عرب مصنف نجیب محفوظ چل بسے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے مشہور مصنف نجیب محفوظ چورانے سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ نجیب محفوظ پہلے عرب مصنف تھے جن کو ادب کا نوبل پرائز ملا۔ نجیب محفوظ کو جس تصنیف پر نوابل پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا اسی کی بنا پر ان کےاپنے ملک کے کچھ مذہبی حلقوں نے انہیں مذہبی گستاخ قرار دیا اور ایک جنونی نجیب محفوظ کو قتل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ نجیب محفوظ کو ایک مہینہ پہلے سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ نجیب محفوظ کے ڈاکٹر موافی کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ان کی صحت خراب ہوتی گئی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ایک دن نجیب محفوظ کی اہلیہ نے ان کے کان میں کوئی بات کی جس پر وہ مسکرا دیئے۔ نجیب محفوظ کا کہنا تھا کہ ایک مصنف کا کام ان حالات کی نقشہ کشی کرنا ہوتا جن میں وہ رہتا ہے اور اگر حالات تبدیل ہو جاتے ہیں تو مصنف بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔نجیب محفوظ کی ناولوں میں قاہرہ کی زندگی کی نقشہ کشی کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں نجیب: بیمار مگر محفوظ12.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||