BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 June, 2006, 08:34 GMT 13:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر : بیرونی مداخلت کی تیاری؟

کشمیر
اگر فوجی انخلاء میں انڈیا کو کوئی پرابلم ہے تو نیٹو کو پروسیس میں شامل کیا جا سکتا ہے: میر واعظ
مسئلہ کشمیر کے تصفیہ میں یورپین یونین اور دیگر عالمی طاقتوں کی تازہ دلچسپی کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہندمخالف اور ہند نواز جماعتیں خوش آئند سمجھتی ہیں۔

یہاں کی نظریاتی تقسیم کے باوجود یہ حالیہ اتفاق رائے، برطانوی سفارتکار سارہ لمپرٹ کے حالیہ دورے کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔

ریاست کی سب سے پرانی ہند نواز پارٹی نیشنل کانفرنس کے موجودہ صدر عمرعبداللہ کے خیال میں، جوانڈیا کے نائب وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کا عمل سست پڑ جانے سے عالمی اداروں کو تشویش ہوئی ہوگی، جس کے نتیجے میں وہ اس معاملے میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔

عمر عبداللہ سمجھتے ہیں کہ اگراثر و رسوخ رکھنے والی عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر حل کرنے میں ’معاونت‘ کرتی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انڈیا نے کئی بار کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر میں بیرونی رول کو تسلیم نہیں کرے گا۔ لیکن جب کارگل کی لڑائی ہو رہی تھی تب تو ہم نے امریکہ سے ہی مدد لی تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی حرج ہے، البتہ بیرونی مداخلت کی بنیاد مخلصانہ سفارتی تعاون ہونی چاہیئے‘۔

ریاست کے حکمران اتحاد کی اہم اکائی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی فی الوقت انڈین پارلیمینٹ کی رکن ہیں۔ وہ کشمیر کے معاملے میں عالمی تعاون کے حق میں ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کی رفتار کو اس ’تعاون‘ سے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

 چند ماہ قبل دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو سے اپیل کی تھی کہ وہ جموں کشمیر میں فوجی انخلا کو ممکن بنائے۔
میر واعظ

انہوں نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا ’انڈیا اور پاکستان جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان وسائل کی شراکت کے آئیڈیا پر بہت آگے جاسکتے ہیں‘۔

علٰیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے جیسے ہند مخالف گروہوں کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ ’عا لمی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیئے کلیدی رول ادا کرنا چاہیئے‘۔ یہاں تک کہ حریت کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ میر واعظ عُمر فاروق نے چند ماہ قبل دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو سے اپیل کی تھی کہ وہ جموں کشمیر میں فوجی انخلا کو ممکن بنائے۔

میر واعظ کا کہنا ہے ’ یہاں تو اقوام متحدہ کے فوجی مبصر موجود ہیں۔ وہ خود حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اسی روشنی میں ہم نے کہا تھا کہ اگر فوجی انخلاء میں انڈیا کو کوئی پرابلم ہے تو نیٹو کو پروسیس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی تنازعات حل کرنے میں نیٹو نے نمایاں کام کیا ہے‘۔

سری نگر
کشمر میں عالمی طاقتوں کی تازہ دلچسپی کو خوش آئند سمجھا جارہا ہے

یہ پوچھے جانے پر کہ ان کا مجوزہ دورہ آئرلینڈ مسئلہ کشمیر میں یورپی یونین کے تازہ اقدامات سے کس حد تک تعلق رکھتا ہے، میر واعظ نے بتایا ’چونکہ آئرلینڈ تنازع کو حل کرنے میں بھی یورپی یونین کا کلیدی رول تھا ہم نے سوچا کہ اس ماڈل کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جائیں‘۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ہند نواز جماعتوں کا عالمی مداخلت کی حمایت کرنا ’معنی خیز‘ تبدیلی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے سربراہ محمد اشرف وانی کے مطابق بہت عرصے سے اس معاملے میں آراء بٹی ہوئی تھیں۔
وہ کہتے ہیں ’ہند نواز طبقہ تو انٹرنیشنل مداخلت کی حمایت نہیں کرتا تھا۔ شاید انڈیا کے تعلقات امریکہ اور چین کے ساتھ بہتر ہونے سے سوچ میں یہ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ویسے اچھی بات ہے اگر یورپی یونین مسئلہ کشمیر میں کردار نبھائے‘۔

واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حالات پر کافی عرصہ سے نظر رکھنے والی برطانوی سفارتکار سارہ لمپرٹ نے حالیہ دنوں وادی کے تازہ دورے کے دوران کئی سیاسی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔

گزشتہ ہفتہ یورپی پارلیمینٹ میں خارجی امور کی نائب سربراہ نکولس ایما بیراون کو کشمیر کے لیئے خصوصی رپورٹ تیار کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
اکثر سیاسی حلقوں کو نکولس بیراون کے دورہ وادی کا انتظار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد