اردو لکھاری: باتوں ملاقاتوں کی سیریز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ اردو ادیبوں سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ یا سیریز ہے۔ جب ان ملاقاتوں کا منصوبہ بنایا گیا تھا تو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ یہ ملاقاتیں اتنی اہم ہو جائیں گی، لیکن وقت نے یہ کر دکھایا۔ بلاشبہ ان ادیبوں سے اردو کی پہچان اور اعتبار ہے لیکن یہ بھی نہیں کہ اردو کے پاس ادیبوں کا بس یہی اثاثہ ہے لیکن یہ بھی طے ہے کہ ان کے بغیر اردو کے اس جاری عہد کا کوئی تصور مکمل نہیں ہو گا۔ جن ادیبوں سے یہ ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ سب کے سب پاکستان کے ہیں اور اردو پاکستان ہی میں نہیں ہے، ہندوستان اور میں بھی ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ قرۃالعین حیدر، نیر مسعود، شمش الرحمٰن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کے بغیر اردو کے اس عہد کا ذکر مکمل ہو سکتا ہے تو اس کے ادبی فہم پر شک یقیناً کسی دلیل کا محتاج نہیں ہو گا۔ جن ادیبوں سے ملاقاتوں پر یہ سلسلہ مشتمل تھا ان میں منیر نیازی، ظفر اقبال، احمد فراز، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، انور مسعود اور منو بھائی اور فکشن میں شوکت صدیقی، عبداللہ حسین، بانو قدسیہ، انتظار حسین، مشتاق یوسفی، انور سجاد، خالدہ حسین، مظہرالاسلام، اسد محمد خان اور مستنصر حسین تارڑ شامل ہیں۔ اردو ادب کے حوالے سے شاید ہی کوئی ہو گا جو ان ناموں سے واقف نہیں ہو گا۔
جن لوگوں سے یہ ملاقاتیں ہوئی ان میں سے اکثر علیل تھے اور ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں سے کچھ نے وقت نکال لیا۔ ان میں سے منیر نیازی سے جب ملاقات ہوئی تو وہ کئی دنوں سے ’گھر بند‘ تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ باتھ روم میں گر کر خود کو چلنے پھرنے سے لاچار کر بیٹھے تھے۔ اس کے بعد جب وہ گھر سے کہیں جانے کے قابل ہوئے تو فیصل حنیف ہی تھے جن کے ساتھ وہ کہیں باہر جانے پر آمادہ ہوتے تھے۔ فیصل حنیف نوجوان شاعر ہیں، منیر نیازی سے محبت کرتے ہیں اور منیر نیازی ان کی رفاقت پر بہت اعتبار کرتے تھے۔ منیر نیازی سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی تو بہت بجھے اور تھکے ہوئے تھے لیکن بستر چھوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئے اور پھر کُھلے تو کھِلتے ہی چلے گئے۔ ان سے ملاقات ایک عرصے بعد ہو رہی تھی اسی درمیانی عرصے میں شروع ہونے والی علالت نے انہیں نحیف و نزار کر دیا تھا اور ان کی ساری بے قراری اور اضطراب آنکھوں میں سمٹ آیا تھا۔ اسی طرح کراچی میں شوکت صدیقی سے جب بعد از مشکل ملاقات ہوئی اور خوب ہوئی لیکن اس کی تفصیل ملاقات کے بیان کے ساتھ۔ ان کی صحت بہتر تھی۔ عرصے بعد ملے تھے، ملے تو باتیں کرتے چلے گئے۔ اگرچہ کہیں کہیں حافظہ اور آواز ساتھ چھوڑ جاتے تھے یا بات اور وقت کا حوالہ انہیں کہیں کا کہیں کھینچ لے جاتا تھا۔ وہ ایک ایک کا حال پوچھتے تھے، انہیں ان صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی بھی یاد آ رہی تھی جو برطانیہ اور مغرب میں سیاسی اور معاشی جلا وطنی کی زندگیاں گزارتے گزارتے وہیں کے ہو رہے ہیں۔ شاید اس لیے کہ میں لندن سے گیا تھا اور انہیں میرے بارے میں بھی یہی ڈر اور خدشہ تھا۔ میں انہیں بار بار ادب اور ان کی اپنی زندگی کی طرف لاتا اور وہ پھر ’فلاں کہاں ہے؟ فلاں کیا کر رہا ہے، فلاں کے شعری مجموعے کے بعد کیا آیا اور فلاں نے اس کے بعد کیا لکھا؟‘ کی طرف چلےجاتے۔ اس ملاقات میں پھر ملنے کا طے ہوا لیکن اس ’پھر‘ کا موقع ہی نہ آیا۔ ملاقات کے دو روز بعد ہی وہ چل بسے اور ان سے ملاقات کا ایک اور حصہ ممکن نہ ہو سکا۔
اس سانحے کے بعد ہفتے بھر میں منیر نیازی بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور ان دو کی رخصت نے ان ملاقاتوں کو اس اعتبار سے تاریخی بنا دیا کہ اس کے بعد کسی کی ان سے ایسی ملاقات اور انٹرویو کو وقت نے ممکن نہیں رہنے دیا۔ اب آپ ان کی وہ تصویریں دیکھیں گے، جنہیں آپ ان کی آخری تصویریں کہہ سکتے ہیں اور ان کی وہ باتیں سنیں گے جو ان کی آخری باتیں کہلا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم آپ کو ان ملاقاتوں کا حال بھی سنائیں گے جو ہو کر بھی نہیں ہوئیں۔ مثلاً نجم حسین سید اور مشتاق یوسفی سے ملاقاتیں۔ جو ہونے کے باوجود نہ ہونے کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور پھر وہ ملاقاتیں جو ممکن نہیں ہو سکیں۔ مثلاً عبداللہ حسین اور امر جلیل: عبداللہ حسین لاہور میں تھے اور ہیں۔ ان سے ملاقات طے تھی پر وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ پھر وہ گھر بھی آ گئے لیکن ملاقات کے حال میں نہیں تھے لیکن انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ لندن آئیں گے تو ضرور بتائیں گے اور ملیں گے لیکن اب تک یہ نہیں ہو سکا۔ اطلاع یہی ہے کہ وہ اب تک علیل ہیں۔ اسی طرح امر جلیل، جو سندھی کے حیات فکشن نگاروں میں سب سے اہم تصور کیے جاتے ہیں اور انگریزی کے کالم نگار بھی ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ یہ کہ اگر کسی انسان کے لیے ’میٹھے‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے تو وہ کیسا ہو سکتا ہے، امر جلیل ایسے ہی ہیں۔ ماضی کی چند غیر تفصیلی ملاقاتوں کے باوجود یہ تاثر میرے ذہن سے جا کر نہیں دیتا۔ کراچی پہنچا تو انہیں فون کیا، پتہ چلا کہ علیل ہیں۔ پھر عید الا لضحٰی آ گئی اور ہمارے درمیان ان کی مہمان داری نے ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی جسے نہ تو وہ گرا سکے اور نہ ہی میں عبور کر پایا۔ ان ادیبوں سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ اس لیے شروع کیا گیا تھا کہ ان کی زندگیوں کے کچھ حالات خود ان کی زبانی بیان ہو کر ایک سند حاصل کر لیں اور اس کے علاوہ ہلکی پھلکی سی نیم ادبی و نیم سوانحی گفتگو کے ساتھ کسی حد تک تخلیقی عمل پر بھی بات ہو جائے اور پھر یہ باتیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ذریعے ان لوگوں تک بھی پہنچائی جا سکیں جو ان سے دور ہیں اور ان تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن رسائی کے لیے دوسری دشواریوں کے علاوہ فاصلے بھی حائل ہیں۔
ہم چاہتے تھے کہ ان مختصر و مکمل ملاقاتوں میں ادیبوں کی زندگیوں کے اُن پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا جائے جو وہ عام انسان کی حیثیت سے گزارتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا اس لیے کہ بہت سے ادیب اپنی زندگی کے اس حصے کو اپنا ایسا علاقہ تصور کرتے ہیں جہاں وہ کسی اور کی موجودگی پسند نہیں کرتے۔ یہ سب ملاقاتیں کیسی ثابت ہوئیں؟ اس کا فیصلہ آپ خود پڑھ سن کر کریں گے۔ کیونکہ آپ کو ان ملاقاتوں میں ہونے والی روبرو گفتگو بھی دستیاب ہو گی اور اس گفتگو کا تحریری متن بھی۔ یہ ملاقاتیں ایک ایک کر کے آپ تک پہنچتی رہیں گی۔ اور پھر مسلسل آپ کی رسائی میں رہیں گی۔ ہماری کوشش ہو گی کہ ملاقاتوں یہ سیریز اسی پر ختم نہ ہو۔ |
اسی بارے میں بھائی جون07.01.2003 | صفحۂ اول وہ جو بچیوں سے بھی ڈرگئے25.06.2003 | صفحۂ اول ریفرنڈم - کشور ناہید کی نظم28.04.2002 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||