’تمباکونوشی فلمانے پر پابندی بے تُکی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی فلمسازوں نےفلموں میں سگریٹ نوشی کے مناظر پر پابندی کو بے تُکی بات قرار دیا ہے۔ ہندوستان میں حکومت نے فلم اور ٹیلی ویژن کے مناظر میں سگریٹ، بیڑی یا کسی بھی طرح کے تمباکو کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت کی ہدایات کے مطابق سگریٹ کے پیکٹ یا اسکے اشتہار کی ہورڈنگز تک فلم میں دکھانا ممنوع ہوگا۔ اس حکم کا نفاذ جولائی سے ہوگا۔ فلمسازوں نے کہا کہ یہ حکم ان کے فنکارانہ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی روکنے کے لیے فلموں کو نشانہ بنانا غلط ہے۔ وزارت صحت کے سکریٹری بھوانی تیاگ راجن نے بتایا ہے کہ آئندہ جولائی سے فلم یا ٹی وی کے مناظر میں سگریٹ، بیڑی جیسے تمباکو سے بننے والی تمام اشیاء نظر نہیں آئیں گی اس کے علاوہ ایسی پرانی فلمیں کی نمائش کے دوران جن میں سگریٹ نوشی کے مناظر ہوں ان کی نمائش کے دوران یہ لکھنا لازمی ہوگا کہ تمباکو کا استعمال صحت کے لیے مضر ہے۔ ہندوستان میں تمباکو کی اشیاء کے اشتہارات پر پہلے ہی سے پابندی نافذ ہے۔ لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ فلموں کے مناظر میں ہیروکے سگریٹ پینے سے اسکی زیادہ تشہیر ہوتی ہے۔ اس پابندی سے ہندوستان دنیا کا پہلا ملک ہوگیا ہے جہاں فلموں میں سگریٹ دکھانے پر پابندی عائد ہوگی۔ حکومت کی ان ہدایات پر شیام بنیگل کا کہنا تھا ’یہ صحیح کہ ہیرو کے کردار مؤثر ہوتے ہیں۔ لیکن اس طرح کی پابندی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑیگا۔ لوگ سماج میں پاس پڑوس کے لوگوں سے زیادہ سیکھتے ہیں اور اگر وہاں سب کچھ جاری ہے تو اس پابندی کا کوئی فائدہ نہیں‘۔ ہدایت کار مہیش بھٹ کا کہنا ہے کہ ’اس سے سگریٹ نوشی میں کوئی کمی نہیں آئیگی۔ یہ ایک طرح سے فلمی صنعت کو نشانا بنانا ہے‘۔ اشتہارات کے ماہر پرسن جوشی کا کہنا تھا کہ ’ایک دباؤ ہے جس کے سبب یہ پابندی عائد کی جاتی ہے۔ لیکن لوگوں کی عادتین اس طرح سے نہیں بدلتی‘۔ لیکن فلم سسینسر بورڈ کی صدر شرمیلا ٹیگورنے اس حکم کا خیر مقدم کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا ’اچھا اثر پڑنا چاہیے۔ بچوں میں شاہ رخ اور عامر خان جیسے اداکار بہت مقبول ہیں اور اگر انہیں سگریٹ نوشی کرتے دکھایا جاتا ہے تو اسکا ان پر اثر پڑتا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||