BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گنگا کنارے بجنے والی شہنائی خاموش ہوگئی
سنہ دو ہزار ایک میں ملک کے اعلی ترین باشندے کے اعزاز ’ بھارت رتن‘ سے نوازا تھا۔
سنہ دو ہزار ایک میں انہیں ملک کے اعلی ترین اعزاز ’ بھارت رتن‘ سے نوازا گیا تھا۔
مشہورعالم شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان نے پیر کی صبح تقریباً دو بجے دنیا کوالوداع کہہ دیا۔ استاد بسم اللہ کی شہنائی کی گونج دنیا کے کونے کونے میں سنی جا چکی ہے اور انہی کی دھنوں نے موسیقی کی دنیا میں شہنائی کو ایک نئی پہچان دی ہے۔

استاد بسم اللہ خان سے قبل شہنائی صرف شادی بیاہ کی تقریبات اور مندروں تک ہی محدود تھی لیکن انہوں نے شہنائی کو ستار، سرود، اور تبلے جیسے موسیقی کے سازوں کےدرجےتک پہنچا دیا۔

موسیقی کی دنیا میں اہم کردار ادا کرنے کے اعتراف کرتے ہوئے حکومت نےانہیں سنہ دو ہزار ایک میں ملک کے اعلیٰ ترین باشندے کے اعزاز’ بھارت رتن‘ سے نوازا تھا۔

خان صاحب کی پیدائش 21 مارچ انیس سوسولہ کو بہار کے ڈم راؤں ضلع میں ہوئی تھی۔ بچپن سے ہی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے بسم اللہ خان نے اپنے ماموں علی بحش سےشہنائی بجانے کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں بسم اللہ خان ان کے ساتھ کاشی کے وشوناتھ مندر میں شہنائی بجانےلگے۔

خان صاحب موسیقی کو ہی اپنا مذہب مانتے تھے اور بنارس کےگھاٹوں پر گھنٹوں تک ریاض کر تے۔ ہر برس بنارس میں گنگا کنارے محّرم کی آٹھويں تاریخ کو بسم اللہ خان کی شہنائی سننے تقریباً سبھی مذاہب کے ماننے والے آتے تھے۔

اپنے آپ کو شیعہ کہنے والے بسم اللہ خان ہندو مذہب میں موسیقی اور تعلیم کی دیوی ’سرسوتی‘ کی پوجا بھی کرتے تھے۔

استاد بسم اللہ خان نے ہی پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کی نصف شب لال قلعہ میں شہنائی بجاکر ہندوستان کی آزادی کا خیر مقدم کیا تھا۔

اعلیٰ درجے کے شہنائی نواز ہونے کے ساتھ ساتھ استاد بسم اللہ خان اپنی سادگی کے لیئے بھی کافی مشہور تھے۔موسیقار کے طور پر انہوں نے جو کچھ بھی کمایا اسے یا تواپنے لواحقین پر خرچ کر دیا اور یا غریبوں کی مدد میں۔ اسی کے سبب ان کی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ وہ پائی پائی کے لیئے محتاج ہوگئے۔اس وقت ریاستی حکومت نے انہیں مالی مدد فراہم کی۔

ایک عرصے سے بیمار استاد بسم اللہ کی آخری خواہش تھی کہ وہ دلّی کے انڈيا گیٹ پر شہنائی بجائيں لیکن ان کی یہ خواہش ادھوری رہ گئی۔

آج کا بیجل کون؟آج کا بیجل کون؟
افسانوی موسیقار کی تلاش فرجاد نبی کے ساتھ
معجزہِ فن (4)
کلاسیکی سازوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان
وی شانتا راموی شانتا رام
کلاسیکی دور کے کلاسیکی ہدایتکار
اسی بارے میں
امریش پوری انتقال کرگئے
12 January, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد