BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 September, 2003, 11:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رے کاگمشدہ سکرپٹ
ہندوستانی سنیما اب دنیا بھر میں جانا جاتا ہے
ستیاجیت کو ان کی خدمات کے صلے میں آسکر ایوارڈ بھی دیا گیا

بھارتی عہد ساز فلم ڈائریکٹر ستیاجیت رے کی موت کے دس برس بعد کلکتہ میں ان کے بنائے ہوئے ایک گمشدہ سکرین پلے کا انکشاف ہوا ہے۔

ستیاجیت کے بیٹے سندیپ رے کو پیشکش ہوئی ہے کہ وہ اپنے والد کی سن انیس سو اکسٹھ کی فلم ’تین کنیا‘ (تین بیٹیاں) کے سکرپٹ کا بیشتر حصہ خرید لیں۔ یہ سکرپٹ ایک شخص منظرِ عام پر لایا ہے تاہم وہ خود اس کا مالک نہیں ہے۔

سندیپ کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف ان کے لئے باعثِ حیرت ہے۔ ’مجھے پورا یقین ہے کہ یہ سکرپٹ ہمارے گھر سے چرایا گیا تھا‘۔

ڈائریکٹر ستیاجیت رے کا انتقال سن انیس سو بانوے میں ہوا تھا۔ وہ اپنی خدمات کے صلے میں آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے اٹھائیس فلموں کے سکرپٹ لکھے ہیں۔ ان کی محنت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایک فیچر فلم کا سکرپٹ دو یا تین نوٹ بکس میں سما سکتا ہے۔

اپنے فلمیں بنانے کے علاوہ ستیاجیت کے بیٹے نے ستیاجیت سوسائٹی بھی قائم کی ہے جو ان کے والد کے کام کو محفوظ کرنے کے لئے کام کرتی ہے۔

سندیپ کہتے ہیں کہ انہیں ایک فون کال موصول ہوئی اور فون کرنے والے نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ستیاجیت سے متعلق کچھ مواد ہے اور وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا یہ کام اصلی ہے۔ ’جس کے بعد وہ دو نوٹ بکس لے کر میرے پاس آیا جس میں ’تین کانیا‘ کا سکرپٹ تھا۔ وہ ہر نوٹ بک کو ایک لاکھ پچاس ہزار روپے میں فروخت کرنا چاہتا تھا‘۔

ماضی میں کئی افراد نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ستیاجیت رے کے سکرپٹس یا پینٹنگز موجود ہیں جو بعد میں نقلی ثابت ہوئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد