کملیشور کی فلمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں وفات پانے والے ہندوستانی ادیب کملیشور، بیک وقت ایک عمدہ کہانی نویس، مشاق مکالمہ نگار، ایک ماہر سکرین پلے رائٹر اور ایک کامیاب ڈاکومینٹری میکر تھے۔ وہ ہندوستان کے سرکاری ٹیلی ویژن دور درشن کے ایک اعلٰی انتظامی عہدے پر بھی فائز رہ چکے تھے۔ اُن کی تمام حیثیتوں پر خامہ فرسائی کے لئے تو دفتر درکار ہوں گے، اس نشست میں ہم صرف اُن کی فلموں پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں کملیشور کا نام پہلی بار آج سے کوئی تیس برس پہلے اُس وقت سنا گیا جب فلم آندھی دور درشن کے امرتسر مرکز سے دکھائی گئی تھی اور اسے لاہور اور گرد و نواح کے لوگوں نے بڑے ذوق و شوق سے دیکھا تھا۔ کچھ عرصے بعد اس فلم کے وڈیو کیسٹ بھی سمگل ہوکر پاکستان آگئے اور خاص خاص مقامات پر اُنکی پرائیویٹ نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ اُن دِنوں ایک فلم کےلئے تین بڑے بڑے کیسٹ استعمال ہوتے تھے اور لاہور میں جن لوگوں نے سب سے پہلے اُس ماڈل کے کیسٹ پلیئر خریدے تھے ان میں اداکارہ شمیم آراء بھی شامل تھیں، جوکہ فلم اور ٹیلی ویژن کے دوستوں کو گھر پہ مدعو کر کے بھارتی فلمیں دکھایا کرتی تھیں۔ یہ ایک انتہائی کم یاب سہولت تھی اور صرف خوش قسمت افراد ہی اس نعمت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔
فلم آندھی کی کہانی کملیشور کے ایک ناول پر مبنی تھی جسے معروف فلمی شخصیت گلزار نے پردے پر منتقل کیا۔ اس فلم کا مرکزی کردار ایک جوان عورت ہے جو ایک سیاستدان باپ کی بیٹی ہے اور خود بھی سیاست میں نام پیدا کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔ تاہم اس کے سیاسی مخالفین طرح طرح کے سکینڈل بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ جن دِنوں یہ فلم تیار ہوئی مِسز اندرا گاندھی کی حکومت تھی اور اُن کی نافذ کردہ ایمرجنسی نے بھارتی سیاست میں خاصی بے چینی پیدا کر رکھی تھی۔ فلمیں سینسر کرنے والے بورڈ کا دھیان فوری طور پر سیاسی صورتِ حال کی طرف گیا اور انھوں نے آندھی کی نمائش پر پابندی لگا دی۔ ناول نگار کملیشور کا موقف تھا کہ یہ کہانی ایمرجنسی سے بہت پہلے لکھی گئی تھی اور ہدایت کار گلزار کا کہنا تھا کہ اس کے مرکزی کردار کا اندرا گاندھی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جانچ پڑتال کے مختلف مراحل سے ہوتی ہوئی بالآخر یہ فلم وزیرِاعظم کے سامنے ذاتی ملاحظے کے لئے پیش کی گئی اور وہاں سے عمومی منظوری کے بعد اسے کچھ قطع برید کے بعد عام نمائش کےلئے پیش کردیا گیا۔
فلم کی مرکزی خاتون آرتی دیوی بار بار بتاتی ہے کے اس کی آئیڈیل شخصیت کون ہے۔ نام لئے بغیر وہ دیوار کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں مسز اندرا گاندھی کا پورٹریٹ آویزاں ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ فلم کا جو پرنٹ دور درشن سے نشر ہوا اور جسے لاہور اور گِرد و نواح میں بہت سے پاکستانیوں نے دیکھا، اس میں دیوار پر لگی مسز اندرا گاندھی کی تصویر کو بڑے بھدے طریقے سے فریم بہ فریم کھرچ دیا گیا تھا۔ اگر اس منظر کے خلاف سینسر بورڈ نے کوئی حکم جاری کیا ہوتا تو سرے سے منظر ہی کاٹ دیا جاتا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ افسرانِ اعلٰی نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہوگا تاہم دور درشن کے کسی مقامی افسر نے محض کارکردگی دکھانے کےلئے منظر کے ہر فریم میں سے پورٹریٹ کے حصّے کو کھُرچ ڈالا۔ جس برس متنازعہ فلم آندھی ریلیز ہوئی اسی برس (1975) گلزار کی ڈائریکشن میں ایک اور کامیاب جذباتی فلم ٰ موسم ٰبھی منظرِ عام پر آئی۔ اس فلم کے پس منظر میں اے جے کرونِن کا ناول ’ دی جُوڈس ٹری ‘ تھا۔ لیکن اسے مقامی رنگ میں ڈھالنے کا اہم فریضہ کملیشور کو سونپا گیا اور جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے وہ جانتے ہیں کہ کملیشور نے یہ ذمہ داری کس خوبی سے نبھائی ہے۔
اسکے بعد کملیشور کو ایک خالص کمرشل فلم پر کام کرنا پڑا جس کا مرکزی خیال ہدایت کار وجے آنند نے سوچا تھا۔ اس میں ایک شخص اپنے سوتیلے بھائی کو راستے سے ہٹا کر اس کی ساری جائیداد اور دولت پر قابض ہوجاتا ہے لیکن اس بھائی کی اولاد یعنی امیتابھ اور دھرمیندر بڑے ہوکر سارا حساب برابر کردیتے ہیں۔ اسکے ایک برس بعد بننے والی فلم ساجن کی سہیلی بھی اگرچہ ایک خالص کاروباری فلم تھی لیکن سکرین پلے اور مکالمات میں کملیشور نے اپنا رنگ دکھایا تھا۔ مزید دو برس کے بعد کملیشور نے فلم سوتن کے مکالمات لکھے جن میں امیر غریب کے ازلی تضاد کو جزیرہ ماریشیس کی فضاؤں میں ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ اسی برس کملیشور نے ہدایتکار رِشی کیش مکرجی کےلئے فلم’ رنگ برنگی‘ کی کہانی بھی تحریر کی جوکہ ایک مکمل کامیڈی فلم تھی جس میں ایک میاں بیوی کی نیم خوابیدہ باہمی محبت کو جگانے کےلئے ایک تفصیلی منصوبہ بندی کی جاتی ہے جوکہ پیچیدگیوں کا شکار ہوکر خود منصوبہ بندوں کی جان کا عذاب بن جاتی ہے۔ اگلے چند برسوں میں کملیشور نے یہ دیش، لیلٰی اور سوتن کی بیٹی جیسی فلموں کے سکرین پلے اور مکالمے تحریر کیے لیکن اب انھیں احساس ہونے لگا تھا کہ وہ دنیائے ادب میں اپنا بہت اونچا مقام چھوڑ کر فِلم کی چھچھوری دنیا میں آن پھنسے ہیں جہاں انھیں اپنے سے کم عقل اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔
چنانچہ کملیشور کا ردِ عمل بھی آخر کار ویسا ہی ہوا جیسا کسی زمانے میں پریم چند، کرشن چندر اور سعادت حسن منٹو کا ہُوا تھا۔ یہ ادیب بھی بمبئی کا فلمی جنگل چھوڑ کر وادیء ادب میں واپس آگئے تھے۔ تاہم کملیشور نے فلم نگری سے واپسی کے بعد ٹیلی ویژن کی دنیا میں بڑا نام پیدا کیا۔ کئی کامیاب سیریل لکھنے کےعلاوہ انھوں نے ہندوستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب ٹاک شو ’پرِکرما‘ بھی شروع کیا جسے مقبولیت اور شہرت میں آج تک کوئی اور شو مات نہیں دے سکا۔ | اسی بارے میں کملیشور انتقال کر گئے28 January, 2007 | انڈیا سونیا گاندھی کی زندگی پر فلم 05 September, 2005 | انڈیا ’تمباکونوشی فلمانے پر پابندی بے تُکی‘01 June, 2005 | انڈیا باغی رہنماؤں کی عریاں فلمیں 27 August, 2005 | انڈیا فرحان اختر ،انو کپور فلم ’فقیر‘میں 07 September, 2005 | انڈیا لندن بم دھماکوں پر مہیش بھٹ کی فلم 05 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||