پابندی میں بھی تمباکونوش بڑھ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دو برس قبل سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی کا قانون تو نافذ کردیا گیا لیکن پھر بھی ملک میں سگریٹ نوشوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے۔ صحت سے متعلق حکومتی ادارے اور غیر سرکاری تنظیموں میں پاکستان کے اندر سگریٹ نوشی کرنے والوں کے اعداد وشمار پر تو اختلاف رائے ہے لیکن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک حالیہ سروے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں پندرہ برس سے زیادہ کی عمر کے مردوں میں انتیس فیصد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ اس عمر کی خواتین کی تعداد تین اعشاریہ چار فیصد ہے۔ سرطان یعنی کینسر کے مرض کے خلاف قائم سوسائٹی کا دعویٰ ہے کہ پندرہ برس سے زیادہ عمر والے سینتیس فیصد مرد اور چار فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے دو برس قبل پاکستان میں سرکاری دفاتر، ہسپتال، ریلوے سٹیشن، پارک اور دیگر عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانے کا قانون منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسی تعلیمی ادارے کے اندر یا قریب و جوار میں بھی سگریٹ فروخت کرنے پر ممانعت ہے۔ تمباکو نوشی کے اس قانون کے مطابق اٹھارہ برس سے کم عمر والوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر بھی پابندی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کہیں بھی دیکھنے میں نہیں ملتا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کی کابینہ کے تقریباً دو درجن تمباکونوشی کرتے ہیں۔ وزراء کے علاوہ بیسیوں پارلیمانی سیکریٹری، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین، اور اراکین اسمبلی و سینیٹ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پاکستان کے پارلیمان کی عمارت کے اندر ایوان سے ملحقہ لابیوں میں جہاں قومی اسمبلی و سینٹ کی ارکان سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہاں صحافی اور عام آدمی بھی سگریٹ پیتے نظر آتے ہیں۔ اکتیس مئی کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تمباکو نوشی سے پرہیز کا دن یعنی ’نو ٹوبیکو ڈے‘ منایا جا رہا ہے اور گزشتہ برسوں کی طرح وعدوں کے ساتھ ہی یہ دن بھی گزر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کی موثر روک تھام کے لیے حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ لیکن وسیع پیمانے پر کامیابی اس وقت ہی ممکن ہوسکتی ہے جب شہری خود احساس ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ ان کے مطابق جب وزراء اور بڑے افسران اپنے دفاتر میں تمباکو نوشی سے پرہیز نہیں کریں گے اس وقت تک عام آدمی یا چھوٹے درجے کے ملازمین بھی عمل نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ایک سو تیس سے زیادہ ’برانڈ‘ کے سگریٹ تیار کیے جاتے ہیں اور حکومت کو ٹیکس کے مد میں تیس ارب روپوں کے لگ بھگ سالانہ آمدن ہوتی ہے۔ پاکستان کے اندر سگریٹ سازی میں جعلسازی کی شکایات بھی عام ہیں اور اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک میں سالانہ ساڑھے پندرہ ارب روپوں کی مالیت کے جعلی سگریٹ فروخت ہوتے ہیں۔ وزیر صحت نصیر خان نے کچھ عرصہ قبل ایک سیمینار سے خطاب میں کہا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ کے قریب افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر موت کا شکار بنتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||