نجیب محفوظ سے ایک ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوال: کشور یہ بتائیے کہ ہم آپ کا تعارف کیسے کرائیں ایک تو آپ مصنفہ ہیں، کئی کالم آپ نے لکھے ہیں۔ آج کل آپ کیا حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہیں؟ جواب: میں سرکار میں نہیں ہوں۔ ایک غیر سرکاری ادارے میں کام کر رہی ہوں۔ سوال: لوگوں کے لیے کشور ناہید ایک شاعرہ ہے تو کیا ہم اسی سے بات کریں؟ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا تعارف مجھ سے رہ جائے اس لیے میں یہ آپ سے پوچھ رہا ہوں؟ جواب: جو شاعرہ کو جانتا ہے تو باقی سب چیزیں ثانوی ہو جاتی ہیں۔ سوال: یہ بالکل صحیح کہہ رہی ہیں۔ یہ بتائیے گا کشور ناہید صاحبہ کہ جو عرب مصنف تھے بہت ہی نامور نجیب محفوظ ان سے آپ گزشتہ دنوں ملی ہیں تو کب آپ کی ان سے ملاقات ہوئی۔ میری ملاقات ان سے چوبیس جولائی کو ہوئی تھی اور اتفاق ایسا ہے کہ میں قاہرہ رات کو پہنچی تھی اور اگلے دن صبح میں نے اس خوائش کا اظہار کیا کہ مجھے نجیب محفوظ سے ملنا ہے تو مجھے بتایا گیا کہ ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ وہ تو اتوار کے اتوار ایک ریسٹورانٹ میں آ کر بیٹھتے ہیں اور وہیں دیدار دیتے ہیں اپنا۔ لوگ آتے ہیں اور ان کا ہاتھ چومتے ہیں اور وہ خاموش آنکھیں بند کیئے بیٹھے رہتے ہیں اور ایک گھنٹے بعد اٹھ کے چلے جاتے ہیں۔ سوال: تو آپ کو دیدار نصیب ہوا؟
تو میں ہوٹل پہنچ گئی۔ اب ہوٹل پہنچی ہوں تو پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں آخر کو تیسری منزل کے لیے پتا چلا کہ وہاں پر بیٹھے ہیں تو میں ہر کمرہ کھولتی رہی۔ کہیں کانفرنس تھی تو کہیں کچھ تھا آخر کو مجھے ایک جگہ تین بندے بیٹھے نظر آئےاور چونکہ شکل تصویروں میں دیکھی ہوئی تھی میں نےنجیب محفوظ کی۔ تو دیکھتے ہی میں نے کہا کہ اسلام و علیکم اور انگریزی میں ان کو بتایا کہ میں پاکستان سے کشور ناہید ہوں اور اس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں ایک لکھاری اور شاعرہ ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب نے عربی میری بات کا ترجمہ کیا تو انہوں نے فورًا ہاتھ بڑھایا اور مجھ سے ہاتھ ملایا۔ اور میں ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ان کے ساتھ میں نے آدھا گھنٹہ گزارا۔ ان کے ساتھ جو صاحب تھے وہ ان کے ساتھ ہمیشہ رہتے تھے کیونکہ جب سے انتہا پسندوں نے ان پر حملہ کیا تھا وہ اکیلے باہر نہیں نکلتے تھے۔ سوال: تو کیسی رہی یہ پہلی ملاقات؟ سب سے زیادہ دلچسپ جواب انہوں نے جس بات کا دیا وہ میرے سوال کہ آپ عورتوں کی تحریک کو کیسا سمجھتے ہیں کا تھا۔انہوں نے کہا کہ
سوال: یہ بتائیے کہ ان کی زندگی اور ادب کے بارے میں ہمیں کیا پتا ہے؟ جواب : میں نے ان سے کہا کہ آپ کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہوا ہے یہ بات ان کے لیے اچمبھا تھی وہ بہت خوش ہوئے کہنے لگے کہ مجھے تو کسی نے نہیں بتایا۔ تو میں نے کہا کہ میں پاکستان جا کر ان کو ترجمہ شدہ کتابیں بھیج دوں گی اور انہوں نے اسی وقت مجھے اپنا پتہ دیا کہ اس پتے پر تم کتابیں بھیج دینا۔ اور میں نے ان کو کتابیں بجھوا دیں ہیں اب پتا نہیں ان کو وہ ملی کہ نہیں۔ اور پھر میں نے ان کو کہا کہ آپ چونکہ پرانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور پرانی تاریخ کے توسط سے آپ اپنا ادب تحریر کرتے ہیں جس میں غریب مصر اور جو کہ محکوم مصر رہا ہے اس کی تاریخ کو نمایاں کرتے ہیں تو اس سے خوف زدہ ہو کر کیا انتہا پسندوں نے آپ پر حملہ کروایا ہے تو وہ ہنس پڑے۔ کہنے لگے کہ تم ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتی ہو۔ کیا تمھارے ملک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے تو میں نے کہا کہ ہم تو آئے روز ایسے واقعات کے عادی ہو چکے ہیں۔ سوال: کشور ناہید صاحبہ ان کے تین ناولوں پر مشتمل جو سیریز تھی جو انہوں نے قاہرہ کی زندگی کے بارے میں لکھی تھی وہ بہت مشہور ہوئی اور اسی کو نوبل انعام ملا ہے کیا آپ نے اسے پڑھا ہے، کیسی تھیں وہ ناویلیں؟ جواب: میں نے اسی توسط میں ان سے یہ ساری بات کی تھی کہ کہ آپ پرانی تاریخ کو نئے زمانے میں لا کر پوری محکومیت کی بھی اور مصر میں غربت کی بھی ایک داستان کی صورت میں لکھی ہے ۔ تو وہ اس پے بہت خوش ہوئے کہ تمھیں معلوم ہے تو میں نے کہا کہ ہمارے ہاں آپ کا تقابل کیا جاتا ہے پریم چند سے اور پریم چند بھی لکھتے ہیں اپنے زمانے کے غریبوں کی کہانی اور آپ بھی وہ لکھتے ہیں۔ لیکن میری جو آخری بات ان سے ہوئی وہ یہ سوال تھا کہ وہ آج کل کیا لکھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں آج کل گھر سے کم ہی باہر نکلتا ہوں۔ زیادہ تر لیٹا رہتا ہوں اور مجھے جو خواب آتے ہیں میں ا ن خوابوں کو تحریر کر دیتا ہوں اور ابھی جو ان کی آخری کتاب ’ڈریم‘ آئی ہے یہ وہی کتاب ہے جس کا انہوں نے مجھ سے تذکرہ کیا تھا۔ بہت شکریہ ناہید آپ کے وقت کا۔ | اسی بارے میں عرب مصنف نجیب محفوظ چل بسے30 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||