ناگا باغیوں سے بات چیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی مشرق ریاست ناگالینڈ کے علیحدگی پسند تنظیم نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ ( این ایس سی این) نے ہندوستان کی حکومت سے بات چیت کی ہے۔ ناگا علیحدگی پسند گذشتہ چار دہائی سے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے برسرپیکار ہیں۔ نیشنل سوشل کونسل آف ناگا کے چیرمین آئیزک سو اور جنرل سکریٹری ٹی موئ وا نے نئی دلی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ایک گھنٹہ طویل بات چیت کی۔ مسٹر سنگھ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ناگا رہنماؤں کو یقین دلایا کہ وہ ایک ایسے متفقہ اور قابل قبول حل کے خواہاں ہے، جس کے تحت ناگا عوام اپنے علاقے میں با عزت اور با وقار زندگی گزار سکیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب ناگا علیحدگی پسند رہنما بھارت کی سرزمین پر ہندوستانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ رہنما علیحدگی پسند تحریک کے عروج کے دوران 1980 کے عشرے میں ملک سے فرار ہوگئے تھے اور انہوں نے تھائی لینڈ میں اپنا دفتر قائم کر لیا تھا۔ ناگا علیحدگی پسند ریاست کے تقریباً 30 لاکھ ناگا قبائلی باشندوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بیشتر قبائلی عیسائی ہیں۔ علیحدگی پسند تحریک کے دوران تقریباً بیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ انیس سو ستانوے میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔ مسٹر ٹی وئی وا اور مسٹر سو نے وزیر داخلہ شیو راج پاٹل سے بھی آج تفصیلی بات چییت کی ہے اور اطلاعات کے مطابق گریٹر ناگا لینّ کے متنازعہ سوال پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان کی حکومت اور ناگا رہنماوں کے درمیان یورپ اور بینکاک میں کئی بار بات چیت ہو چکی ہے۔ لیکن باغیوں کے اس مطالبے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ شمالی مشرق ریاستوں کے سبھی ناگا علاقوں کو ملا کر ایک وسیع ناگا لینڈ تشکیل دیا جائے۔ اس مطالبے کی دیگر ریاستیں بھی مخالفت کی رہی ہیں۔ تجریہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اس امر کا شدت سے احساس ہے کہ شمال مشرقی ریاستیں ایک طویل عرصہ سے مصائب میں مبتلا ہیں اور اب مسائل کے حل کی ضرورت ہے۔ لیکن گریٹر ناگا لینڈ جیسی تجویز شاید حکومت کو منظور نہ ہو اور صرف زیادہ خود مختاری کی پیشکش ناگا رہنما قبول نہ کریں۔ اس مرحلے پر صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بات چیت دونوں ہی فریقوں کے لیے انتہائی پیچیدہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||