فلمی سکرپٹ رائٹرز کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’داغ‘، ’جھیل کے اس پار‘ ، ’امرا ؤ جان ادا‘ ، ’شطرنج کے کھلاڑی‘ اور’ سارا آکاش‘جیسی کامیاب فلموں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ فلمیں کسی نہ کسی معروف ادیب کی کتاب پر مبنی ہیں اور ان ادیبوں کا تعلق ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش سے رہا ہے۔ ان میں وید پرکاش ، اپیندرا ناتھ اشک، راجندر یادو اور مرزا ہادی علی رسوا جیسے ادیب شامل تھے۔ بالی ووڈ میں بننے والی فلموں کی تعداد میں تو آج بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن ریاست اتر پردیش کے ادیبوں کا ہندی فلموں میں رول اب صرف برائے نام رہ گیا ہے۔ اتر پردیش کی حکومت آج ایسے ادیبوں کی تلاش میں ہے جن کی تحریر پر مبنی فلم بنائی جا سکے۔ ایسا نہیں ہے کہ ریاست میں ادیب باقی نہیں ہیں۔ گزرے ہوئے برسوں میں ریاست میں ہندی کی بہترین تخلیقات اور ادب سامنے آیا ہے لیکن فلم کے سکرپٹ کا اپنا ایک الگ پہلو ہے۔ اتر پردیش فلم ڈویژن کارپوریشن کی چیئرپرسن اور مشہور اداکارہ جیا بچن کہتی ہیں کہ’ایسا نہیں ہے کہ ریاست میں لکھنے والوں کی کمی ہے لیکن اکثر یہ ادیب اپنی تحریروں کو فلم کے اسکرپٹ میں بدلنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور کئی بار خود ان کی تحریر کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ انہیں فلم سکرپٹ میں نہیں بدلا جا سکتا‘۔ یو پی ایف ڈی نے ان فنکاروں کی تلاش میں کئی قدم اٹھائے ہيں۔ ادارے نے کئی مرتبہ ’فیچر فلم اسکرپٹ رائٹنگ‘مقابلوں اور ورک شاپس کا اہتمام کیا ہے لیکن وہاں بھی انہیں مایوسی ہی ہوئی ہے ۔ جیا بچن نے بتایا کہ’ گزشتہ برس فلم اسکرپٹ لکھنے کا ایک مقابلہ کرایا گیا تھا اس میں 200 لوگوں نے حصہ لیا ۔ ان میں سے صرف تین لوگوں کے سکرپٹ کو ہی یو پی ایف ڈی نے چنا لیکن ان تینوں میں سے ایک بھی سکرپٹ فلم انڈسٹری کے پیمانوں پر پوری نہيں اترا اور اس کو فنانس نہیں کیا جا سکا‘۔ اس برس بھی یو پی ایف ڈی سی ایک ورکشاپ کا اہتمام کر رہی ہے جس میں فلم’گاڈمدر‘ کے سکرپٹ رائٹر ونئے شکلا شرکت کريں گے۔ فلم ’گاڈمدر‘ میں مرکزی کردار شبانہ اعظمٰی نے ادا کیا تھا اور اس فلم کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کافی ستائش کی گئی تھی۔ پچھلے سال کے تجربے کی ناکامی کے بعد اس برس نئی پالیسیاں تیار کی گئی ہیں۔ مسٹر شکلا نے بتایا کہ’پچھلی مرتبہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس بار صرف انہیں افراد کو حصہ لینے دیا جارہا ہے جنہیں’ فکشن رائٹنگ‘ میں دلچسپی ہے اور وہ فیچر فلم کی دنیا میں کچھ کرنا چاہتے ہیں‘۔ مسٹر شکلا نے کہا کہ فلم سکرپٹ لکھنا ایک ایسا ہنر ہے جس میں ایک ’سٹیریو ٹائپ‘ کہانی کواگر تخلیقی ڈھنگ سے لکھا جائے تو اس میں نئی زندگی آجاتی ہے۔ ہندوستان کی فلمی تاریخ میں کلاسیکی ناولز اور کتابوں پر مبنی کافی فلمیں بنتی رہی ہیں۔ ان میں شرت چندر چٹوپادھیائے کے ناول دیوداس اور پری نیتا ، امریتا پریتم کی کتاب پنجر، خشونت سنگھ کی ٹرین ٹو پاکستان ، منشی پریم چند کی شطرنج کے کھلاڑی اور مرزا ہادی علی رسوا کے کلاسیک ناول امراؤ جان ادا جیسی کتابوں پر بنی فلمیں امر ہو چکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||