سادہ سے سادہ کمپیوٹر کی جستجو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک کمپنی نے ذاتی استعمال کے لیے بڑے اور وزنی روایتی کمپیوٹر کی جگہ ایک چھوٹا کمپیوٹر متعارف کروایا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ عالمی سطح پر کمپیوٹر تک رسائی کے بارے میں عدم مساوات کو ختم کر دے گا۔ ایک سو پاؤنڈ سے کم مالیت کے ’تھِن کلائنٹ(thin client)‘ نامی اس آلے کا نام نِیوو (Nivo) ہے اور خیال ہے کہ اس کی مدد سے کمپیوٹر کی سہولیات مزید دو ارب افراد تک پہنچ پائیں گی۔ نِیوو کو ندیو نامی کمپنی نے تیار کیا ہے جو منافع کے لیے کام نہیں کرتی۔ ندیو سواہیلی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ’ہاں‘ ہیں۔ ندیو نے بتایا کہ نِیوو سے پہلے بھی تھِن کلائنٹ موجود تھے لیکن وہ بڑی بڑی کمپنیوں کے استعمال میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس تصور میں بہتری پیدا کر کے چھوٹی کمپنیوں اور انٹرنیٹ کیفے کے لیے کارآمد بنایا گیا ہے۔ چھوٹی کمپنیوں اور انٹرنیٹ کیفے میں ایک ایسے نظام کی ضرورت تھی جس پر دو سے بیس تک کمپیوٹر کام کر سکیں۔ نیوو ’اوپن سورس سافٹ ویئر(Open Source Soft Ware)‘ کے اصول کے تحت کام کرتا ہے۔ ندیو کے ڈاکٹر سیب ولس نے برطانیہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترقی پذیر دنیا کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر کام کر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمپیوٹر فی کس ناقابل عمل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||