ٹرین ٹُو پاکستان: پچاس سالہ سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف ہندوستانی ادیب اور صحافی خوشونت سنگھ کا ناول ’ٹرین ٹُو پاکستان‘ اب پچاس برس کی عمر کو پہنچ گیا ہے۔ اگست 1956 میں پہلی بار شائع ہونے والے اس ناول کا ایک خصوصی پچاس سالہ ایڈیشن منظرِ عام پر آگیا ہے جِس میں تقسیمِ ہند سے تعلق رکھنے والی ساٹھ ایسی تصاویر بھی شامل ہیں جو اِس سے پہلے کہیں شائع نہیں ہوئی تھیں۔ اِس خصوصی ایڈیشن کے لئے مصنف نے ایک نیا پیش لفظ بھی لکھا ہے جِس میں وہ کہتے ہیں: ’ہنستے بستے کنبے بٹ کے رہ گئے اور پرانے دوست ہمیشہ کےلیئے بچھڑ گئے۔ اب ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کے لیئے پاسپورٹ، ویزہ اور پولیس تھانے کی رپورٹ درکار ہے۔۔۔ 1947 کے بٹوارے سے اگر کوئی سبق ملتا ہے تو صرف اتنا کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔ اور یہ خواہش اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے جب ہم برِصغیر کے مختلف نسلوں اور مذہبوں کے باشندوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی جدوجہد کریں‘۔ خوشونت سنگھ کے ناول ’ٹرین ٹو پاکستان‘ میں پنجاب کے ایک گاؤں کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ’مانو مجرا‘ نامی یہ داستانی گاؤں پاک ہند سرحد کے قریب ہی واقع ہے اور یہاں صدیوں سے مسلمان اور سکھ مِل جُل کے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مُلک میں فرقہ وارانہ سیاست کی آندھی چلتی ہے تو اس کے تھپیڑےِ موضع مانومجرا تک بھی آتے ہیں۔ جب یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ گاؤں کی مسلمان آبادی کو پاکستان منتقل کر دیا جائے گا تو گاؤں کے پرانے باسی حیرت سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا وہاں سے کیا تعلق ہے؟ ہم تو پُشتوں سے اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔ خوشونت سنگھ نے اس ناول میں محض تقسیم کا المیہ ہی نہیں بیان کیا بلکہ جہالت اور غربت کے اُن عفریتوں کی تصویر کشی بھی کی ہے جو عوام کے مصائب کی اصل جڑ ہیں اور جن کے سائے میں پلنے والے عوام آزادی اور خودمختاری کا مطلب بھی نہیں سمجھ سکتے۔۔۔
مصنف نے آزادی، مساوات اور عوامی حکومت کا نعرہ لگانے والی پارٹیوں اور دیہات میں پھیلے ہوئے اُن کے کارکنوں کا پردہ بھی چاک کیا ہے۔ محض کتابی عِلم رکھنے والا ایسا ہی ایک پارٹی ورکر جب اس گاؤں میں آکر آزادی کی نعمتوں اور برکتوں پر ایک تقریر کرتا ہے تو ایک دیہاتی اُٹھ کر کہتا ہے ’کیسی آزادی؟۔ آزادی تو صرف پڑھے لکھے لوگوں کو ملے گی۔ ہم بے چارے تو پہلے بھی انگریز سرکار کے غلام تھے، اب تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کے غلام ہو جائیں گے‘۔ ناول کے آخری حصے میں مسلمانوں کوگاؤں سے نکال کر اس ٹرین تک پہنچا دیا جاتا ہے جو مہاجرین کو لے کر پاکستان جارہی ہے لیکن اُس موقعے پر نواحی دیہات سے سِکھوں کا ایک جتھا وہاں آن پہنچتا ہے اور گاؤں والوں کو اُکساتا ہے کہ کوئی مسلمان یہاں سے زندہ بچ کر نہ جانے پائے کیونکہ مسلمان اکثریتی علاقوں میں سکھوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹاگیا ہے چنانچہ ایک بڑی تعداد میں سکھ ریلوے لائن پر پہنچ کر وہاں ایک رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں تاکہ ٹرین رُک جائے اور وہ مارکاٹ شروع کر سکیں۔ تاہم عین اُس وقت گاؤں کا ایک بائیس سالہ سکھ بدمعاش جگا وہاں آن پہنچتا ہے اور رکاوٹ ہٹا کر ٹرین کو گزر جانے دیتا ہے۔۔ ٹرین میں اس کی مسلمان محبوبہ بھی سوار ہے جسے وہ زندہ سلامت اس کی منزل پہ پہنچا دینا چاہتا ہے۔ ٹرین کی رکاوٹ ہٹانے کا فریضہ اقبال سنگھ بھی انجام دے سکتا تھا جو کہ ولایت پلٹ اعلٰی تعلیم یافتہ پارٹی ورکر ہے۔ لیکن ایسا خطرناک کام کرنے سے پہلے وہ گھنٹوں فلسفہء قربانی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ ’گولی تو اندھی ہوتی ہے۔ وہ اچھے بُرے کی تمیز نہیں جانتی۔ جس پر چلاؤ اسے ڈھیر کر دے گی، لیکن جان گنوانے کا کوئی مقصد ہونا چاہیئے اور وہ مقصد عوام پر واضح ہونا چاہیئے ورنہ قربانی کا کیا فائدہ۔۔۔ اگر کوئی شخص احتجاجاً خودسوزی کرلیتا ہے تو اس کا فائدہ تبھی ہے جب اس کے جلنے کا منظر سَو پچاس لوگ دیکھ رہے ہوں۔۔۔ محض باطِنی سچائی کافی نہیں ہے۔ سچائی کا خارجی اظہار بڑے پیمانے پر ہونا چاہیئے۔۔۔ تاکہ قربانی سے کوئی مقصد حاصل ہوسکے۔۔۔‘
پڑھا لکھا اقبال سنگھ اس فلسفے میں الجھا رہتا ہے اور ٹرین کے مسافروں کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرتا لیکن ان پڑھ جگا جان پر کھیل کر ریلوے لائن سے رُکاوٹ ہٹا دیتا ہے اور ٹرین بخریت گزر جاتی ہے۔ بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق اصل اشاعت کے پچاس برس بعد شائع ہونے والے موجودہ ایڈیشن میں جگّے کی کہانی کے علاوہ بھی بہت سی کہانیاں ہیں جو خوشونت سنگھ نے اپنے نئے پیش لفظ میں بیان کی ہیں۔ مثلاً اپنی بیوی کی کزن کا قصّہ جو تقسیم کے وقت پاکستان میں رہ گئی تھی اور یہیں ایک مسلمان سے شادی کر لی تھی۔ برسوں بعد جب خوشونت سنگھ پاکستان میں اس سے ملے تو خاتون نے اپنے بھائیوں، بہنوں کےلیئے بےشمار تحائف مصنف کو دیئے، لیکن جب مصنف یہ سارے تحفے لےکر ہندوستان پہنچے تو عزیزواقارب نے انھیں چھُونے سے بھی انکار کردیا۔ اِن نئی کہانیوں کے ساتھ ساتھ پچاس سالہ ایڈیشن میں ساٹھ نئی تصویریں بھی ہیں جوکہ فسادات کے پُر آشوب زمانے میں امریکی جریدے ’لائف‘ کی فوٹو گرافر مارگریٹ وہائٹ نے کھینچی تھیں۔ | اسی بارے میں تقسیم ہند کی نایاب تصویریںپاکستان پہلاگروپ ایل او سی کے پار19 November, 2005 | انڈیا ہندو مسلم رشتوں پر دستاویزی کتاب17 June, 2006 | انڈیا نئی فلم پاکستان میں: مہیش بھٹ28 June, 2006 | فن فنکار کشمیر : بیرونی مداخلت کی تیاری؟25 June, 2006 | انڈیا پاکستانی لالہ نے انڈین دل جیت لیئے24 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||