرمود گنپتیے کی تصاویر کی کافی ستائش کی گئی۔ اگر ’نیومیڈیا‘ کی بات کی جائے تو دلّی میں مقیم آرٹسٹ گروپ رقص میڈیا کلیکٹیو نے اپنی پہلی انفرادی نمائش دلی میں کی۔ ان مجموعی ورکس کا عنوان ’دیئر ہیز بِین آچینج ان پلان‘ تھا۔
اس سال دستاویزی فلموں کا پہلا ’نیشنل شارٹ ڈاکیومنٹری‘ فلم میلہ بھونیشور میں ہوا۔ اس فیسٹول میں سنتالیس سے زیادہ فلمیں دکھائی گئیں۔ میلے میں دنیا بھر کے فلمسازوں نے اپنی فلمیں نمائش کے لیے پیش کیں۔ دلی میں مقیم فلم ہدایت کار یوسف سعید کی فلم’خیال درپن‘ اس میلے میں بہت مقبول رہی۔ یہ فلم تقسیم ہند کے بعد خیال گانے والے ان صوفی گلوکاروں کے بارے میں تھی جو ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلےگئے تھے۔ اس فلم فیسٹول میں فلم پوسٹروں کی نمائش بھی لگائی گئی جس میں انیس سو تیس سے لیکر انیس سو اسّی تک کی فلموں کے پوسٹروں کی نمائش کی گئی۔ گووا میں منعقدہ انڈین انٹرنیشنل فلم فیسٹول(اففی2006) میں 48 ملکوں کی دو سو سے زیادہ فلمیں دکھائی گئیں۔ آئی ایف ایف آئی کا مقصد’مین سٹریم‘ فلموں کی بجائے دنیا بھر سے مختلف قسم کی فلمیں دکھانا ہے۔ اس فیسٹول میں چین کی فلم ’دی اولڈ باربر فرام چائنا‘ کو بہترین فلم کے اعزاز سے نوازا گیا۔
دلی میں منعقدہ آٹھویں ’اوسیان سنے فین 2006‘ میں ایک سو بیس سے زیادہ فلمیں دکھائی گئیں۔ چین، جرمنی،فرانس کے علاوہ، عراق، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب جیسے ممالک کی فلمیں بھی اس میلے میں دکھائی گئیں۔ فلپائن کی فلم ’دا بیٹ کلکٹر‘ کو بہترین فلم کا اعزاز دیا گیا۔ فلمی میلوں کے علاوہ اس برس دلی میں’انڈیا سوشل فورم‘ بھی منعقد کیا گیا۔ اس فورم کا مقصد ’اسٹیٹ اور نیو لبرلائزیشن‘ کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔اس بار ’آئی ایس ایف‘ میں دنیا بھر سے ستّر ہزار افراد نے شرکت کی۔ معروف ہندوستانی ادیب اور صحافی خشونت سنگھ کا ناول ’ٹرین ٹُو پاکستان‘ نے اس برس اپنے پچاس سال مکمل کیے۔ اگست 1956 میں پہلی بار شائع ہونے والے اس ناول کا ایک خصوصی پچاس سالہ ایڈیشن منظرِ عام پر آیا جِس میں تقسیمِ ہند سے تعلق رکھنے والی ساٹھ ایسی تصاویر بھی شامل ہیں جو اِس سے پہلے کہیں شائع نہیں ہوئی تھیں۔ یہ تصویریں امریکی میگزین ’لائف‘ کی فوٹوگرافر مارگریٹ وائٹ نے کھینچی تھیں۔ اگر ایسی کتابوں کی بات کی جائے جو اپنے موضوعات کی وجہ سے قابلِ توجہ رہیں تو اس فہرست میں پہلا نام سابق وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ کی کتاب ’ آ کال ٹو آنر‘ کا ہے۔ اس کتاب نے سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچائی۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب ’ان دا لائن آف فائر‘بھی ہندوستان میں کافی مشہور ہوئی۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں بعض ایسی باتیں کہیں جو ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لیے توجہ کا باعث تھیں۔
ہندوستان کی پارلیمنٹ پر 2001 میں حملے کی سازش کے معاملے میں پھانسی کے سزا یافتہ افضل گرو کو ’شفاف ٹرائل‘ نہ ملنے کی حمایت میں ایک کتاب شائع کی گئی۔’13 دسمبر: دا سٹرینج کیس آف دا پارلیمنٹ اٹیک‘ کافی اہم کتاب تسلیم کی گئی۔ اس کتاب کی ادارت معروف ادیب ارندھتی رائے نے کی۔ کتاب میں بعض ایسے سوال اٹھائےگئے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ افضل گرو کو بنا کسی ثبوت کے پھانسی پرچڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ادب میں اعزازات کی بات کی جائے تو کرن دیسائی کے بکر اعزاز کا ذکر سب سے پہلے ہوگا۔ برطانیہ کا اعلیٰ ادبی اعزاز ’دی مین بُکر پرائز‘ ہندوستانی نژاد مصنفہ کرن دیسائی نے جیتا۔ انہیں یہ اعزاز ان کے ناول ’دی انہیریٹنس آف لاس‘ کے لیے دیا گیا۔ پینتیس سالہ دیسائی یہ انعام جیتنے والی سب سے کم عمر خاتون ہیں۔ اس برس ہندوستانی ادب کے لیے دیا جانے والے سائہتہ اکادمی ایوارڈ ہندی شاعرگانیندرپتی کو ان کی شاعری کے مجموعے ’سنش آتما‘ کے لیے دیا گیا جبکہ سال دو ہزار چھ کے لیے بین الاقوامی اندو شرما کتھا اعزاز ہندی کے ممتاز ادیب اور ڈرامہ نگار اصغر وجاہت کو دیا گیا۔ ’ کتھا یو کے‘ کی طرف سے دیا جانے والا یہ ایوارڈ انہیں کتاب ’ کیسے آگ لگائی‘ کے لیے ملا۔
انیس سالہ بھارتی نژاد مصنفہ کاوویا وشواناتھن کا ناول ’ہاؤ اوپل مہتا گاٹ کسڈ، گاٹ وائلڈ اینڈ گاٹ اے لائف‘ اشاعت کے کچھ ہفتے بعد ہی تمام دکانوں سے واپس منگا لیا گیا۔ اس ناول سے متعلق تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ہارورڈ یونیورسٹی کے اخبار دی ہارورڈ کرمزن نے خبر شائع کی کہ مس وسواناتھن کے ناول کے کچھ پیراگرف ایک دوسری مصنفہ میگن میکیفرٹی کی کتاب سے اتنے ملتے جلتے ہیں کہ کہا جا سکتا ہے کہ مس وسواناتھن نے باقاعدہ ان ناولوں کی نقل کی ہے ۔ کاویا وسواناتھن نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے ناول میں کئی پیراگراف میگن میکیفرٹی کی کتاب سے ملتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||