| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حبیب نالہ: نشہ کے عادی افراد کا ڈیرہ
کوئٹہ چھاؤنی اور شہر کے خوبصورت اور بارونق علاقوں کے بیچوں بیچ گزرنے والے گندے پانی کے نالے میں جھانک کر دیکھیں تو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹنے والے نشے میں گرفتار افراد سسکتی اور تڑپتی موت کے منتظر نظر آتے ہیں۔ آئے روز ایک یا دو لاشیں اس نالے سے نکالی جاتی ہیں جو کچھ وقت کے لئے شہر کے اہم جناح روڈ پر پڑی رہتی ہیں۔ لوگ لاش دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ کچھ نشے کے عادی افراد اس لاش پر بھیک مانگ کر اپنا مطلب نکالتے ہیں اور رفو چکر ہو جاتے ہیں اور آخر میں ایدھی کی گاڑی لاش کو لاوارث سمجھ کر ساتھ لے جاتی ہے۔ گندے پانی کایہ نالہ حبیب نالہ کہلاتا ہے جو ہیروئن کے نشے کےعادی افراد کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ یہاں روزانہ دو ہزار کے لگ بھگ افراد آتے ہیں ان میں نوجوانوں کے علاوہ بوڑھے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو یہاں نشے کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء ادویات اور رات بسر کرنے کے لیے جگہ بھی دستیاب ہوتی ہے۔
عظمت اللہ گزشتہ پندرہ سال سے ہیروئن کا نشہ کر رہا ہے اور حبیب نالہ ہی اس کی رہائش گاہ ہے۔ نشے کے لیے شروع شروع میں تو کچھ رقم اس کے اپنے پاس ہوتی تھی جو وہ اپنے چھوٹے سے کاروبار سے کماتا تھا پھر آہستہ آہستہ اس کا کاروبار ختم ہو گیا تو گھر کی اشیاء فروخت کرکے نشے کی آگ پر قابو پاتا تھا۔ پھر چوری شروع کر دی اور اب اس وقت معذور بن کے شہر میں بھیک مانگتا ہے۔ جب اس سے پوچھا کہ کیسے معذور بنتے ہو تو اس نے کہا کہ وہ پیروں پر پٹیاں باندھ لیتا ہے اور سڑک کے کنارے بیٹھ جاتا ہے۔ عظمت نے کہا: ’لوگ کچھ نہ کچھ دے جاتے ہیں۔ بعض اوقات جب لوگ کچھ نہیں دیتے تو شیشے میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ کہیں لوگوں کو مجھ پر ہیروئنچی کا گماں تو نہیں ہو رہا۔‘ عظمت اللہ نے بتایا کہ وہ روزانہ چھ سو روپے سے زیادہ کما لیتا ہے یعنی مہینے کے اٹھارہ ہزار روپے کماتا ہے اور سب ہیروئن کے دھوئیں میں اڑا دیتا ہے۔ اس نے بتایا کہ گھر سے لا تعلق ہو چکا ہے، منگنی ہوئی تھی شادی نہیں کی۔ اس کا کہنا تھا: ’اب مجھے کوئی نہیں پوچھتا۔ بوڑھی ماں حبیب نالے میں ملنے کبھی کبھی آجاتی ہے۔ منتیں کرتی ہے اور نشے کی عادت چھوڑنے کا کہتی ہے لیکن کمبخت ایسی منہ کو لگی ہے کہ چھوٹنے کا نام بھی نہیں لیتی۔ ایک دو مرتبہ علاج کرایا اور ہیروئن کے عادت چھوڑنے کی کوشش کی لیکن معاشرہ اب اسے قبول نہیں کرتا ہے۔ جہاں جاتا ہوں یہی کہتے ہیں وہ دیکھو جہاز آگیا ہے۔‘ کوئٹہ میں ہیروئن کے نشے کے عادی افراد کو طنزاً جہاز کہہ کر پکارتے ہیں۔
کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی یہ نشہ وافر مقدار میں ملتا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم وائس کے دائریکٹر کلیم اللہ نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق صرف حبیب نالہ میں روزانہ سات لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی ہیروئن اور دیگر منشیات فروخت ہوتی ہیں۔ ہیروئن کی ایک پڑیا ستر روپے میں ملتی ہے اور ایک نشے کا عادی فرد روزانہ تین سے چھ سگریٹ پیتا ہے۔ بعض لوگ ہیروئن کو نشہ آور انجکشن میں ملا کر رگ کےذریعے اپنے جسم میں ڈالتے ہیں جس سے نشہ زیادہ دیر تک رہتا ہے۔ پچپن سالہ اختر نے بتایا کہ وہ گزشتہ پچیس سال سے ہیروئن استعمال کررہا ہے۔ اب وہ سگریٹ نہیں پیتا بلکہ اپنے آپ کو انجکشن لگاتا ہے۔ اختر کے ہاتھ اور بازو پر سوئیوں کے ان گنت نشان تھے۔ انھوں نے بتایا کہ حبیب نالہ میں انجکشن لگانے والا بھی موجود ہوتا ہے جو انجکشن لگانے کے پانچ روپے لیتا ہے۔ عام آدمی جب انجکشن لگاتا ہے تو وہ گرم رگ میں نشہ ڈال دیتا ہے جس سے بندہ مر جاتا ہے اس طرح ان کے کئی ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد کا کہنا تھا کہ شہر میں آٹا اتنا آسانی سے دستیاب نہیں ہے جتنی آسانی سے منشیات مل جاتی ہیں۔ حبیب نالہ میں بچے اور خواتین بھی آتی ہیں۔ اختر نے بتایا کہ خواتین بھی ان کے ساتھ بیٹھی ہوتی ہیں اور انہیں ایسا کبھی محسوس نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ جنس مخالف بیٹھی ہے۔ عظمت اللہ نے کہا: ’نہ شہوت ہوتی ہے اور نہ کچھ اور ہم صرف اپنے نشے میں غرق ہوتے ہیں۔‘ عظمت اللہ نے بتایا کہ اسے اس زندگی سے خوف آتا ہے۔ ہر لمحہ سسکتی ہوئی موت نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’جب پنی پر پاؤڈر ڈالتا ہوں اور اس کے کش لگانا شروع کرتا ہوں تو ساتھ ساتھ ایک خوف بھی طاری رہتا ہے کہ ایک دن اس کی لاش بھی جناح روڈ پر کہیں لاوارث پڑی ہوگی اور اس کا ایک ساتھی ہیروئن کی پڑیا حاصل کرنے کے لیے اس کی لاش کے قریب بیٹھ کر بھیک مانگے گا اور پھر رفو چکر ہو جائے گا اور آخر میں اسے بھی لاوارث سمجھ کر دفن کر دیا جائے گا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||