باغی رہنماؤں کی عریاں فلمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں شمال مشرقی ریاست تری پورہ کے باغی رہنما علیحدگی کی مہم کوجاری رکھنے کی غرض سے پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے جنسی فلمیں بناتے ہیں۔ پولیس کےمطابق گرفتار شدہ نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پورہ یعنی این ایل ایف ٹی کےعلیحدگی پسندوں نےان باتوں کا انکشاف کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسند اغوا شدہ قبائلی خواتین اور بعض مردوں کواس کام کے لیےمجبور کرتے ہیں۔ بعدمیں ان فلموں کی مختلف زبانوں میں ڈبنگ ہوتی ہے اور انہیں اندرون ملک اور پڑوسی ممالک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ بعض قبائلی جنگجوؤں نے پولیس کو بتایا ہے کہ علیحدگی کی تحریک کے تحت جن خواتین اور مردوں کو آرمی میں بھرتی کیاجاتا ہے اس میں سے بہت سے لوگوں کا جنسی استحصال ہواتا ہےاور کئی ایک کا جنسی فلمیں بنانے کے لیے بھی استعمال کیا گيا ہے۔ تری پورہ کے پولیس چیف گھن شیام مرارای سری واستوا کا کہنا ہے کہ ’بہت سے فلمیں برمی، بنگالی، تھائی اور ہندی زبان میں ڈب ہوئی ملی ہیں۔ آس پڑوس کے مختلف ممالک میں ان فلموں کی خرید و فروخت ہوئي ہے‘۔
پولیس کے مطابق بنگلہ دیش میں بھی این ایل ایف ٹی کے دفتر پر جب چھاپے مارے گیے تو وہاں سے بھی اس طرح کی جنسی فلمیں ملی تھیں۔ تری پورہ میں ویڈیو کے بعض اسٹوڈیو سے تفتیش کے بعد بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ عریاں فلمیں بنتی ہیں۔ اگرتلہ میں اسٹوڈیو کےایک مالک نے بی بی سی کو بتا یاکہ ’انہیں وقتًا فوقتًا بغیرایڈٹ عریاں فوٹیج ملتا رہتا ہےجسے وہ حتمی شکل دیتے ہیں‘۔
اس شخص نےاپنے نام کو ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’انہیں ان فلموں کی تدوین کے لیے کافی پیسہ ملتا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان فلموں کے پیچھے باغیوں کا ہاتھ ہے۔ جب سٹوڈیو میں ان فلموں پر کام ہوتا ہے تو باغی رائفلوں سے حفاظت بھی کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس کے لیے اچھا پیسہ ملتا ہے اس لیے انہیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے‘۔ ایک فیچر فلم کی طرح ان جنسی فلموں میں بھی ہیرو اور ہیروئین ہوتے ہیں۔ ابتداء میں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی عام فلم ہو۔ لیکن آہستہ آہستہ جنسی مناظر نموداو ہوتے ہیں اور بالاخر وہ فحش کا پلندہ ثابت ہوتی ہے۔ اسکےمتعلق میناکشی سین اور جیتنا بھٹہّ چاریہ نے تحقیق کی ہے۔ انکی تحقیق کے مطابق ’این ایل ایف ٹی کے رہنما قبائلی لڑکیوں کواس لیے شادی نہیں کرنے دیتے تاکہ انکا جنسی استحصال کر تے رہیں۔ ایسے خاندان بھی مجبور ہوتے ہیں کیونکہ وہ دوردراز کے چائے کے کھیتوں میں رہتے ہیں‘۔ ایک سابق باغی جنگجوموہن رینگ کا کہنا تھا کہ علاقائی فلموں کی ایک اداکارہ انہی وجوہات کی وجہ سے گاؤں چھوڑ کر فرار ہوگئی تھی۔ باغی اسے بھی نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ لیکن تری پورہ میں بندوق کے نشانے پر جنسی استحصال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر کوئی نئی بات ہے تو وہ یہ کہ اب جنسی فلموں کا کاروبار بھی تیزی سے جاری ہے۔ تری پورہ کے برعکس شمال مشرقی ریاست منی پور کے باغی ایسا نہیں کرتے ہیں۔ منی پور کے شدت پسندوں نےسختی سےاس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہاں کی بعض لڑکیوں نے عریاں فلموں میں اداکاری کی تھی ۔ اسکا باغیوں نے سخت نوٹس لیا اور انہیں ہلاک کردیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||