BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 April, 2005, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی ایشیا، ٹائفائڈ کا گڑھ

News image
لاہور میں بچوں کے ماہر ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ دنیا میں ٹائفائڈ کے مرض میں مبتلا ہونے والے اسی فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے ہے۔

ان ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انتہائی محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ آبادی میں سے ایک ہزار افراد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ دنیا میں یہ شرح ایک لاکھ پر دس افراد کی ہے۔

لاہور کے میو ہپستال میں بچوں کے شعبہ کے صدر پروفیسر اشرف سلطان، بچوں کی ماہر ریٹائرڈ پروفیسر فہمیدہ جلیل اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں بچوں کے امراض کی پروفیسر رفعت نثار نے سنیچر کو لاہور میں ٹائفائڈ پر ایک پریس کانفرنس کی۔

پروفیسر اشرف سلطان نے کہا کہ دنیا میں ایک کروڑ ستر لاکھ افراد ہر سال ٹائفائڈ میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے سات لاکھ لوگ اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خطرناک مرض ہے جس سے اگر مریض بچ بھی جائے تو اس کے بُرے اثرات اس کی صحت پر پڑ جاتے ہیں۔

پروفیسر اشرف سلطان نے کہا کہ اس مرض کا جرثومہ (بیکٹیریا) پانی اور غذا کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں آدھی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو نلکے کا پانی پینے کو ملتا ہے ان کے بارے میں فرض کیاجاتا ہے کہ انہیں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے لیکن انہیں بھی پانی اُبال کر استعمال کرنا چاہیے کیونکہ ٹائفائڈ کا بیکٹیریا صرف زیادہ درجہ حرارت سے ختم ہوتا ہے۔

پروفیسر فہمیدہ نے کہا کہ ہمارے ملک میں زیادہ تر اسکول جانے والے پانچ سے انیس سال کی عمر کے بچوں کو ٹائفائڈ کا مرض لاحق ہوتا ہے کیونکہ وہ گھر سے باہر کی چیزیں لے کر کھاتے ہیں جو صاف نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ گرمی کے موسم میں کٹے ہوئے پھل، قلفی، آئس کریم اور برف کے گولے اس مرض کا باعث بنتے ہیں جن کی روک تھام کے لیے قانون تو موجود ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹائفائڈ کا جرثومہ برف میں چار سے پانچ ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔

پروفیسر رفعت نثار نے کہا کہ پاکستان میں اینٹی بائوٹک ادویات کے غیر ضروری اور نامناسب استعمال سے ٹائفائڈ کے جرثومے میں اس کے خلاف استعمال کی جانے والی اینٹی بائیوٹک دواؤں سے مزاحمت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بہتر یہی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں جن میں پانی اور غذا کی صفائی اور انسانی فضلہ کو محفوظ طریقہ سے ٹھکانے لگانا شامل ہے۔

پروفیسر اشرف سلطان نے کہا کہ جب ایسے حالات ہوں کہ ٹائفائڈ میں مبتلا ہونے والے افراد کی شرح بہت زیادہ ہو اور دواؤں کے خلاف جرثومہ میں مزاحمت پیدا ہوجائے تو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کے مطابق ٹائفائڈ کے خلاف ویکسی نیشن کرانی چاہیے جو چار سے پانچ سال تک کارآمد رہتی ہے اور اس کی کامیابی کی شرح اب اسیّ فیصد ہو چکی ہے۔

ان ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں ٹائفائڈ کے خلاف ویکسی نیشن کو بھی شامل کرے جو ابھی تک شامل نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد