 |  فائل فوٹو |
بھارت میں آنکھوں کے ڈاکٹروں نے ایک عدالت سے ایک فلم پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی ہے کہ جس میں ہیروئن کو آنکھوں کے قرنیہ کے آپریشن کے بعد بھوت دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس فلم کی نمائش سے لوگ آنکھوں کے عطیات دینے سے ڈر جائیں گے۔ آنکھوں کی ڈاکٹروں کی ایک تنظیم آل انڈیا آپتھلمولوجیکل سوسائٹی نے دلی ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ’نینا‘ فلم کورنیا بدلنے کے آپریشن سے لوگوں میں وہم پیدا ہوں گے۔ تنظیم نے کہاہے کہ فلم آنکھوں کے عطیات دینے والوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آنکھوں کے قرنیہ کے آپریشنز میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فلم قرنیہ کا عطیہ دینے والوں اور عطیہ وصول کرنے والوں دونوں میں خوف و ہراس کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ فلم سے لوگوں میں یہ وہم پیدا ہو گا کہ ان کی آنکھیں ان کی وفات کے بعد بھی زندہ رہیں گی۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بعض ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اگر وہ اپنی آنکھوں کا عطیہ دے دیں گے تو وہ اپنے اگلے جنم میں اندھے پیدا ہوں گے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق اس جنم کے اعمال دوسرے جنم میں انسان کے سامنے آتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس فلم میں آنکھوں کے آپریشن کی جس طرح عکاسی کی گئی ہے وہ درست نہیں ہے اور یہ لوگوں کو گمراہ کرئے گی۔ ممبئی کی فلمی صنعت بالی وڈ کی دو مشہور اداکارائیں اشوریہ رائے اور شرمیلا ٹیگور بھارت میں لوگوں کو آنکھوں کے عطیات دینے کی ترغیب دینے کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے اس فلم سے اس مہم پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ |