BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2003, 19:18 GMT 23:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانون کے تقاضے

تمباکو نوشی پر پابندی
تمباکو نوشی پر پابندی کا آرڈیننس

تیس جون دو ہزار تین کو پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں وزارتِ صحت کی جانب سے ایک ملک گیر نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس میں سرکاری ملازمین اور شاید عوام الناس کو بھی (کیونکہ یہ اعلان عوام تک پہنچ نہیں پایا) متنبہ کیا گیا کہ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے صدارتی آرڈیننس کے تحت کوئی بھی شخص ہسپتالوں، دفاتر، عوامی ذرائع نقل وحمل، کھیل کے میدان، انتظار گاہوں، بس اڈّوں اور دیگر عوامی جگہوں پر تمباکونوشی کرتا پکڑا گیا تو ایک ہزار جرمانہ کا سزاوار ہوگا۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ دوبارہ یا تیسری مرتبہ پکڑے جانے کی صورت میں جرمانے کی رقم ایک لاکھ تک بھی ہو سکتی ہے۔ نیز سگریٹ کمپنیاں اپنی مصنوعات کو ذرائع ابلاغ پر تو کیا دکانوں کے باہر بھی مشتہر نہیں کر سکتیں۔

اور اب تیس ستمبر کو اس نوٹیفیکیشن کی طبعی عمر تو تمام ہوئی لیکن عوام کو اس کے آنے پر پریشانی ہوئی، نہ جانے کا افسوس اور نہ ہی اس کے دوبارہ جاری ہونے کے خیال سے کوئی تشویش۔ ایسا کیوں؟

سگریٹ نوشی پر پابندی

ہیلتھ ایجوکیشن ایڈوائزر عبدالستار تو بہت پر امید ہیں کہ جلد ہی یہ آرڈیننس مستقل قانون کی حیثیت اختیار کر جائے گا کیونکہ ’یہ ایل ایف او کا حصہ ہے اور صدر صاحب اسے لاگو کرنے میں سنجیدہ ہیں’۔ اس سلسلے میں چلائی جانے والی مہم کےلئے، جس میں ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، پوسٹرز اور میڈیا ورکشاپوں کے ذریعے عوام تک یہ پیغام پہنچانا مقصود تھا، صحت کی عالمی تنظیم نے دو لاکھ ڈالر جبکہ وزارت صحت نے بیس لاکھ روپے کی رقم خرچ کی۔

آٹھ صفحاتی آرڈیننس اور چار صفحات پر مشتمل نوٹیفیکیشن کی کاپی لے کر جب ہم اس کی وضاحت کے لئے ضلع کچہری پہنچے تو وکیل صاحب نے قدرے درشتگی سے کہا: ’کیسا قانون بھائی، اسی حکومت کی ایک وزارت کہتی ہے سگرٹ نوشی پر پابندی لگاؤ، دوسری سگریٹ کی ڈبیہ پر تمباکو نوشی کے ضرر رساں ہونے کا پیغام دے کر بری الذّمہ ہو جاتی ہے، اور تیسری کہتی ہے بیچو، سرکار کو فائدہ ہوگا‘۔

وکیل صاحب کی کھری کھری سن کر ہم نے جیب سے پرانے اخبار کا وہ تراشا نکالا جس کے مطابق پولیس، مقامی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے رہی تھی تاکہ موقع پر لوگوں کو پکڑا جاسکے۔

سگریٹ نوشی پر پابندی

اس کی تفصیلات جاننے کےلئے جب ہم ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر کے کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی میز پر پڑی بینسن کی ڈبی، لائٹر، ایش ٹرے میں بجھے سگرٹ اور ائر کنڈیشنڈ کمرے میں پھیلی تمباکو کی خوشبو نے ہمارے سوالات کا گلا گھونٹ دیا۔

بس اتنا پتہ چلا کہ کسی سول یا سیشن جج کی عدالت میں اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمہ قائم نہیں ہوا۔ البتہ یکم جولائی کی صبح سیکرٹری صحت اعجاز رحیم نے ایک سیکشن افسر کو ایک مہینے کے لئے معطل کر دیا تھا کیونکہ وہ وزارت صحت کی عمارت میں ’بقلم خود‘ سگرٹ نوشی میں مصروف تھا۔

شام کو جب ہم نے اپنے تمام دن کی روئیداد ہاشو بھائی کے گوش گزار کی تو انہوں نے سگریٹ کا ایک لمبا کش اندر کھینچا، پھر دھواں اور مغلظات اگلتے ہوئے کہنے لگے: ’یہ لوگ پاگل ہیں کیا؟ صرف پاکستان ٹوبیکو کمپنی ڈیوٹی کی مد میں سرکار کےلئے روزانہ چھ کروڑ کا ریونیو اکٹھا کرتی ہے۔ سرکار اس کے خلاف کیسے کارروائی کر سکتی ہے؟ پچھلے سال کا بجٹ بچ گیا ہوگا لہٰذا اسے تیس جون سے پہلے خرچ کرنا لازمی ہوگا تو یہ ڈھکوسلہ شروع ہو گیا ہے اور کچھ نہیں۔ تم پریشان مت ہو۔‘

سگریٹ نوشی پر پابندی

واقعی، اگر سترہ گریڈ کا جج ہزار روپے کا جرمانہ کر سکتا ہے تو اس سے کہیں کم گریڈ کا سپاہی دس یا پندرہ روپے لے کر وارننگ تو دے ہی سکتا ہے۔

اس کے بعد ہماری ملاقات ایک ادھیڑ عمر سی ایس پی افسر سے ہوئی جو فلسفیانہ انداز میں یوں گویا ہوئے: ’ہمارے ملک میں سرکار اور عوام کے رویّئے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سرکار بدیسی لباس پہن کر، ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر اور پائپ یا سگار کے کش لگاتے ہوئے ایک قانون بناتی ہے اور خوش ہوتی ہے۔ عوام دیسی لباس پہن کر اور موسم سمیت ہر سختی جھیل کر اس قانون کو توڑتی ہے اور خوش ہوتی ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد